وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وہاں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امن و امان کی بحالی کے بھرپور حامی ہیں۔ نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اگر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اس مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کا آغاز کرتے ہیں اور کوئی متفقہ لائحہ عمل نکالتے ہیں تو یہ ایک انتہائی مثبت اور خوش آئند اقدام ہوگا، جس کا وہ اسمبلی کے فلور پر بھی خیرمقدم کر چکے ہیں اور تمام فریقین کے اتفاق کی صورت میں وہ اس ثالثی کی مکمل حمایت کریں گے۔
خواجہ آصف نے پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی لازوال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان مہاجرین نے پاکستان اور کشمیر دونوں کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، اس لیے انہیں انتخابی نشستوں سے محروم کرنا یا ان کی سیٹوں کو متنازع بنانا کسی بھی طور درست عمل نہیں ہے۔ انہوں نے کشمیریوں کو تین مختلف زمروں میں تقسیم کرتے ہوئے کہا کہ پہلے نمبر پر وہ کشمیری ہیں جو گزشتہ 75 سال سے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کا سامنا کرتے ہوئے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں اور جن کی پاکستان سے محبت لازوال ہے، جبکہ دوسرے نمبر پر وہ لوگ ہیں جنہوں نے تقسیم کے وقت ہجرت کی اور سخت ترین صعوبتیں برداشت کیں۔
وزیر دفاع نے تیسری کیٹگری میں آزاد کشمیر کے مقامی باشندوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اپنی شناخت اور قربانیاں ہیں، لیکن پہلی دو کیٹگریز میں شامل کشمیریوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اپنا خاندان سیالکوٹ کا رہائشی تھا اور انہیں گھر بیٹھے آزادی ملی، جبکہ تقسیم ہند کے وقت بھارتی پنجاب اور مقبوضہ کشمیر سے آنے والے مہاجرین نے بے پناہ قربانیاں دیں، اس لیے قربانیاں دینے والوں کا استحقاق اور درجہ ہمیشہ زیادہ رہے گا۔





