ڈنگہ ( میاں احتشام اللہ اسلم ) مرکزی رہنماء پاکستان پیپلز پارٹی و سابق گورنر گلگت بلتستان و سابق وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ نے کہا کہ گلگت بلتستان الیکشن والے دن فارم 45سے انکار پر ہمارے احتجاج اور میڈیا پر جانے سے فارم 4کا اجرا ہوا ورنہ فارم 46۔47کا کھیل یہاں تیار تھا۔RO کے آڈیو بیان اور رزلٹ نہ دینے کے احکامات بھی موجود ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے 12حلقوں میں واضح کامیابی حاصل کی۔2نشستوں پر نتائج غیر قانونی طور پر روک کر کچھ پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم کہاں سے آیا ہے؟ہماری جیتی ہوئی نشست پر تین باردوبارہ گنتی کے آرڈر جاری کر کے نتائج بدلنے کی کوشش جاری ہے۔ 2حمایت یافتہ امیدواران کا اعلان حقائق کے منافی ہے درست ہوتا تو شامل ہوگئے ہوتے،سارا گلگت بلتستان ہر چیز سے آگاہ ہے۔ہمارے مخالف امیدوار کی ایک نشست پر دوبارہ انتخاب کا حکم دیکر فیصلہ واپس لیا گیا۔ الیکشن کمیشن کی آزادی کا تبصرہ نہ کریں کہ وہاں سے انصاف لیں وہ کہاں سے ہدایت لے رہے ہیں سب جانتے ہیں۔ لیڈر شپ ہمیں مبارک دے رہی تھی اور وزراء اور مقامی جماعت یہاں نتائج تبدیل کرنے کے لئے کوشاں تھی۔تاریخ گواہ ہے نتائج تبدیل کرنے کے بادشاہ کون ہیں۔ ہم سیاست میں رواداری کے قائل ہیں مگر اپنا حق لینا جانتے ہیں کسی کو بھی منڈیٹ چھیننے کی اجازت نہیں دیں گے۔





