منڈی بہاءالدین (ڈاکٹر شاہد راٹھور سے) صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے منڈی بہاؤالدین میں 54 ایکڑ رقبے پر قائم ہونے والی پہلی سمال انڈسٹریل اسٹیٹ کا افتتاح کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 252 صنعتی پلاٹس مختص کیے گئے ہیں جبکہ صنعتی یونٹس کے قیام کے لیے پلاٹس کے حصول کی خاطر آن لائن درخواستوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔
افتتاحی تقریب میں اراکین اسمبلی، ڈپٹی کمشنر منڈی بہاؤالدین عدیل حیدر، ایوانِ صنعت و تجارت کے عہدیداران، صنعت کاروں اور متعلقہ سرکاری حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر کو روایتی پگ بھی پہنائی گئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے کہا کہ منڈی بہاؤالدین میں سمال انڈسٹریل اسٹیٹ کا قیام حکومت پنجاب کا ایک اہم اقدام ہے، جس سے علاقے میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور مقامی افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا معاملہ گزشتہ دس سال سے زیر التواء تھا، جسے اب پایہ تکمیل تک پہنچا دیا گیا ہے۔ صنعتی پلاٹس کے حصول کے لیے تمام عمل آن لائن ہوگا جبکہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے 20 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔
چوہدری شافع حسین نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور انہیں منڈی بہاؤالدین کی سمال انڈسٹریل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرکے صنعتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کی کاوشوں سے اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کے خاتمے کے لیے قانون سازی کی گئی ہے اور متعلقہ مقدمات کے فیصلوں کے لیے خصوصی عدالتوں کو 90 روز کی مدت کا پابند بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کی صنعتی اسٹیٹس میں صنعتی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے بڑا پروگرام شروع کیا گیا ہے اور پہلی بار صنعتی پلاٹس کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔ پنجاب میں الیکٹرک وہیکلز کے متعدد کارخانے قائم ہو چکے ہیں جبکہ لیتھیئم بیٹریوں کے کارخانے بھی لگائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صنعتی اسٹیٹس کی آباد کاری کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور صنعتی مراکز میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔
ڈپٹی کمشنر عدیل حیدر کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے تحت منڈی بہاؤالدین میں سمال انڈسٹریل اسٹیٹ کا قیام علاقے کی معاشی و صنعتی ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری مواقع میں اضافے اور مقامی سطح پر روزگار کی فراہمی میں مدد ملے گی۔






