جون 11, 2026

آئی سی سی کا بڑا ایکشن: تاریخی لارڈز اور قذافی اسٹیڈیم کی پچز ‘غیر تسلی بخش’ قرار، دونوں وینیوز کو ڈی میرٹ پوائنٹس جاری

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کرکٹ کے تاریخی میدان ‘لارڈز’ (لندن) اور لاہور کے ‘قذافی اسٹیڈیم’ کی پچز کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے دونوں مشہور وینیوز کو ایک ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دے دیا ہے۔ آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے گئے ٹیسٹ میچ اور پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے تیسرے ون ڈے میچ کی پچز پر میچ ریفریز نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد یہ تادیبی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

لارڈز ٹیسٹ کے میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ نے اپنی رپورٹ میں موقف اختیار کیا کہ لارڈز کی پچ پر غیر معمولی سیم موومنٹ اور غیر متوقع باؤنس دیکھنے کو ملا، جس کی وجہ سے بلے اور گیند کا روایتی توازن بری طرح متاثر ہوا۔ دوسری جانب، قذافی اسٹیڈیم کے میچ ریفری گریم لا بروئے کی رپورٹ کے مطابق، لاہور کی پچ انتہائی سست (سلو) اور کم باؤنس والی تھی جس کی وجہ سے بلے بازوں کے لیے رنز بنانا انتہائی مشکل رہا۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ یہ پچ ون ڈے کرکٹ کے بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتی تھی اور اس پر میچ کے آغاز ہی سے اسپنرز کو غیر معمولی مدد ملنا شروع ہو گئی تھی۔

آئی سی سی نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو باقاعدہ رپورٹس ارسال کر دی ہیں اور دونوں بورڈز کو اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے 14 روز کی مہلت دی ہے۔ واضح رہے کہ لارڈز اور قذافی اسٹیڈیم کے خلاف اس سے قبل کوئی ڈی میرٹ پوائنٹ موجود نہیں تھا۔ آئی سی سی قوانین کے تحت، غیر تسلی بخش پچ پر ایک جبکہ ناقابلِ کھیل پچ پر تین ڈی میرٹ پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔ اگر کسی وینیو کے 6 ڈی میرٹ پوائنٹس ہو جائیں تو وہ ایک سال کے لیے اور 12 ڈی میرٹ پوائنٹس ہونے پر وہ میدان 2 سال کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی سے محروم ہو سکتا ہے۔