تحریک منہاج القرآن کے بانی وسرپرست اعلیٰ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے برطانیہ کے شہر شیفلڈ میں تاریخ ساز سیرت النبیؐ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علماء علمی اختلاف کے ساتھ باہمی احترام کی روایت زندہ کریں۔اختلاف اخلاص اور خالص علمی بنیاد پر ہو تو وہ رحمت ہوتا ہے۔ اختلاف کو انتقام کے دائرے میں داخل کرنے سے اُمت تقسیم اور اسلام کے امن و شفقت والے بیانیہ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن دستور اورسیرت مصطفیؐ اس کی عملی شرح ہے، قرآن مجید کی کامل تفہیم سیرت مصطفیؐ کو سمجھے اور اپنائے بغیر ناممکن ہے، کانفرنس میں برطانیہ بھر سے مختلف مکتب فکر کے علماء، سکالرز، خطبا حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور فتنہ انکار حدیث کے رد میں شیخ الاسلام کے علمی کام پر انہیں زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ علماء و مشائخ کا کہنا تھا شیخ الاسلام نے رواں صدی سیرت النبیؐ کے باب میں بے مثال تحقیقی و تصنیفی کام کیا، 8 جلدوں پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا آف حدیث اور سیرت النبی ؐ کے مختلف گوشوں پر لکھی گئیں درجنوں کتب ایک ایسا عظیم الشان علمی و تحقیقی تحفہ ہے جس سے رہتی دنیا تک علوم الحدیث کے طلبہ استفادہ کرتے رہیں گے۔ شیخ الاسلام نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ انکار حدیث دین اسلام کی فکری جڑ کاٹنے کا فتنہ ہے، علمائے کرام و مشائخ حضرات کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مسلم یوتھ کو اس فتنے سے بچائے۔ انہوں نے کہا کہ سیرت النبیؐ درحقیقت قرآن کا وہ عملی نمونہ ہے جو بشری شکل میں مجسم ہو کر ظاہر ہوا، انہوں نے علمائے کرام و شرکائے کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ظاہری اعمال پر توجہ مرکوز رکھنے کی بجائے نبوی کردار اپنائیں اور دین کی تعلیمات کو دل اور روح میں جاگزیں کریں۔ ایمان کی یہ حقیقت رحم، انکساری، شفقت، صبر و رضا، امانت، سخاوت اور صلہ رحمی سے پیدا ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اُمت کے وسیع تر مفاد میں علمائے کرام اور سکالرز حضرات کو عداوت اور تضحیک کی روش ترک کرنا ہوگی۔





