جولائی 18, 2026

ذوالنورین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ، حیا، سخاوت اور وفاداری کا روشن مینار (حصہ اول )

تحریر: سعد محمد مدنی (فاضل مدینہ یونیورسٹی)

تاریخِ اسلام میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کے فضائل بیان کرتے ہوئے قلم احترام سے جھک جاتا ہے اور زبان عقیدت سے خاموش ہو جاتی ہے۔ ان نفوسِ قدسیہ میں امیر المؤمنین، خلیفۂ ثالث، ذوالنورین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا مقام نہایت بلند اور ممتاز ہے۔ آپ ان خوش نصیب صحابۂ کرام میں شامل ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت دی، اپنی دو صاحبزادیوں کے ساتھ نکاح کا شرف عطا فرمایا، ان کی شہادت کی پیش گوئی فرمائی، ان کی حیا کو فرشتوں کی حیا سے جوڑا، اور امت کو یہ بتا دیا کہ آنے والے فتنوں میں عثمان حق پر ہوں گے۔

آج جبکہ تاریخ کے بعض مسلمہ حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی حیاتِ مبارکہ کو قرآن و سنت کی روشنی میں دیکھا جائے، تاکہ نئی نسل اس عظیم صحابی کے حقیقی مقام سے آگاہ ہو سکے۔

قرآنِ مجید اطاعتِ الٰہی اور اطاعتِ رسول ﷺ کا صلہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

“جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین، اور یہ لوگ کتنے بہترین رفیق ہیں۔”
(سورۃ النساء، آیت: 69)

ائمۂ تفسیر، مثلاً امام طبری، امام قرطبی، امام بغوی اور حافظ ابن کثیر رحمہم اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے انعام یافتہ بندوں کے مراتب بیان فرمائے ہیں: سب سے پہلے انبیاء، پھر صدیقین، اس کے بعد شہداء، اور پھر صالحین۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبانِ مبارک سے شہادت کی بشارت دی، اور آپ نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے اس عظیم منصب کو حاصل کیا۔

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ قریش کے معزز، صاحبِ ثروت اور نہایت پاکیزہ اخلاق کے مالک تھے۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے بھی آپ پاکدامنی، سچائی، نرم خوئی اور حسنِ کردار کے لیے معروف تھے۔ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کو اسلام کی دعوت دی تو آپ نے بغیر کسی تردد کے اسلام قبول کر لیا۔ اس طرح آپ سابقون الاولون میں شامل ہوئے اور پوری زندگی رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک میں اپنا ہاتھ دے کر وفاداری کا حق ادا کرتے رہے۔

آپ کا سب سے منفرد اعزاز یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دو صاحبزادیوں کا نکاح آپ سے فرمایا۔ پہلے سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا آپ کے نکاح میں آئیں، اور ان کی وفات کے بعد سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے آپ کا نکاح ہوا۔ اسی نسبت سے امت نے آپ کو “ذوالنورین” یعنی “دو نوروں والا” کا لقب دیا، اور اسلامی تاریخ میں یہ اعزاز صرف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا۔

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے جنتی ہونے کی بشارت صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ کے ایک باغ میں تشریف فرما تھے اور میں دروازے پر پہرہ دے رہا تھا۔ پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “انہیں اجازت دو اور جنت کی بشارت دو۔” پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے تو ان کے بارے میں بھی یہی فرمایا۔ اس کے بعد حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“انہیں اجازت دو، جنت کی بشارت دو، لیکن ایک ایسی آزمائش بھی ہوگی جس سے وہ دوچار ہوں گے۔”

جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ بشارت سنائی گئی تو انہوں نے فرمایا: “الحمد للہ، واللہ المستعان۔”

(صحیح بخاری، حدیث: 3695؛ صحیح مسلم، حدیث: 2403)

یہ آزمائش وہی تھی جو بعد میں ان کی مظلومانہ شہادت کی صورت میں پوری ہوئی۔ انہوں نے اقتدار بچانے کے لیے مسلمانوں کا خون بہانا گوارا نہ کیا، بلکہ صبر و استقامت کا راستہ اختیار کیا اور اپنی جان اللہ کے سپرد کر دی۔

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی حیا ایک ضرب المثل تھی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ گھر میں آرام فرما رہے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ نے انہیں اجازت دی، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو انہیں بھی اجازت دے دی۔ لیکن جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو رسول اللہ ﷺ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، اپنے کپڑے درست فرمائے اور پھر انہیں اندر آنے کی اجازت دی۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے لیے آپ نے ایسا اہتمام نہیں فرمایا، لیکن عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے فرمایا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

“کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟”

(صحیح مسلم، حدیث: 2401)

یہ وہ عظیم اعزاز ہے جو کسی اور صحابی کے بارے میں اس انداز سے منقول نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی حیا محض ایک اخلاقی خوبی نہیں تھی، بلکہ ایسی صفت تھی جسے آسمان کے فرشتے بھی قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر بھی پہلے ہی دے دی تھی۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ جبلِ اُحد پر تشریف لے گئے۔ اچانک پہاڑ لرزنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“اے اُحد! ثابت رہ، تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔”

(صحیح بخاری، حدیث: 3675)

چند الفاظ پر مشتمل اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی نبوت، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صدیقیت، اور حضرت عمر و حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کی شہادت کی خبر دے دی، جو بعد میں من و عن پوری ہوئی۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان بھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا مقام نہایت بلند تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

“ہم رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں لوگوں کی فضیلت بیان کرتے تھے تو پہلے حضرت ابوبکر، پھر حضرت عمر، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کا ذکر کرتے تھے۔”

(صحیح بخاری، احادیث: 3655، 3697)

یہ روایت اس حقیقت کی واضح دلیل ہے کہ خلفائے راشدین میں فضیلت کی یہی ترتیب صحابۂ کرام کے ہاں معروف اور مسلم تھی، اور رسول اللہ ﷺ نے اس پر کوئی نکیر نہیں فرمائی۔

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شخصیت ان تمام اوصاف کا حسین امتزاج تھی جنہیں اسلام ایک کامل مومن کی پہچان قرار دیتا ہے۔ آپ کی حیا عبادت سے جڑی ہوئی تھی، آپ کی سخاوت اخلاص سے عبارت تھی، آپ کی نرم خوئی کمزوری نہیں بلکہ قوتِ ایمان کی علامت تھی، اور آپ کی خاموشی اللہ تعالیٰ پر کامل اعتماد کا مظہر تھی۔ یہی اوصاف آنے والے دور میں آپ کی عظیم قربانیوں اور تاریخی خدمات کی بنیاد بنے۔ (جاری ہے ۔ ۔ ۔ )