اکتوبر 28, 2026

دخترِ مشرق بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی : پیپلز پارٹی کارکنان بڑی تعداد میں گڑھی خدا بخش پہنچنا شروع

دخترِ مشرق بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی کے موقع پر پیپلز پارٹی کے کارکنان بڑی تعداد میں گڑھی خدا بخش پہنچ رہے ہیں۔ جگہ جگہ استقبالیہ کیمپ لگائے گئے ہیں تاکہ عوام اور پارٹی کارکنان محترمہ کی یاد میں خراج عقیدت پیش کر سکیں۔

بینظیر بھٹو، جنہیں سیاسی مبصرین پاکستان کی سخت ترین چیلنجز کا سامنا کرنے والی رہنما قرار دیتے ہیں، مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بھی رہ چکی ہیں۔ وہ دو مرتبہ پاکستان کی وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ بینظیر بھٹو نے جمہوری جدوجہد میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے، والد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی، دو بھائی قتل ہوئے، بدترین آمریتیں آئیں، اور جلاوطنی کا سامنا کیا، لیکن وہ ہمیشہ عوام اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کرتی رہیں۔

بی بی 21 جون 1953 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم کونوینٹ آف جیز اور میری کراچی گرامر اسکول سے حاصل کی، جبکہ ہارورڈ اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور بین الاقوامی قوانین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دونوں بیٹوں کے بجائے بینظیر بھٹو کو اپنا سیاسی جانشین مقرر کیا، اور وقت نے اس فیصلے کو درست ثابت کیا۔

ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دوران بینظیر بھٹو بیرون ملک رہ کر جمہوریت کے لیے کام کرتی رہیں۔ اپریل 1986 میں پاکستان واپس آئیں تو عوام نے بے مثال استقبال کیا۔ 1988 میں پہلی بار وزیراعظم منتخب ہوئیں، پھر 1993 میں دوسری بار وزارتِ عظمیٰ سنبھالی، تاہم دونوں ادوار میں مختلف سیاسی مشکلات اور حکومتی مداخلتیں آئیں۔

2007 میں وطن واپسی پر جان کا خطرہ ہونے کے باوجود عوامی جلسوں میں شریک رہیں۔ 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لياقت باغ میں جلسے سے واپسی پر جان لیوا حملے میں وہ المناک انداز میں دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ بینظیر بھٹو کو لاڑکانہ کے گڑھی خدا بخش میں والد اور بھائیوں کے پہلو میں سپردخاک کیا گیا۔