کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی
پاکستان ایک ایسے نازک موڑ سے گزر رہا ہے جہاں خوشیاں اور غم اکثر ایک دوسرے کے تعاقب میں نظر آتے ہیں لیکن ایک مدبر حکمران وہی ہوتا ہے جو عوامی امنگوں اور ملکی حالات کے درمیان توازن برقرار رکھنا جانتا ہو۔ حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والے دہشت گردی کے بزدلانہ واقعے نے نہ صرف وفاقی دارالحکومت بلکہ پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور معصوم جانوں کا ضیاع اس بات کی گواہ ہے کہ ملک دشمن عناصر اب بھی پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں۔ ایسے سنگین اور سوگوار ماحول میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے بسنت کی تمام تر تقریبات کو منسوخ کرنے کا فیصلہ ایک ایسی سیاسی بصیرت اور انسانی ہمدردی کا عکاس ہے جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ بسنت جو پنجاب کی ایک قدیم اور جاندار ثقافتی روایت رہی ہے، ایک طویل عرصے سے پابندیوں کا شکار تھی اور حکومتِ پنجاب بھی اس میلے کو بحال کر کے شہریوں کو خوشی کا موقع فراہم کرنا چاہتی تھی لیکن مریم نواز نے یہ ثابت کر دیا کہ ایک سچے حکمران کا دل اپنے عوام کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ جب وفاقی دارالحکومت میں صفِ ماتم بچھی ہو اور مائیں اپنے پیاروں کے جنازوں پر بین کر رہی ہوں تو ایسے میں پنجاب کے کسی بھی شہر کی چھتوں پر بوکاٹا کے نعرے لگانا اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کرنا اخلاقی طور پر ناممکن تھا چنانچہ یہ فیصلہ درحقیقت شہداء کے لواحقین کے زخموں پر مرہم رکھنے کے مترادف ہے۔ اس فیصلے کے پیچھے جہاں انسانی ہمدردی کا پہلو نمایاں ہے، وہاں انتظامی اور سیکیورٹی وجوہات بھی انتہائی ٹھوس ہیں کیونکہ دہشت گردی کے واقعے کے بعد پورے ملک میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور موجودہ حالات میں تمام تر سیکیورٹی وسائل کا رخ دہشت گردی کے قلع قمع اور عوام کے تحفظ کی جانب ہونا چاہیے نہ کہ پتنگ بازی جیسے انتظامی طور پر مشکل ترین ایونٹ پر۔ یہ اقدام وفاقی اکائیوں کے درمیان یکجہتی کی ایک بہترین مثال بھی ہے جو واضح پیغام دیتا ہے کہ اگر اسلام آباد کو تکلیف پہنچتی ہے تو پنجاب اس درد سے بے نیاز نہیں رہ سکتا اور مریم نواز نے اپنی حکومت کے ایک بڑے عوامی پروگرام کو محض اس لیے پسِ پشت ڈال دیا تاکہ قوم کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ ہم دکھ کی اس گھڑی میں ایک ہیں۔ قیادت کا اصل امتحان کٹھن حالات میں درست ترجیحات کا تعین کرنا ہوتا ہے؛ بسنت کے رنگ پھر کبھی بکھیرے جا سکتے ہیں لیکن جو جانیں چلی گئیں وہ کبھی واپس نہیں آتیں لہذا مریم نواز شریف کا یہ جرات مندانہ فیصلہ تاریخ میں ایک ایسی مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا جہاں ایک لیڈر نے روایتی سیاست پر انسانیت اور قومی وقار کو فوقیت دی۔ اللّہ کریم ملک پاکستان کی خیر فرمائے۔ آمین





