کالمکار : جاوید صدیقی
دنیا کی تاریخ کی طرح پاکستان کی تاریخ لکھی جاتی رہی ھے فرق صرف یہ ھے کہ پاکستان میں بروقت حالات عوام سے پوشیدہ رکھے جاتے ہیں تاکہ اقتدار پر برجمان رہیں نہایت دکھ کیساتھ لکھنا پڑ رھا ھے کہ یہاں سچائی ایمانداری اور خلوص کا فقدان رھا بس ایک ہی عمل غالب رھا ذاتی خواہشات کی تکمیل، مفادات کے حصول اور بیلک میلنگ۔ آج بھی اسے سیاہ بدترین ٹریک پر پاکستان چل رھا ھے لکھنے کو بہت کچھ ھے مگر یہاں انتہائی اختصار کیساتھ کالم تحریر کررھا ھوں، عوام جان لے کہ سیاستدان ہوں یا بیوروکریٹ سول و فوجی سب کے سب ، سب سے پہلے اپنا مفادات کو عزیز رکھتے ہیں یہی سبب ھے کہ آپس کی ڈیلنگ کے بعد حتمی نتائج پر پہنچ کر کسی نتیجے پر آتے ہیں جو اس وقت اور حالات کے مطابق دونوں فریقین کیلئے مناسب ہوتا ھے۔ اردو بولنے والے مہاجروں کے سیاسی لیڈران نے آج تک اپنی قوم کو بیوقوف گمراہ اور خواب ہی دیکھائے اسکے برعکس ہر قوم کے سیاسی لیڈر نے ذاتی مفادات کے باوجود اپنی قوم کے حقوق و تحفظات کو کبھی بھی پس پشت نہ کیا یہی سبب ھے کہ پاکستان بھر کے مہاجر اردو بولنے والے آج تک اپنے جائز حقوق سے محروم ہیں اور ہوتے رہیں گے تاوقت کہ وہ ان بہروپیئے مہاجر ازم کا الاپ لگانے والوں سے لا تعلقی کرکے سندھ کی سیاسی جماعتوں کا حصہ نہ بن جائیں کیونکہ انہی اردو بولنے والے مہاجروں کے لیڈروں نے ہی ہمیشہ اپنی ہی قوم کا سودا کیا اب وقت ھے کہ انہیں پہچانیں اور ان سے تعلق توڑ دیں۔
ذرا تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ بھٹو کے اصل آئین میں یہ نہیں تھا کہ صوبے دو تہائی اکثریت سے صوبے بنائیں گے۔ سنہ انیس سو اناسی عیسوی میں بھٹو کی پھانسی دینے کی حمایت کیلئے ضیاء الحق جی ایم سید کے پاس گئے جنہوں نے حمایت کیلئے چار شرائط رکھیں۔ نمبر ایک: سندھی طلبہ جو سی ایس ایس کے تحریری امتحان میں فیل (انٹرویو کا مرحلہ آیا ہی نہیں) ہوگئے ہیں انہیں پاس کیا جائے جس کی وجہ سے اس وقت کے جئے سندھ اسٹوڈنٹس کے صدر اشفاق میمن بھی پاس ہو گئے۔ نمبر دو : سندھیوں کو کوٹے سے زیادہ ملازمتیں دی جائیں۔ جس کی وجہ سے انہیں ہائی کورٹ سمیت ہر جگہ پر کوٹے سے کہیں زیادہ ملازمتیں ملیں۔نمبر تین: جاگیرداری سسٹم کے خلاف جو درخواستیں کورٹ میں تھیں انہیں ختم کیا جائے جسے ضیاء الحق نے شریعت کورٹ کے ذریعے خلاف شریعہ قرار دلوایا۔ نمبر چار: نئے صوبے بنانے کے لئے اسی صوبے کی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے فیصلہ ہو۔جسے ضیاء نے منظور کر لیا اور اسے سنہ انیس سو پچاسی عیسوی میں جونیجو کی اسمبلی سے پاس کروا کر آئیں کا حصہ بنا دیا۔
اس کے بعد اطمینان سے بھٹو کو پھانسی دے دی۔پھانسی کی خوشی میں نثار کھوڑو جو اس وقت تحریک استقلال کے ممبر تھے اور حاکم علی زرداری جو شیرباز مزاری کی پارٹی صوبائی صدر تھے دونوں نے بھٹو کی پھانسی پر مٹھائی بانٹی تھی۔ اصل آئین جس کی کاپی عبدالستار پیرزادہ ، عبدالحفیظ پیرزادہ کے بیٹے کے پاس ہے۔ اسی طرح اس کی اصل کاپی پروفیسر غفور کے پاس بھی تھی۔ یاد رکھئے بھٹو کے دور میں بھی اردو بولنے والے مہاجر لیڈروں نے اس قوم کو گمراہ کیا اور بھٹو سے جدہ کرنے کیلئے جھوٹ نفاق اور الزامات کا سہارا لیا اگر مہاجر جو اب بھی بھٹو کی جماعت میں شامل ہیں مگر انکی تعداد قلیل ھے شامل ھوجاتے تو یہی جماعت شہریوں کی انتظامی امور انکے حوالے کرتی آج بھی کراچی کا میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب ھے جو کراچی کا رہنے والا اردو بولنے والا مہاجر ھے فرق یہ ھے کہ اس نے پاکستان اور سندھ کی بہترین سیاسی جماعت میں ہی شمولیت اختیار کی۔ سندھ بھر میں اردو بولنے والے مہاجر کی نسلیں یہی پیدا ہوتی ہیں یہی پڑھ لکھ کر جاب کرتی ہیں یہیں شادی بیاہ اور پھر اگلی نسل چل رہی ہوتی ھے تو کیوں خود کو غیر سمجھتے ہو تم ان بہکاوے سے باہر آکر اس دھرتی سندھ کا حصہ بنو اور اختلافات سے نکل کر محبت پیار ایثار قربانی یکجہتی یگانگی کیساتھ جڑ جاؤں پھر دیکھنا تم سب کے مسائل کیسے حل نہیں ہوتے یہ اوپر کے لوگ تم میں اتحاد ہونے نہیں دیں گے یہ تم قوموں کو خود سوچنا سمجھنا ھوگا اس دھرتی کی ترقی و خوشحالی کیلئے۔۔۔۔!!





