جولائی 17, 2026

انسانیت بندگی اور اخلاق کا درویشانہ پیغام

تحریر: محمد انور بھٹی

اگر دل میں سچی محبت، ہاتھوں میں خاموش مدد اور رویوں میں غیر مشروط احترام ہو تو یہی اصل عبادت ہے یہ سچائی بندن میاں نے کسی درس گاہ کی ضخیم کتابوں سے نہیں چرائی تھی اور نہ ہی وہ کسی منبر پر بیٹھ کر وعظ فرماتے تھے بلکہ یہ تو انہوں نے زندگی کے طویل، گرد آلود اور کٹھن سفر میں انسانوں کے مرجھائے ہوئے چہروں پر لکھی ہوئی بے زبان کہانیوں اور مایوس آنکھوں سے کشید کی تھی وہ ہمیشہ دھیمی اور سنجیدہ آواز میں یہ یاد دہانی کرواتے تھے کہ بندگی صرف وہ نہیں جو مسجد کے محراب میں مخصوص رسومات کے ساتھ ادا ہو کر ختم ہو جائے بلکہ وہ عمل بھی عبادت کی روح ہے جو کسی دکھی انسان کی آنکھ سے چپکے سے بہنے والا آنسو پونچھ دےکسی بے سہارا یتیم کے سر پر دستِ شفقت رکھ دے حیات کے آخری موڑ پر کھڑے کسی ناتواں ضعیف کی لاٹھی بن جائےکسی مجبور کی آبرو کا بھرم رکھ لے اور کسی ناامید کے دل میں جینے کی ایک مدہم سی آس جگا دے ان کی سب سے بڑی خوبی ہی یہ تھی کہ وہ نصیحتوں کے انبار لگانے کے بجائے معاشرے کے سچے احوال اور تصویریں لوگوں کے سامنے اس طرح رکھ دیتے تھے کہ ہر شخص ملامتِ نفس کے آئینے میں خود اپنا بے لاگ احتساب کرنے لگتا تھا اور اسے کسی بیرونی ملامت کی ضرورت نہیں رہتی تھی۔
ایک روز کا ذکر ہے کہ وہ شہر کی ایک پرپیچ اور مصروف گلی سے خاموشی کے ساتھ گزر رہے تھے ارد گرد دنیا اپنے ہنگاموں میں مگن تھی اور اسی بھیڑ میں ایک نوجوان اپنے موبائل فون پر مذہب، اخلاق اور انسانیت کے موضوع پر بڑی پرجوش اور طویل تقریریں سننے میں محو تھا لیکن اسی گلی کے اگلے موڑ پر ایک نہایت کمزور بوڑھا شخص تیز رفتار ٹریفک کے ہجوم میں سڑک پار کرنے کی کوشش میں خوفزدہ کھڑا تھا گاڑیاں مسلسل گزر رہی تھیں لوگ اپنے اپنے کاموں کی دھن میں اندھے ہو چکے تھے اور اس نوجوان نے بھی جو ابھی اخلاقیات کا درس سن رہا تھا ایک لمحے کے لیے بھی نظر اٹھا کر اس بوڑھے کی بے بسی کو نہ دیکھا اور مصلحت کی چادر اوڑھے آگے بڑھ گیا بندن میاں نے یہ سب دیکھا مگر ان کی زبان سے کوئی طنز یا شکایت کا لفظ نہ نکلا وہ کسی بحث میں پڑے بغیر خاموشی سے آگے بڑھے اس ضعیف انسان کا لرزتا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اسے سڑک پار کروائی اور بس ایک فطری سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے راستے پر چل دیے ان کے چہرے پر اس عمل کے بعد نہ تو کوئی فاتحانہ غرور تھا اور نہ ہی یہ تاثر کہ انہوں نے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہے بلکہ ان کی اس خاموشی میں ایک ایسا گہرا اثر تھا جو لفظوں کے ہزاروں کھوکھلے وعظوں پر بھاری تھا۔
وہ اکثر اس مادی عہد کا ماضی کے گداز سے موازنہ کرتے ہوئے تاسف کا اظہار کرتے تھے کہ آج انسان نے عبادت کے ظاہری آداب، جبے اور دستار کے طریقے تو نہایت باریک بینی سے سیکھ لیے ہیں مگر وہ انسان سے سچی محبت کرنے کا اصل سلیقہ بھول چکا ہے زبان پر اخلاق اور مروت کے پھول سجے ہیں مگر روزمرہ کے رویوں میں نفرت اور تعصب کے کانٹے اگ آئے ہیں لباس میں تو دینداری جھلکتی ہے مگر کردار میں انسانیت کا جوہر روز بروز گھٹتا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے گھروں میں مادی آسائشیں، سہولیات اور آرائش کے سامان تو حد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں مگر روح کا اطمینان اور دل کا سکون رخصت ہو چکا ہے شہروں میں فلک بوس اور مہیب عمارتیں تو کھڑی ہو گئی ہیں مگر ان کے سائے میں بسنے والے انسانوں کے دل چھوٹے اور تنگ ہو گئے ہیں علم اور معلومات کے ڈھیر تو لگ گئے ہیں مگر باہمی برداشت، رواداری اور درگزر کی دولت نایاب ہوتی جا رہی ہے۔
بندن میاں کا یہ روز کا معمول تھا کہ وہ ریلوے اسٹیشن کے ایک پرانے اور شکستہ لکڑی کے بینچ پر بیٹھ کر آنے جانے والے مسافروں کو دیکھا کرتے تھے ان کا کہنا تھا کہ اس جگہ انہیں زندگی کی پوری کتاب اپنے تمام تر تضادات کے ساتھ کھلی ہوئی نظر آتی تھی وہاں ایک طرف ایک غریب مزدور جلتی ہوئی دھوپ میں پسینہ بہا کر اپنے بچوں کے لیے حلال رزق کا ایک نوالہ تلاش کر رہا تھا تو دوسری طرف ایک دولت مند شخص اپنے ملازم کو ایک معمولی سی انسانی خطا پر سرِعام ذلیل کر رہا تھا کہیں کوئی معذور شخص ایک کونے میں بیٹھا دوسروں کی مروت کا منتظر تھا تو کہیں تندرست نوجوانوں کا ایک گروہ اس کی معذوری کا تمسخر اڑا رہا تھا یہ مناظر دیکھ کر وہ سوچتے تھے کہ اگر انسان کے دل میں دوسرے انسان کے لیے احترام اور مروت کا جذبہ ہی مر جائے تو دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی ڈگری یا تعلیمی سند بھی اسے مہذب نہیں بنا سکتی کیونکہ اصل تہذیب اور انسانیت کسی کاغذ کے ٹکڑے سے نہیں بلکہ پاکیزہ کردار اور عاجزی سے جنم لیتی ہے۔
وہ اپنے ہم نشینوں کو یہ بات گہرائی سے سمجھاتے تھے کہ نفرت ہمیشہ سب سے آسان اور سستا راستہ اختیار کرتی ہے کیونکہ وہ ایک ہی لمحے میں دلوں کے درمیان تعصب اور دوری کی ایسی سنگین دیوار کھڑی کر دیتی ہے جسے گرانے میں صدیاں لگ جاتی ہیں لیکن اس کے برعکس محبت کا راستہ طویل صبر، بے پناہ برداشت اور ہر قدم پر قربانی مانگتا ہے اسی لیے اس دنیا میں سچی محبت کرنے والے کم اور نفرت بانٹنے والے زیادہ دکھائی دیتے ہیں حالانکہ تاریخ اس سچائی کی گواہ ہے کہ لوہے کی تیز تلواریں سلطنتیں اور عارضی حکومتیں تو قائم کر سکتی ہیں مگر وہ کبھی کسی ایک انسان کا دل نہیں جیت سکتیں، دلوں کی اقلیم ہمیشہ سچی محبت، بے لاگ انصاف اور باہمی احترام سے ہی فتح کی جاتی ہے اور جو رشتہ احترام پر قائم ہو اسے کبھی زوال نہیں آتا۔
ایک روز کا واقعہ ان کی اس سوچ کو مزید پختہ کر گیا جب انہوں نے گلی کے ایک کونے میں اسکول کے ایک چھوٹے بچے کو دیکھا جو اپنے بستے سے اپنی روٹی نکال کر ایک بھوکے کتے کے سامنے رکھ رہا تھا وہاں کھڑے ایک راہگیر نے حیرت سے پوچھا کہ بیٹا تم خود بھی تو صبح سے بھوکے معلوم ہوتے ہو پھر یہ روٹی اس جانور کو کیوں دے دی؟ اس بچے نے نہایت معصومیت اور سادگی سے جواب دیا کہ چچا جان بھوک صرف میری تو نہیں ہے اس بے زبان کی بھی تو ہے یہ سن کر بندن میاں نے گہرے تاثر کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں کہا کہ شاید یہی وہ سچا اور فطری سبق ہے جسے بڑے بڑے نام نہاد دانشور اپنی ضخیم کتابوں اور لائبریریوں میں عمر بھر تلاش کرتے رہتے ہیں مگر وہ انہیں نہیں ملتا جبکہ یہ معصوم بچے اپنے ایک چھوٹے سے بے لوث عمل سے سکھا دیتے ہیں کہ ہمدردی ہی کائنات کا اصل اصول ہے۔وہ اکثر اس بات پر زور دیتے تھے کہ کسی بھی معاشرے کا حقیقی زوال اس دن شروع ہوتا ہے جب انسان دوسروں کے دکھ اور تکلیف کو اپنا دکھ سمجھنا چھوڑ دیتا ہے جب کسی پڑوسی کے گھر میں آگ لگے اور ہم اپنے مکان میں بیٹھے صرف تماشائی بن جائیں جب کسی غریب کے حق پر ڈاکہ پڑ رہا ہو اور ہم اپنی مصلحتوں کے سبب خاموشی اختیار کر لیں جب کسی مظلوم کی آواز ظلم تلے دب جائے اور ہم اپنی ذاتی عافیت اور سکون کے لیے اپنی آنکھیں اور کان بند کر لیں تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ معاشرہ اندر سے مر چکا ہے اور وہ اب صرف اینٹ، پتھر اور سیمنٹ کی بے جان عمارتوں کا ایک مجموعہ ہے جہاں دل دھڑکنا بند ہو چکے ہیں۔
بندن میاں نے زندگی کی اس طویل مسافت میں یہ تلخ حقیقت بھی دیکھی تھی کہ بعض لوگ مذہب کے نام پر انسانوں کو تقسیم کرتے ہیں زبان کے نام پر نفرت پھیلاتے ہیں نسل اور رنگ کے نام پر جھوٹی برتری جتاتے ہیں اور دولت کے ترازو میں تول کر انسانوں کی قدر متعین کرتے ہیں مگر وہ ہمیشہ یہ یاد دلاتے تھے کہ وقت کا انصاف بڑا عجیب اور غیر جانبدار ہے یاد رکھو کہ قبر کے اس ابدی اندھیرے میں نہ تو تمہاری یہ دولت ساتھ جائے گی، نہ تمہارا دنیاوی عہدہ، نہ جھوٹی شہرت اور نہ ہی یہ خاندانی غرور تمہارے کام آئے گا وہاں مٹی کے نیچے صرف تمہارا مخلصانہ کردار ہی روشنی بنے گا اور وہی انسان کامیاب ہوگا جس نے اپنی فانی زندگی میں کسی دوسرے مجبور کے لیے آسانی پیدا کی ہو اور کسی کے بوجھ کو ہلکا کیا ہو۔وہ نوجوانوں کو اپنے پاس بٹھا کر بڑے پیار سے سمجھایا کرتے تھے کہ تمہاری اصل پہچان تمہارا قیمتی لباس یا ظاہری ٹام ٹام نہیں ہے بلکہ تمہارا اخلاق ہے تمہاری اصل طاقت تمہارا غصہ یا طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ تمہارا ضبطِ نفس ہےتمہاری اصل دولت تمہارا بینک بیلنس نہیں بلکہ وہ خاموش دعائیں ہیں جو کسی مجبور کی زبان سے تمہارے حسنِ سلوک کی وجہ سے نکلتی ہیں اگر تم نے اپنی زندگی میں کسی ایک روتے ہوئے انسان کے چہرے پر سچی مسکراہٹ بکھیر دی کسی ناامید کو امید دے دی اور کسی بے سہارا کو سچا سہارا دے دیا تو سمجھو تم نے زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ کما لیا جسے کوئی زوال ختم نہیں کر سکتا۔
ان کی محفل کی سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ وہاں کبھی کسی فرقے، کسی قوم یا معاشرے کے کسی ادنیٰ طبقے کی تضحیک یا دل آزاری کا تصور تک نہیں ہوتا تھا وہ کہتے تھے کہ انسان کو کسی بھی عینک کے بغیر صرف انسان سمجھنے کی عادت ڈالو کیونکہ نفرت کی بنیاد پر کھڑی ہونے والی ہر دیوار ایک نہ ایک دن خود اپنے ہی بوجھ سے گر جاتی ہے مگر محبت اور خلوص سے تعمیر ہونے والا رشتہ نسلوں تک قائم رہتا ہے وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ زندگی میں دوسروں سے اختلافِ رائے ضرور رکھو کیونکہ اختلاف زندگی کی علامت ہے مگر اس اختلاف کے باوجود احترام کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے کیونکہ دلیل سے دل بدل سکتے ہیں مگر تذلیل اور طنز سے صرف فاصلے اور عداوتیں بڑھتی ہیں۔وہ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ کسی معاشرے کی حقیقی ترقی نئی سڑکوں اور بلند و بالا عمارتوں سے نہیں ہوتی بلکہ معاشرہ اس دن واقعی ترقی یافتہ کہلائے گا جب کسی غریب کو اپنے جائز حق کے لیے کسی سفارش یا رشوت کا محتاج نہ ہونا پڑے جب کسی بیوہ کو انصاف کے لیے دروازے دروازے نہ پھرنا پڑے جب کسی یتیم بچے کی آنکھ میں احساسِ محرومی کا آنسو نہ ہو اور جب ہر انسان دوسرے انسان کی عزت اور آبرو کو اپنی عزت سمجھے یہی وہ مستقبل کی اصلاح کا واحد راستہ ہے جو ہمیں ایک پرامن معاشرہ دے سکتا ہے۔
وقت گزرتا گیا مگر بندن میاں کی باتیں لوگوں کے دلوں میں چراغِ راہ کی طرح روشن رہیں کیونکہ ان کی گفتگو میں کوئی کھوکھلا شور یا سستی شہرت کا شوق نہیں تھا بلکہ گہرا شعور تھا درد تھا مگر مایوسی نہیں تھی امید تھی مگر کوئی جھوٹی خوش فہمی نہیں تھی وہ ہر ملاقات کے اختتام پر صرف اتنا کہتے تھے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ یہ دنیا ایک بہتر جگہ بن جائے تو دوسروں کا انتظار کرنے کے بجائے اپنے حصے کا اندھیرا کم کروکسی ایک انسان کے لیے آسانی پیدا کر دوکسی ایک دل کو ٹوٹنے سے بچا لو اور کسی ایک زبان سے نفرت کا زہر ختم کر دو یہی وہ چھوٹا سا عمل ہے جو پورے معاشرے کو بدل دیتا ہے۔
آخر میں جب بندن میاں خاموش ہوئے تو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے فضا میں چلنے والی ہوا بھی ان کے الفاظ کو اپنے ساتھ لے کر دور تک پھیلانے کے لیے تھم گئی ہوان کی آنکھوں میں نہ تو کوئی شکوہ تھا اور نہ ہی کوئی ذاتی شکایت بلکہ ایک خاموش دعا تھی کہ اے انسان اپنے دل کو نفرت کی آماجگاہ نہ بنا بلکہ محبت کا مسکن بنا اپنے ہاتھوں کو ظلم کا ذریعہ نہیں بلکہ مدد کا وسیلہ بنا اپنے رویوں کو تکبر سے نہیں بلکہ احترام سے آراستہ کر کیونکہ جب انسان دوسرے انسان کے لیے آسانی بن جاتا ہے تو یہی اس کی سب سے بڑی عبادت بن جاتی ہے اور جب معاشرہ محبت، احترام اور انسانیت کے رشتوں سے جڑ جاتا ہے تو زمین پر امن کے وہ پھول کھلتے ہیں جن کی خوشبو نسلوں تک محسوس کی جاتی ہےیہی زندگی کا اصل مقصد ہے اور یہی کامیابی کا حقیقی راستہ ہے۔