اکتوبر 29, 2026

بیٹھے رہو گے تے کج نئیں لبھنا

تحریر: محمد انور بھٹی

آج بندن میاں اپنی بیٹھک میں آلتی پالتی مارے بیٹھے تھے سامنے مٹی کا حقہ دھرا تھا جس پر وقت کی طرح میل جمی ہوئی تھی بندن میاں نے جونہی لمبا کش لیا حقے نے ایسی گھڑگھڑ کی آواز نکالی جیسے پرانا انجن ہانپ رہا ہو اسی گھڑگھڑ میں بندن میاں کے دماغ کے کسی بند دروازے پر ایک جملہ زور سے ٹکرایا بیٹھے رہو گے تے کج نئیں لبھنا بندن میاں نے آنکھیں بند کیں جملہ دوبارہ گونجا پھر تیسری بار گونجا اور ہر بار اس کی گونج کے ساتھ پاکستان ریلویز کے پلیٹ فارم اس کی ورکشاپس اس کی کالونیاں اس کے دفاتر اس کے ریٹائرڈ ملازمین کی جھکی ہوئی پیٹھیں اور بیواؤں کے آنسو بندن میاں کے سامنے قطار در قطار کھڑے ہوتے چلے گئے بندن میاں بڑبڑائے ہاں واقعی بیٹھے رہو گے تے کج نئیں لبھنا یہ جملہ تو ایسے ہے جیسے کسی نے پاکستان ریلویز کے محنت کش کے ماتھے پر مہر لگا دی ہو بندن میاں نے بیٹھک میں ذرا پہلو بدلا اور ماضی کی پٹری پر خیال کی ریل دوڑا دی ایک وقت تھا جب سی اینڈ ڈبلیو کی شاپس میں داخل ہوں تو لوہے کی بو پسینے کی مہک اور مشینوں کا شور مل کر ایسا سماں باندھتے تھے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی ہر مشین بولتی تھی ہر مزدور کا ہاتھ چلتا تھا ہر چہرے پر تھکن کے باوجود ایک وقار تھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ وہ اس نظام کا حصہ ہے جو چل رہا ہے وہ جانتا تھا کہ اس کی محنت سے انجن سانس لیتا ہے بوگی پہیے گھماتی ہے اور ہزاروں مسافر اپنے گھروں تک پہنچتے ہیں اس مزدور کے بچوں کے چہروں پر بھوک تو ہوتی تھی مگر شرمندگی نہیں ہوتی تھی آج بندن میاں کہتا ہے آج وہاں ہو کا عالم ہے خاموشی ایسی کہ جیسے قبرستان ہو مشینیں زنگ آلود کھڑی ہیں پرزے بکھرے ہیں چھتوں سے پانی ٹپکتا ہے دیواروں پر سیاسی نعرے ہیں مگر کام کہیں نہیں محنت کش ہاتھ باندھے کھڑے ہیں کیونکہ ان کے ہاتھ سے اوزار چھین لیے گئے ہیں اور ان کے منہ سے آواز آؤٹ سورسنگ کے نام پر کھینچ لی گئی ہے ٹرینیں بھی بیچی جا رہی ہیں محنت بھی بیچی جا رہی ہے اور غیرت بھی نیلام ہو چکی ہے بندن میاں کہتا ہے پہلے مزدور کے ہاتھ میں رنچ ہوتا تھا اب اس کے ہاتھ میں حاضری کا کاغذ ہے پہلے اس کے بازو میں طاقت تھی اب اس کی آنکھ میں سوال ہے افسران اپنے ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے فائلوں پر فائلیں رکھے مراعات کے مزے لوٹ رہے ہیں کسی کے پاس دو گاڑیاں ہیں کسی کے پاس تین کسی کے بچے بیرون ملک پڑھ رہے ہیں کسی کی بیوی کے نام پر پلاٹ ہیں اور کسی کے نام پر خاموشی کا طوق بندھا ہے بندن میاں کہتا ہے یہ وہ افسران ہیں جن کے کمرے میں ریلویز کی تاریخ فریم میں لگی ہے مگر دل میں مزدور کے لیے کوئی جگہ نہیں یہ فائلوں میں کارکردگی لکھتے ہیں مگر آنکھوں سے محنت کش کی بوسیدہ چپل نہیں دیکھتے مزدور کو کہا جاتا ہے صبر کرو حالات بہتر ہوں گے اور افسر کہتا ہے پرفارمنس بہتر ہو رہی ہے آمدن بڑھ رہی ہے مگر بندن میاں پوچھتا ہے اگر آمدن بڑھ رہی ہے تو مزدور کی جیب خالی کیوں ہے اگر پرفارمنس بہتر ہے تو پنشنر کی دوائی کیوں ادھار پر ہے اگر نظام ٹھیک ہے تو بیوہ در در کی ٹھوکریں کیوں کھا رہی ہے اگر سب کچھ بہتر ہے تو کالونیوں میں اندھیرا کیوں ہے نالیوں میں پانی کیوں ہے اور بچوں کے ہاتھ میں کتاب کی جگہ خالی بستہ کیوں ہے بندن میاں نے بیٹھک میں حقے کی نالی سیدھی کی اور کہا یہ وہی ریلویز ہے جس کے محنت کش نے جنگوں میں بھی ٹرینیں چلائیں سیلابوں میں بھی پٹریاں بحال کیں بھوک میں بھی ڈیوٹی دی مگر آج اسی محنت کش کو بتایا جا رہا ہے کہ وہ اضافی ہے غیر ضروری ہے بوجھ ہے اور اس بوجھ کو ہٹانے کے لیے افسران میٹنگ پر میٹنگ کر رہے ہیں مگر ایک میٹنگ مزدور کے دل کی سننے کے لیے نہیں لیبر یونین لیڈران جنہیں مزدور نے کندھوں پر بٹھایا تھا انہوں نے اپنی اپنی ڈھائی اینٹ کی مسجدیں نہیں بلکہ ڈھائی اینٹ کی بلڈنگیں بنا لیں یونین کا نام استعمال ہوا مفاد ذاتی نکلا کوئی ٹھیکے میں شریک ہے کوئی پوسٹنگ میں شریک ہے کوئی افسر کے دسترخوان پر بیٹھا ہے اور کوئی سوشل میڈیا پر مزدور کے نام کی تصویر لگا کر اپنی سیاست چمکا رہا ہے بندن میاں کہتا ہے آج کی لیڈری اخباری بیان اور سوشل میڈیا پوسٹ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے پریس ریلیز میں الفاظ تیز ہیں مگر میدان میں قدم نہیں فیس بک پر انقلابی جملے ہیں مگر دفتر کے دروازے پر خاموشی ہے مزدور پوچھتا ہے ہماری آواز کہاں ہے تو جواب آتا ہے حالات خراب ہیں بندن میاں کہتا ہے حالات خراب نہیں نیت خراب ہے کیونکہ جہاں نیت خراب ہو وہاں حقہ بھی گھڑگھڑ نہیں کرتا صرف دھواں دیتا ہے یونین لیڈر مزدور کو ہجوم میں نعرہ لگواتا ہے مگر اکیلا ہونے پر فون نہیں اٹھاتا مزدور کی لاش پر بیان آ جاتا ہے مگر اس کی زندگی پر کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا دفاتر کا حال یہ ہے کہ ہر کمرے میں افسر بیٹھا ہے مگر میدان میں مزدور نہیں ہر ڈپارٹمنٹ میں کمی ہے مگر فائلوں میں بہتات ہے نئی بھرتی نہیں پروموشن نہیں ترقی نہیں مگر وعدوں کی کوئی کمی نہیں ریٹائرڈ ملازم اپنی فائل اٹھائے ایک دفتر سے دوسرے دفتر جاتا ہے کبھی کہا جاتا ہے کل آنا کبھی کہا جاتا ہے بجٹ نہیں کبھی کہا جاتا ہے سسٹم ڈاؤن ہے بندن میاں کہتا ہے سسٹم نہیں تمہاری غیرت ڈاؤن ہے گریجویٹی لولی پاپ بن چکی ہے بقایا جات فائلوں میں دفن ہیں اور قبر پر افسر بیٹھا پہرا دے رہا ہے پنشنر ہر مہینے کیلنڈر دیکھتا ہے اور دعا مانگتا ہے کہ شاید اس مہینے کچھ مل جائے مگر جواب خاموشی ہے بیوائیں اپنے بچوں کے ہاتھ پکڑے آتی ہیں ان کے پاس فائل نہیں صرف آنسو ہوتے ہیں مگر یہاں آنسوؤں کی کوئی فائل نہیں بنتی ان کے بچوں کے اسکول سے نام کٹ جاتے ہیں دوائی ادھار ہو جاتی ہے اور عزت سوال بن جاتی ہے بندن میاں کہتا ہے یہ وہ لمحہ ہے جہاں بیٹھے رہو گے تے کج نئیں لبھنا صرف جملہ نہیں اعلان جنگ ہونا چاہیے مگر افسوس محنت کش کو لڑنا نہیں سکھایا گیا اسے صرف انتظار سکھایا گیا یونین لیڈر نے اسے جلسے میں نعرہ لگانا سکھایا مگر حساب لینا نہیں سکھایا افسر نے اسے فائل اٹھانا سکھایا مگر حق مانگنا نہیں سکھایا بندن میاں کی بیٹھک میں آج سماع بندھا ہوا تھا لفظ آگ بن کر گرتے تھے اور راکھ سوال بن کر اڑتی تھی بندن میاں کہتا ہے ریلویز کی تباہی کسی ایک دن کا نتیجہ نہیں یہ برسوں کی خاموشی کا پھل ہے جب مزدور نے سوچا کوئی اور بولے گا جب یونین نے سوچا کل بولیں گے جب افسر نے سوچا فائل بعد میں دیکھیں گے اور یوں ہر بعد میں نے آج کو کھا لیا آج ٹرین لیٹ ہے آج مزدور پریشان ہے آج پنشنر رو رہا ہے آج بیوہ در پر ہے بندن میاں کہتا ہے اگر آج بھی محنت کش بیٹھا رہا اگر آج بھی یونین صرف تصویر لگواتی رہی اگر آج بھی افسر مراعات کے کاغذ سائن کرتا رہا تو کل صرف کھنڈر بچے گا نہ پٹری ہوگی نہ پلیٹ فارم نہ شناخت کیونکہ قومیں بھی ایسے ہی ختم ہوتی ہیں پہلے انجن خاموش ہوتا ہے پھر ضمیر بندن میاں کی آواز سخت تھی مگر سچی تھی وہ کہتا ہے اٹھو سوال کرو حساب مانگو اپنے لیڈر سے بھی اور افسر سے بھی کیونکہ جو تمہارے نام پر بولے اور تمہارے لیے نہ بولے وہ تمہارا دشمن ہے بیٹھے رہو گے تے کج نئیں لبھنا اس لیے یہ بیٹھک آج نصیحت نہیں للکار ہے کیونکہ بندن میاں جانتا ہے کہ اگر آج بھی ہم نے حقے کی گھڑگھڑ کو انجن کی آواز نہ سمجھا تو کل تاریخ ہمیں بھی زنگ آلود مشین کہہ کر ایک کونے میں کھڑا کر دے گی اور پھر نہ کوئی شور ہوگا نہ کوئی آنسو صرف خاموشی ہوگی ایسی خاموشی جیسے قبرستان