سینیئر سکیورٹی عہدیدار نے "آپریشن غضبُ للحق” کے حوالے سے میڈیا کو انتہائی اہم تفصیلات فراہم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک افغان طالبان حکومت ‘فتنہ خوارج’ اور ‘فتنہ الہندوستان’ کی سہولت کاری ترک نہیں کرتی، یہ آپریشنز ختم نہیں ہوں گے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ آپریشن کا دورانیہ افغان طالبان کے زمینی اقدامات پر منحصر ہے اور اب انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ۔ سکیورٹی عہدیدار نے انکشاف کیا کہ افغان طالبان حکومت متعدد دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہے اور ان کے بھارتی سرپرست من گھڑت پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں، تاہم پاکستان کسی جلد بازی میں نہیں ہے اور دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنانا ہمارا دفاعی حق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 180 سے زائد چوکیاں تباہ اور 30 سے زائد اہم مقامات کا کنٹرول حاصل کیا جا چکا ہے جنہیں دہشت گرد لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ اس آپریشن میں اب تک افغان طالبان رجیم کے 435 کارندے ہلاک، 630 زخمی جبکہ 188 ٹینک اور اسلحہ بردار گاڑیاں تباہ کی گئی ہیں۔ ایران جنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مستحکم ایران کا خواہاں ہے اور یہ تاثر بے بنیاد ہے کہ پاکستان اگلا ہدف ہو سکتا ہے، کیونکہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ اندرونی سکیورٹی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ فوج کی مداخلت گورننس کے خلا اور نیشنل ایکشن پلان پر عدم عملدرآمد کی وجہ سے ہے، پاک فوج کا سیاست سے کوئی مفاد وابستہ نہیں، تمام سیاسی جماعتوں کو بہتر حکمرانی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔





