جولائی 11, 2026

پاکستان میں تربیلا اور منگلا کے بعد کوئی بڑا ڈیم نہیں بنا جبکہ بھارت نے 5 ہزار ڈیم بنا لیے، چیئرمین واپڈا محمد سعید کا انکشاف

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اہم اجلاس سینیٹر جام سیف اللہ خان کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، جس میں ملک میں پانی کی سکیورٹی اور دریاؤں پر تجاوزات کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران چیئرمین واپڈا محمد سعید نے ملک میں پانی کی شدید قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کو آبی تحفظ کے لیے سنجیدہ کوششوں کی اشد ضرورت ہے کیونکہ تربیلا اور منگلا کے بعد ملک میں ایک بھی بڑا ڈیم نہیں بنایا گیا، جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت 5 ہزار ڈیم بنا چکا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نیلم جہلم پن بجلی منصوبہ اس وقت بند ہے جس پر انکوائریز چل رہی ہیں اور اسے مارچ 2028 تک دوبارہ بحال کرنے کی امید ہے، جبکہ سندھ میں نئی گاج ڈیم کا معاملہ کنٹریکٹر کی جانب سے جعلی بینک گارنٹی جمع کرانے اور معاہدہ منسوخ ہونے کے باعث عدالت میں زیرِ سماعت ہے جس سے کام رکا ہوا ہے۔

اجلاس میں خیبر پختونخوا اور پنجاب میں دریاؤں کے کنارے ہزاروں تجاوزات کے مقامات کی نشاندہی بھی کی گئی، جس پر رکن کمیٹی خلیل طاہر نے دریائے راوی میں تجاوزات اور گزشتہ سال سیلاب سے ہونے والے اربوں کے نقصان کا معاملہ اٹھایا۔ چیف انجینئر پنجاب نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ راوی سے آبادیاں ہٹا دی گئی ہیں، تاہم چیئرمین کمیٹی نے خبردار کیا کہ اگر تجاوزات ہٹانے سے متعلق معلومات غلط ثابت ہوئیں تو معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیجا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے سیلاب کی پیش گوئی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا اور انڈس واٹر ٹریٹی کے تناظر میں مستقبل کے آبی ذخائر کی تعمیر کے لیے انڈس واٹر کمشنر، وزارتِ خارجہ اور عالمی بینک سمیت دیگر حکام کا خصوصی اجلاس بلانے کی ہدایت کی۔