وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں فوج، ایف سی اور پولیس نے مشترکہ گرینڈ آپریشن شروع کر دیا ہے اور وہاں ہونے والی دہشت گردی کا صوبے کے مسائل یا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مانگی ڈیم کی سکیورٹی چوکی پر حملہ علاقے کو اندھیرے میں دھکیلنے اور پانی کی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا۔ رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ بلوچستان کی صورتحال کوئی سیاسی بحران یا محض امن و امان کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ بھارت کی جانب سے باقاعدہ مسلط کی گئی جنگ ہے جس میں افغانستان کو بطور پراکسی استعمال کیا جا رہا ہے، اور پاکستان نے اس حوالے سے بھارت کے خلاف عالمی فورمز پر ٹھوس ثبوت لے جانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق، مانگی ڈیم پولیس اسٹیشن پر حملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ‘آپریشن شعبان’ اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پوری طاقت سے جاری ہیں، جس کے دوران گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 17 خارجی دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے، جبکہ 5 جولائی سے اب تک مارے جانے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 91 ہو چکی ہے۔ دوسری جانب، آزاد کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وہاں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا واحد مقصد عام انتخابات کو روکنا اور جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنا ہے، جبکہ وہاں وقت پر انتخابات کا انعقاد آئین اور قانون کا اہم تقاضا ہے۔





