ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے حوالے سے بھارت میں ان کے نمائندے ڈاکٹر عبدالماجد حکیم الٰہی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انتہائی اہم تفصیلات جاری کی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالماجد کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی حکام نے حملے کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر بارہا رہبرِ اعلیٰ سے درخواست کی تھی کہ وہ تہران میں واقع اپنے دفتر سے کسی دوسرے محفوظ شہر یا زیرِ زمین بنکر میں منتقل ہو جائیں، تاہم آیت اللہ خامنہ ای نے یہ کہہ کر بنکر میں جانے سے صاف انکار کر دیا کہ "کیا آپ 9 کروڑ ایرانیوں کو بھی کسی دوسرے شہر یا زیرِ زمین بنکر میں منتقل کر سکتے ہیں؟ اگر آپ پوری ایرانی قوم کے لیے ایسا انتظام کر سکتے ہیں تو میں بھی چلا جاؤں گا”۔ ڈاکٹر حکیم الٰہی نے مزید انکشاف کیا کہ جس وقت امریکہ اور اسرائیل نے تہران میں واقع کمپاؤنڈ پر میزائلوں سے بزدلانہ حملہ کیا، اس وقت سپریم لیڈر اپنے گھر میں واقع دفتر ہی میں موجود تھے، اس ہولناک حملے میں سپریم لیڈر کی اہلیہ، بہو اور ان کے پوتے بھی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے اس اچانک فضائی حملے کے نتیجے میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ کی شہادت کے بعد پورے عالمِ اسلام میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔





