تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں نے حقے کی نڑ ہونٹوں سے ہٹائی ایک گہرا اور طویل سانس کھینچا اور تمباکو کی خوشبوسے رچے ہوئےدھوئیں کے مرغولوں کو صحن کے وسط میں کھڑے نیم کے بوڑھے اور گھنے درخت کی شاخوں میں آہستہ آہستہ گم ہوتے دیکھتے رہے۔ ان کی کشادہ پیشانی پر ابھری گہری لکیریں بیتے زمانوں کی داستانِ زوال و کمال کا سرورق معلوم ہوتی تھیں جہاں زندگی کے گرم و سرد تجربات کی تپش اور مشاہدات کی سچائی کندہ تھی۔ انہوں نے ایک بار پھر ناک کی ڈنڈی پر پھسلتی ہوئی اپنی پرانی عینک کو سنبھالا۔سامنے چٹائی پر دوزانو بیٹھے نوجوانوں پر اپنی شفیق، رعب دار مگر گہری سنجیدگی سے لبریز نظر ڈالی اور دھیمے، مدھر مگر بھاری اور دل نشیں لہجے میں گویا ہوئے کہ میاں سنو اور کان دھر کر سنو کہ یہ جو دنیا کے چوراہوں پر تعصب کی دکانیں سجی ہیں یہ جو انسان دوسرے انسان کا لہو بہانے پر تلا بیٹھا ہے یہ کوئی ناگہانی آفت نہیں اور نہ ہی یہ بذاتِ خود کوئی ایسی نوخیز بیماری ہے جو اچانک آسمان سے اتری ہو۔ فنِ طبابت اور الٰہیاتی حکمت کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ جب انسانی جسم یا روح میں کوئی خرابی جنم لیتی ہے،تو نبض شناس اور حاذق معالج سب سے پہلے اس کے ظواہریعنی اس کے آثار و علامات کا موازنہ کرتا ہے۔پھر گہری فکری تفتیش کے بعد اس ناسور کی اصل جڑ اور باطنی سبب تک رسائی حاصل کرتا ہے اور آخرکار معالجے کا کاری تیشہ اسی جڑ پر چلاتا ہےکیونکہ اگر تم صرف ظاہر کی تپش کو ادویات سے دبا دو گے، اگر پھوڑے پر وقتی مرہم پٹی کر کے مطمئن ہو جاؤ گے اور خون کے اندر رچے ہوئے مسموم مادوں کو نظر انداز کر دو گے، تو وہ مرض کسی نہ کسی دوسری وحشت ناک صورت میں، کسی دوسرے عضو سے دوبارہ پھوٹ نکلے گا اور پورے وجود کو اندر ہی اندر خاکستر کر دے گا۔ بالکل اسی طرح، یہ تعصب جو تمہیں اجنبیوں سے نفرت کرنے، اپنے قبیلے، اپنی زبان، اپنے جغرافیے، اپنے مسلک اور اپنے رنگ و نسل کو دوسروں سے برتر سمجھنے پر اکساتا ہے۔یہ کوئی بنیادی بیماری نہیں ہے بلکہ یہ تو اس اصل، قدیم، خفیہ اور مہلک ترین باطنی مرض کی صرف ایک تپتی ہوئی علامت ہے جس کا نام ‘تکبر’ ہے۔ایک ایسا ازلی و ابدی روحی مرض جو انسانی وجود کے نہاں خانوں میں اس وقت انگڑائی لیتا ہے جب بندگی کا احساس مٹ جاتا ہے اور انسان کے اندر کا ابلیس جاگ کر اسے اپنی ہی نظر میں دوسروں سے بڑا، محترم، معتبر اور لائقِ سجدہ بنا کر پیش کرتا ہے۔
یہی وہ باطنی خباثت ہے میرے بچے، جسے ہماری دنیا کبھی فخر کا خوبصورت نام دیتی ہےکبھی اسے خودداری کے پردے میں غرور کہتی ہےکبھی گھمنڈ اور کبھی فرعونی رعونت کے شاہانہ لبادے میں سجا کر پیش کرتی ہے مگر اس کا اصل جوہر اور اندرونی حقیقت صرف ایک ہی کلمے میں پنہاں ہے کہ میں برتر ہوں اور دوسرا کمتر ہے۔ یہ تکبر بڑا عیار، چالاک اور بہروپیا ہے یہ صرف اقتدار کے سنگھاسن، تاج و تخت یا سونے چاندی کی جھنکار سے ہی جنم نہیں لیتا، بلکہ یہ حسن و جمال کی سرخی و رعنائی کا بھی ہو سکتا ہے اعضاء کی توانائی اور جوانی کی سرکشی کا بھی ہو سکتا ہےخاندانی جاہ و جلال اور نسل و نسب کی خود ساختہ پاکیزگی کا بھی ہو سکتا ہےاور تو اور یہ اس علم و دانش کا بھی ہو سکتا ہے جو انسان کو عاجز و منکسر بنانے کے بجائے الٹا سرکش اور مغرور بنا دے۔ یہاں تک کہ نیکی، تقویٰ، زہد اور عبادت کا تکبر تو عام تکبر سے بھی زیادہ مہلک اور زہریلا ہوتا ہےجہاں انسان اپنے پاکیزہ مصلے پر بیٹھ کر، ہاتھ میں تسبیح تھامے، خدا کے دوسرے گناہ گار بندوں کو جہنمی، حقیر اور ذلیل سمجھنے لگتا ہے۔ جب یہ احساسِ برتری کسی انسان کے رگ و پے میں لہو بن کر دوڑنے لگتا ہےتو وہ یہ گمان کرنے لگتا ہے کہ اس کی زبان کائنات کی سب سے میٹھی زبان ہےاس کا رنگ سب سے اجلا ہے اس کا خاندان سب سے معزز ہے اس کا مسلک سچائی کا واحد اجارہ دار ہے اور اس کا فہم و ادراک لاریب و بے خطا ہے اور پھر جو بھی اس کے اس خود ساختہ دائرے سے ذرا سا بھی باہر کھڑا ہو جو اس کی فکر یا رائے سے ذرا سا بھی اختلاف کرنے کی جرات کرے وہ اس کی نظر میں جاہل، گمراہ، ملیچھ، غیر مہذب اور واجبِ تحقیر قرار پاتا ہے اور یہیں سے تعصب کی وہ کالی آندھی اٹھتی ہے جو بستیوں کی بستیوں کو اجاڑ کر رکھ دیتی ہے۔
میاں ذرا غور کرو جب یہ زہریلا بیج انسانی ذہن کی بنجر اور بے فیض زمین میں جڑ پکڑ لیتا ہے تو اس سے پھوٹنے والی شاخیں اور کونپلیں تعصب، عداوت، کینہ، بغض، ظلم، ناانصافی اور تشدد کے خونی رنگ اختیار کر لیتی ہیں۔ گویا تکبر وہ تاریک، خاردار اور زہریلا درخت ہے جس کی آبیاری انسان اپنے ہی نفس کی حماقتوں اور اندھی خواہشات سے کرتا ہےاور تعصب اس درخت پر لگنے والا وہ کڑوا اور زہریلا پھل ہے جسے کھانے والی نسلیں رفتہ رفتہ اخلاقی اور روحانی موت کے گہرے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ اور سب سے بڑا سانحہ، سب سے بڑا نوحہ پتا ہے کیا ہے میاں؟ وہ یہ ہے کہ جہاں تعصب اپنے پنجے گاڑ لیتا ہے جہاں نفرتیں دلوں میں گھر کر لیتی ہیں وہاں کبھی قومیں جنم نہیں لیتیں بلکہ وہاں صرف اور صرف "ہجوم” جنم لیتے ہیں۔ قوم اور ہجوم میں وہی فرق ہے جو ایک ترتیب یافتہ، خوبصورت گلدستے اور جنگل کی خودرو جھاڑیوں میں ہوتا ہے۔ قوم ایک ایسی زندہ برادری کا نام ہے جس کے افراد الگ الگ رنگ، نسل، زبان اور عقیدے کے باوجود ایک مشترکہ مقصد، ایک عظیم اخلاقی ضابطے اور سب سے بڑھ کر انصاف اور باہمی احترام کے مضبوط دھاگے میں پروئے ہوتے ہیں۔ قوم کے پاس ایک اجتماعی شعور ہوتا ہے ایک وژن ہوتا ہے وہ اپنی تعمیرِ سیرت کے لیے دلیل، علم، برداشت اور محبت کا سہارا لیتی ہے۔ اس کے برعکس جب کسی خطے کے لوگوں کے دلوں میں تکبر اور تعصب کا زہر گھل جاتا ہے، تو ان کا وہ اخلاقی شیرازہ بکھر جاتا ہے جو انہیں ایک لڑی میں پروئے رکھتا ہے وہ ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں وہ قبیلوں، برادریوں، فرقوں اور زبانوں کے نام پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں اور یوں ایک عظیم "قوم” تنزل کا شکار ہو کر ایک وحشی اور اندھے "ہجوم” میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
ہجوم کی کوئی آنکھ نہیں ہوتی میاں، اس کا کوئی دماغ نہیں ہوتا، اس کا کوئی اخلاقی ضابطہ نہیں ہوتا۔ ہجوم صرف وقتی ہیجانات، اندھے نعروں اور تعصب کی بھڑکائی ہوئی آگ پر جلتا اور کڑھتا ہے اسے کسی دلیل سے غرض نہیں ہوتی، اسے سچ اور جھوٹ کا کوئی ہوش نہیں ہوتا، اسے بس ایک بہانا چاہیے ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے اندر چھپے ہوئے شیطانی غیظ و غضب کا اظہار کر سکے اور دوسروں کو پامال کر سکے۔ جس معاشرے میں تعصب کی دکانیں چمک رہی ہوں وہاں تم سڑکوں پر چلتے پھرتے انسانوں کے سر تو گن سکتے ہو وہاں پندرہ بیس کروڑ لوگوں کی بھیڑ تو جمع کر سکتے ہو لیکن وہاں تمہیں ایک بھی سچی قوم نظر نہیں آئے گی وہاں تمہیں صرف مختلف سمتوں میں بھاگتا، ایک دوسرے کو کچلتا، ایک دوسرے پر پتھر پھینکتا اور نفرتوں کی آگ اگلتا ہوا ایک ہجوم ہی ملے گا۔ تاریخ کے پنے الٹ کر دیکھو میاں زمانے کی دھول میں کتنی ہی ایسی نامور، عالی شان اور طاقتور سلطنتیں گم ہو گئیں جن کا جرم یہی تکبر اور تعصب تھا جس نے انہیں قوم سے ہجوم بنا دیا فرعون کا دعویِٰ خدائی ہو جو اپنی قوم کو طبقوں میں بانٹ کر حکومت کرتا تھا نمرود کی سرکشی ہو جو انسانوں کی تذلیل میں لذت پاتا تھا یا ہامان و قارون کی نخوت ہو یہ محض تاریخ کے افسانوی کردار نہیں بلکہ اسی تکبر کے بدصورت اور عبرت ناک استعارے ہیں جو بتاتے ہیں کہ جب انسان یا کوئی گروہ خود کو سچائی اور حق کا واحد معیار تسلیم کر لیتا ہے تو پھر وہ خدا کی زمین پر فتنہ و فساد برپا کرنے، کمزوروں کا لہو بہانے اور دوسروں کے بنیادی حقوق کو پیروں تلے روندنے میں ذرہ برابر بھی پشیمانی محسوس نہیں کرتا۔ یہ ایک ایسا اخلاقی اور ذہنی زہر ہے جو انسان کی باطنی بینائی اور بصیرت دونوں کو چھین کر اسے اندھا کر دیتا ہےجس کے بعد وہ سچی دلیل کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے اپنی جاہلانہ ضد پر اڑ جاتا ہے محبت کی ٹھنڈی اور پرسکون چھاؤں کے مقابلے میں نفرت کی تپتی ہوئی اور جھلسا دینے والی دھوپ کا انتخاب کرتا ہےاور عدل و انصاف کے ترازو کو توڑ کر جبر و وحشت کے کوڑے برسانے لگتا ہے۔
اب تم تڑپ کر پوچھو گے کہ بندن میاں اگر یہ مرض اس قدر اندھیر نگری کا پیش خیمہ ہے اگر یہ ہولناک وباء پوری بستی کو چاٹ رہی ہے تو پھر اس کا مداوا کیا ہے اس کا ابدی حل اور علاج کیا ہے؟ تو سنو میرے پیارے بچے اس کائنات میں کوئی ایسا مرض نہیں جس کی دوا اس کے خالق نے نازل نہ کی ہومگر اس جاہلیت اور تعصب کا علاج صرف الیکٹرانک میڈیا پر ہونے والے مباحثوں، وعظ و نصیحت کے کھوکھلے الفاظ، درسگاہوں میں رٹی رٹائی کتابوں کے بے جان اوراق یا لفاظی کے سمندر بہانے سے ہرگز ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ہمیں اپنی خاندانی، تعلیمی اور معاشرتی زندگی کی پوری بساط کو ازسرِ نو سچے جذبوں کے ساتھ ترتیب دینا ہوگا۔ اس روحانی اور سماجی کینسر کا سب سے پہلا، قطعی اور بنیادی علاج "محاسبۂ نفس” ہے انسان کو چاہیے کہ وہ روزانہ رات کو اپنے بستر پر لیٹنے سے پہلے تنہائی کے حجرے میں بیٹھ کر اپنی روح کے سچے آئینے میں اپنے باطنی عیوب کا نظارہ کرے اپنے اندر چھپے ہوئے اس چھوٹے سے شیطانی فرعون کا گریبان پکڑے جو ہر گھڑی اسے دوسروں کو حقیر، کم تر اور خود کو معزز دکھانے کی ترغیب دیتا رہتا ہے۔ جب تک انسان اپنی ذات کی نفی نہیں کرے گا جب تک وہ اپنے عیوب کا اعتراف نہیں کرے گا تب تک اس کی روح کی پاکیزگی ممکن ہی نہیں ہے۔
اس علاج کا دوسرا بڑا اور سنہری نسخہ عاجزی، انکساری اور فکری وسعت کا شعور پیدا کرنا ہے ہمیں اپنی نئی نسل کو ماں کی گود سے لے کر مکتب کی آخری سیڑھی تک یہ سکھانا ہوگا کہ مٹی کا یہ پتلا مٹی سے ہی بنا ہے اور آخرکار مٹی کی آغوش میں ہی پناہ پانے والا ہے یہاں نہ تو کوئی رنگ مستقل ہے نہ خاندانی حسب و نسب ہمیشہ رہنے والا ہے نہ طاقت پائیدار ہے اور نہ ہی کوئی دنیاوی منصب لازوال ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کی تربیت اس نہج پر کرنی ہوگی کہ وہ اختلافِ رائے کو دشمنی اور جنگ کا میدان نہ سمجھیں بلکہ اسے ربِ کائنات کی اس رنگ برنگی کائنات کا حسن، تنوع اور فکری ارتقاء کا ذریعہ تسلیم کریں۔ جب کوئی معصوم بچہ اپنے گھر کے آنگن میں اپنے بڑوں کو، اپنے ماں باپ کو ایک دوسرے کے مختلف نظریات کا احترام کرتے دیکھے گا، غریبوں، یتیموں اور محتاجوں سے انتہائی شفقت اور برابری کے ساتھ پیش آتے دیکھے گااور اپنی کسی لغزش یا غلطی پر نادم ہو کر کھلے دل سے معافی مانگتے دیکھے گا تو اس کے نازک دل و دماغ میں عاجزی کا وہ مضبوط پودا پروان چڑھے گا جو بڑا ہو کر تکبر کی تند و تیز آندھیوں کے سامنے بھی کبھی سر نہیں جھکائے گا۔
معاشرتی اصلاح کا نسخہ بالکل واضح اور سیدھا ہے میاں ہمیں اپنے فرسودہ تعلیمی نظام، اپنے منبر و محراب کی ترجیحات اور اپنے خاندانی ڈھانچے سے "خودی اور انا کے جھوٹے خمار” کو یکسر نکال باہر پھینکنا ہوگا اور اس کی جگہ "احترامِ انسانیت” کو اصل دین، اصل اخلاق اور اصل فخر بنا کر پیش کرنا ہوگا۔ جس دن ہم نے یہ دل سے تسلیم کر لیا کہ عظمت، شرافت اور بزرگی کا معیار زبان، رنگ، ذات پات، برادری یا مادی دولت نہیں بلکہ صرف اور صرف تقویٰ، حسنِ اخلاق، باہمی رواداری اور انسانیت کی بے لوث خدمت ہے اسی دن ہمارے معاشرے سے تکبر کا یہ جابر بت پاش پاش ہو کر خاک میں مل جائے گا۔ اور یاد رکھو میرے بچو جیسے ہی دل کی اس دھرتی سے تکبر کا یہ زہریلا اور غلیظ درخت جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا تو تعصب کی وہ تمام شاخیں جو پورے معاشرے کو بارود کا ڈھیر بنا رہی ہیں جو انسانوں کو ہجوم میں بدل رہی ہیں انہیں باطنی غذا نہ ملنے کی وجہ سے وہ خود بخود مرجھا کر ہمیشہ کے لیے خشک ہو جائیں گی کیونکہ جب جڑ ہی فنا ہو جائے تو شاخوں پر زہر کا پھل بھلا کیسے لگ سکتا ہے؟ چلو، اب رات گہری ہو چلی ہے میرے حقے کی چلم بھی ٹھنڈی ہو چکی ہے اب تم سب بھی یہاں سے اٹھو اور اپنے اپنے گھروں کو جاؤ لیکن جانے سے پہلے اپنے اپنے اندر کے اس ابلیس کو مارنے کی سچی فکر کرو جو تمہیں دوسروں سے برتر ہونے کا جھوٹا دلاسا دے کر انسانیت کے مرتبے سے گرا رہا ہے یقین جانو کہ یہی سچی زندگی کا راز ہے اور یہی اپنے سچے رب کی بندگی کا اصل اور واحد راستہ ہے۔




