تحریر : محمد انور بھٹی
فیس بک کی بے جان مگر شوریدہ دنیا میں بندن میاں اپنی روزمرہ کی سیاحت پر نکلے تو حسب معمول مختلف دیواروں پر سجے لفظوں کو پڑھتے اور چہروں کے پیچھے چھپے احساسات کو پرکھتے آگے بڑھ رہے تھے کہ اچانک معروف شاعر غلام محمد وامق کی وال پر ان کی نظر ٹھہر گئی وہاں درج ایک شعر نے ان کے قدموں کو جیسے زمین سے باندھ دیا۔
دنیا میں نہیں کوئی بھی خود خودکشی کرتا
ان زہر بھرے رشتوں میں ناطوں میں حسد ہے
یہ دو مصرعے بندن میاں کے دل میں اس طرح اترے جیسے کسی نے خاموشی سے ان کے اندر چھپی کسی پرانی یاد کو چھیڑ دیا ہو وہ لمحہ بھر کو ساکت ہوگئے انہوں نے اپنی عینک کو درست کیا اور گہری سانس لے کر سوچ کی ایک طویل راہ پر چل پڑے انہیں محسوس ہوا کہ انسان کی فطرت میں جینے کی خواہش رکھی گئی ہے کوئی بھی شخص محض خواہش یا شوق میں اپنی زندگی کا چراغ گل نہیں کرتا اس کے پیچھے کوئی دکھ کوئی تحقیر کوئی مسلسل دباؤ یا کوئی ایسا رویہ ضرور ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ اس کی امید کو کھا جاتا ہے بندن میاں نے دل میں کہا کہ رشتے دراصل پناہ گاہ ہوتے ہیں انسان جب دنیا کی سختیوں سے تھک جاتا ہے تو انہی رشتوں کی چھاؤں میں سکون تلاش کرتا ہے مگر اگر یہی سایہ زہر آلود ہو جائے تو انسان کہاں جائے وہ بچپن کو یاد کرنے لگے جب بھائی کی کامیابی سب کی خوشی ہوتی تھی بہن کی ہنسی گھر کی رونق بن جاتی تھی اور والدین کی شفقت ہر خوف کو تحلیل کر دیتی تھی اس وقت محبت میں موازنہ نہیں تھا اور خلوص میں کوئی حساب کتاب شامل نہ تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ جیسے عمر بڑھی دنیا کے انداز بدلنے لگے وہی کھیل جو کبھی اپنائیت سے کھیلا جاتا تھا اب مقابلے میں ڈھل گیا وہی دوست جو کبھی ساتھ دوڑتے تھے اب ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی بے چینی میں مبتلا دکھائی دینے لگے بندن میاں نے سوچا کہ آج کے والدین بھی اکثر نادانستہ طور پر بچوں کو ایسی دوڑ میں شامل کر دیتے ہیں جہاں کامیابی خوشی سے زیادہ برتری کا نشان بن جاتی ہے بچہ جب دیکھتا ہے کہ اس کا موازنہ مسلسل کسی اور سے کیا جا رہا ہے تو اس کے دل میں انجانے خوف جنم لیتے ہیں وہ سمجھنے لگتا ہے کہ شاید اس کی اپنی کوئی قدر نہیں اگر وہ سب سے آگے نہیں تو وہ کچھ بھی نہیں یہی احساس آہستہ آہستہ اس کے اعتماد کو کمزور کرتا ہے اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ خود کو بوجھ سمجھنے لگتا ہے بندن میاں نے اپنے اردگرد کے کئی نوجوان چہرے یاد کیے جو بظاہر مسکراتے تھے مگر اندر سے شکستہ تھے انہیں یاد آیا کہ دفتر کی دنیا بھی اس تلخی سے خالی نہیں وہاں ساتھی کی ترقی خوشی کا باعث کم اور تشویش کا سبب زیادہ بنتی ہے کسی کی محنت کو سراہنے کے بجائے اس میں نقص تلاش کیے جاتے ہیں اور کسی کی کامیابی کو قسمت کا کھیل کہہ کر اس کی جدوجہد کو کم تر ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے یہ سب رویے بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں مگر دراصل یہ وہ زہریلے قطرے ہیں جو مسلسل ٹپکتے رہیں تو دل کی زمین بنجر ہو جاتی ہے بندن میاں نے غور کیا کہ سوشل میڈیا کی چمک دمک نے اس احساس کو مزید گہرا کر دیا ہے وہاں ہر شخص اپنی زندگی کا روشن ترین پہلو پیش کرتا ہے کامیابیوں کی تصاویر خوشیوں کے لمحات اور مسکراہٹوں کی قطاریں مگر پس منظر میں موجود پریشانیاں ناکامیاں اور آنسو کہیں دکھائی نہیں دیتے اس تضاد سے ایک غیر حقیقی معیار قائم ہو جاتا ہے جو اس معیار تک نہیں پہنچ پاتا وہ خود کو ناکام سمجھنے لگتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ہر زندگی میں آزمائشیں موجود ہیں بندن میاں نے دل میں کہا کہ شاعر نے جو بات کہی وہ محض جذباتی فقرہ نہیں بلکہ معاشرتی حقیقت کا عکاس ہے انسان تنہا موت کی طرف نہیں بڑھتا اسے تنہائی کی اس انتہا تک پہنچایا جاتا ہے جہاں اسے کوئی سہارا دکھائی نہیں دیتا انہوں نے اپنے محلے کے ایک نوجوان کو یاد کیا جو مسلسل طنز اور تحقیر کا نشانہ بنتا رہا اس کی چھوٹی چھوٹی ناکامیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا رہا اور اس کی کامیابیوں کو کبھی سراہا نہ گیا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اندر سے ٹوٹ گیا بندن میاں نے سوچا کہ اگر اس نوجوان کو بروقت ہمدردی اور حوصلہ افزائی مل جاتی تو شاید اس کی کہانی مختلف ہوتی انہوں نے شادی شدہ زندگی کے پہلو پر بھی غور کیا میاں بیوی کا رشتہ اعتماد اور سکون کا نام ہے مگر جب اس میں بدگمانی داخل ہو جائے اور محبت کی جگہ مقابلہ لے لے تو یہی رشتہ ذہنی اذیت کا سبب بن جاتا ہے اگر شریک حیات ایک دوسرے کی کامیابی پر فخر کرنے کے بجائے جلن محسوس کرنے لگیں تو گھر کی فضا بھاری ہو جاتی ہے بندن میاں نے محسوس کیا کہ حسد دراصل اندرونی عدم اطمینان کا نتیجہ ہے جو شخص خود سے مطمئن نہیں ہوتا وہ دوسروں کی خوشی برداشت نہیں کر پاتا وہ چاہتا ہے کہ دوسرا محروم ہو جائے تاکہ اسے وقتی سکون ملے مگر حقیقت میں اس آگ میں سب سے پہلے وہ خود جلتا ہے بندن میاں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں ذہنی صحت کو اب بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا اگر کوئی اداس ہو تو اسے کمزور ایمان کا طعنہ دے دیا جاتا ہے اگر کوئی پریشان ہو تو اسے صبر کا مشورہ دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے حالانکہ بعض اوقات ایک توجہ بھری گفتگو اور ایک سچا ساتھ انسان کو اندھیرے سے نکال سکتا ہے انہوں نے سوچا کہ رشتے محض نام یا ذمہ داری نہیں بلکہ اعتماد کے پل ہیں اگر یہ پل مضبوط ہوں تو انسان مشکلات کے دریا پار کر لیتا ہے مگر اگر یہی پل کمزور ہو جائیں تو وہ بیچ دھارے میں ڈوبنے لگتا ہے بندن میاں کو اپنا بچپن یاد آیا جب کوئی گر جاتا تھا تو دوست ہاتھ پکڑ کر اٹھا لیتے تھے آج اگر کوئی ٹھوکر کھا جائے تو اکثر لوگ تماشا دیکھتے ہیں یا ویڈیو بنا لیتے ہیں یہی رویہ سب سے بڑا المیہ ہے انہوں نے دل میں کہا کہ اگر ہم اپنی گفتگو سے طنز کم کر دیں اور موازنہ کی عادت چھوڑ دیں تو رشتوں میں موجود کڑواہٹ کم ہو سکتی ہے ہر انسان کا سفر جدا ہے ہر ایک کی آزمائش الگ ہے جب ہم دوسروں کی راہوں کو اپنے پیمانے سے ناپتے ہیں تو ناانصافی کرتے ہیں بندن میاں نے یہ نتیجہ نکالا کہ خودکشی دراصل زندگی سے بیزاری نہیں بلکہ اذیت سے فرار کی کوشش ہوتی ہے جب اذیت کا منبع وہی لوگ بن جائیں جن سے امید وابستہ ہو تو معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے انسان اس جگہ سے بھاگنا چاہتا ہے جہاں اسے سکون ملنا چاہیے تھا انہوں نے سوچا کہ اصلاح کا آغاز گھر سے ہونا چاہیے والدین بچوں میں محبت اور تعاون کا جذبہ پیدا کریں بہن بھائی ایک دوسرے کا سہارا بنیں دوست حوصلہ افزائی کریں اور شریک حیات اعتماد کو بنیاد بنائیں اگر ہر فرد اپنے حصے کی روشنی جلائے تو اندھیرا کم ہو سکتا ہے بندن میاں نے اس شعر کو دوبارہ ذہن میں دہرایا اور محسوس کیا کہ یہ محض الفاظ نہیں بلکہ ایک اجتماعی انتباہ ہے ہمیں اپنے رویوں کا محاسبہ کرنا ہوگا ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کہیں ہمارے جملے کسی کے دل پر بوجھ تو نہیں ڈال رہے کہیں ہماری بے اعتنائی کسی کی امید تو نہیں چھین رہی زندگی قیمتی ہے اور اس کی حفاظت صرف قوانین نہیں کر سکتے اس کی اصل حفاظت محبت کرتی ہے جب رشتوں میں اخلاص ہو تو انسان مشکلات کے باوجود جینا چاہتا ہے مگر جب رشتوں میں زہر گھل جائے تو روشنی مدھم پڑنے لگتی ہے بندن میاں نے دل ہی دل میں دعا کی کہ اللہ ہمیں ایسے دل عطا کرے جو دوسروں کی خوشی پر خوش ہوں ایسے لب دے جو حوصلہ دیں اور ایسے رویے دے جو کسی کو مایوسی کی طرف نہ دھکیلیں انہوں نے سوچا کہ اگر ہم نے حسد کو دل سے نکال دیا اور خیرخواہی کو اپنا شعار بنا لیا تو نہ صرف رشتے محفوظ ہوں گے بلکہ زندگیاں بھی محفوظ رہیں گی اور شاید اس معاشرے میں وہ دن بھی آئے جب کسی شاعر کو یہ لکھنے کی ضرورت نہ پڑے کہ دنیا میں کوئی بھی خود خودکشی نہیں کرتا بلکہ ہم سب یہ کہہ سکیں کہ ہمارے رشتے زندگی کا سہارا ہیں بوجھ نہیں بندن میاں نے محسوس کیا کہ ہر لفظ ہر نظر اور ہر رویہ ایک اثر رکھتا ہے ہم یا تو کسی کے دل میں امید جگا سکتے ہیں یا انجانے میں اس کی روشنی کم کر سکتے ہیں انہوں نے عہد کیا کہ وہ اپنے حصے کی روشنی کو مدھم نہیں ہونے دیں گے اور جہاں تک ممکن ہوگا محبت اور حوصلہ افزائی کا چراغ جلائیں گے تاکہ کوئی انسان محض حسد اور زہریلے رویوں کی وجہ سے زندگی سے دستبردار ہونے پر مجبور نہ ہو اور یہی اس شعر کا اصل پیغام ہے کہ رشتے اگر محبت سے بھرے ہوں تو زندگی مضبوط رہتی ہے اور اگر ان میں زہر گھل جائے تو سب سے روشن دل بھی اندھیرے میں ڈوب سکتا ہے لہٰذا ہمیں اپنے اندر جھانک کر اپنے رویوں کو درست کرنا ہوگا کیونکہ معاشرتی تبدیلی کا آغاز ہر فرد کی ذات سے ہوتا ہے اور جب فرد بدلتا ہے تو خاندان بدلتا ہے جب خاندان بدلتا ہے تو معاشرہ سنورتا ہے اور جب معاشرہ سنورتا ہے تو زندگی کی روشنی پھر سے پوری آب و تاب کے ساتھ چمکنے لگتی ہے۔





