تحریر: محمد انور بھٹی
فیس بک کی بے ہنگم، چکا چوند اور رنگین دنیا میں، جہاں ہر لمحہ ہزاروں بے معنی رنگ، اشتہارات اور کھوکھلی مسکراہٹیں سکرین پر نمودار اور غائب ہوتی رہتی ہیں انگلیوں کو سکرین پر تیزی سے سکرولکرتے ہوئے اچانک بندن میاں کی نظریں ایک ایسی تصویر پر جم گئیں کہ ان کا دل جیسے سینے میں ایک لمحے کے لیے ساکت ہو گیا۔ وہ تیز رفتاری جو انٹرنیٹ کی دنیا کا خاصہ ہے ایک دم بریک لگنے سے تھم گئی۔ سکرین پر موجود منظر کسی فلمی المیے کا فرضی حصہ نہیں تھا نہ ہی وہ کسی سٹوڈیو میں کھینچی گئی کوئی بناوٹی تصویر تھی بلکہ وہ ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی اس تلخ، ننگی اور بھیانک حقیقت کا ایک زندہ ثبوت تھا جسے ہم روز دیکھ کر بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔
سکرین پر ایک بوڑھا شخص زمین کی گرد آلود مٹی پر اس طرح بے بسی سے بیٹھا تھا جیسے وہ خود بھی اسی مٹی کا ایک حقیر اور فراموش کردہ حصہ ہو۔ اس کے چہرے کی رنگت دھوپ میں جھلس کر مٹی جیسی ہو چکی تھی اور اس کے سر پر بندھی روایتی پگڑی جو کبھی ہمارے معاشرے میں عزت،وقار اور بزرگانہ مرتبے کی علامت ہوا کرتی تھی اب خود اپنی پامال ہوتی ہوئی عزتِ نفس کی آخری اور خستہ حال فصیل لگ رہی تھی۔ وہ بوڑھا اپنے کانپتے، کمزور اور جھریوں زدہ ہاتھوں میں خشک باسی روٹی کا ایک ٹکڑا تھامے ہوئے تھا اور محض ایک ہری مرچ کے تیز چٹخارے سے اسے اپنے سوکھے ہوئے حلق سے نیچے اتارنے کی ایک ایسی سعیِ لاحاصل کر رہا تھا جو دیکھنے والے کی روح کو اندر تک زخمی کر دے۔ اس تصویر کے نیچے کندہ وہ سفاک، بے رحم اور طنزیہ جملہ کہ اس جون کے بجٹ میں ان پر بھاری ٹیکس لگنا چاہیے یہ فل عیاشی کر رہے ہیں چاہتا تو ایک مرچ سے بھی روٹی کھا سکتا تھا۔ درآمدی سوچ اور بیمار ذہنیت کا وہ بدترین نمونہ تھا جو اس ملک کے پورے معاشی نظام، سیاسی اشرافیہ کی بے حسی اور کچلے ہوئے طبقے کے مابین موجود اس المناک داستان کو آشکار کرتا ہے جو کسی بھی زندہ معاشرے کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے بلکہ اسے پگھلانے کے لیے کافی ہے۔
یہ محض ایک ڈیجیٹل تصویر یا چند پکسلز کا مجموعہ نہیں تھا یہ دراصل اس ملک کی اس خاموش، صابر، شاکر اور پسے ہوئے عوام کی حقیقی اور درناک نمائندگی ہے جو روزانہ اپنے حصے کی بھوک، اپنے بچوں کی محرومی اور اپنی بے بسی کو چبا کر زندہ رہنے کا ایک ایسا ناٹک کرتے ہیں جس کا ڈراپ سین کبھی نہیں ہوتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نام کسی سرکاری دستاویز کسی اعلیٰ سطحی اجلاس یا کسی بیوروکریٹ کی فائل میں صرف کم آمدنی والے یا خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی بے جان فہرستوں میں ایک ہندسے کے طور پر درج ہوتا ہے۔ ان کی کوئی مستقل شناخت نہیں ہوتی ان کا کوئی چہرہ نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کی آواز ایوانِ اقتدار کے بند اور ایئر کنڈیشنڈ کمروں تک پہنچ پاتی ہے۔
اس بوڑھے کے چہرے پر وقت کے تیشے سے کھدی ہوئی گہری جھریاں اور لکیریں صرف گزرتے ہوئے سالوں اور عمر کی طوالت کا کوئی عام اشتہار نہیں تھیں بلکہ یہ ان طویل دہائیوں کی تلخ اور خاموش گواہ تھیں جو اس نے اس مٹی پر اپنا خون پسینہ بہا کر گزاری تھیں۔ یہ لکیریں بتاتی تھیں کہ اس شخص نے تپتی ہوئی چلچلاتی دھوپ میں اپنی ہڈیاں گلائی ہیں اس دھرتی کا پیٹ بھرنے کے لیے کھیتوں سڑکوں یا تعمیراتی سائٹس پر مزدوریاں کی ہیں اور اس ظالم نظام کے ناانصافی کے کوڑے پیٹھ پر کھا کر عمر گزاری ہے مگر جب وہ عمر کے اس آخری حصے میں پہنچا جہاں اسے راحت، سکون، دوائی اور عزت ملنی چاہیے تھی تو صلے کے طور پر اسے دو وقت کا سالن تک نصیب نہیں ہو سکا۔ اسے یہ معاشرہ اس حال میں لے آیا کہ وہ ایک ہری مرچ کے ساتھ خشک نوالہ چبانے پر مجبور ہو گیا۔ یہ تصویر پکار پکار کر کہہ رہی تھی کہ اس ملک کا معاشی اور سماجی ڈھانچہ اندر سے سڑ چکا ہے اور یہاں انسانیت کا جنازہ کب کا نکل چکا ہے۔مگر اسی ملک کا ایک دوسرا رخ بھی ہے ایک ایسا متوازی، ماورائی اور متصادم پاکستان جو اسی زمین پر انہی سڑکوں کے کنارے وجود رکھتا ہے لیکن اس کی دنیا اس بوڑھے کی کائنات سے بالکل الگ، بلکہ زمین اور آسمان کے فرق جیسی ہے۔ یہ وہ پاکستان ہے جہاں محلات کی اونچی اور فلک بوس دیواروں کے پیچھے خاردار تاروں کے سائے میں رہنے والی اشرافیہ کے پالتو جانوروں، کتوں اور بلیوں کے لیے بیرونِ ملک سے امپورٹڈ، برانڈڈ اور مہنگی ترین خوراک ڈالر دے کر منگوائی جاتی ہے۔ جہاں ایک پالتو بلی یا کتے کے ایک وقت کے ناشتے اس کی پروٹین کی ضرورتوں اس کے شیمپو اس کے صابن اور اس کے طبی معائنے پر اتنا اندھا دھند سرمایہ اڑا دیا جاتا ہے جتنا اس ملک کا ایک غریب دہاڑی دار مزدور، ایک ریڑھی بان یا ایک چوکیدار پورے مہینے تپتی دھوپ اور خون جما دینے والی سردی میں اپنا خون پسینہ بہا کر بھی نہیں کما پاتا۔کتنا بڑا اور ہولناک معاشی تضاد ہے اور کتنی عبرت ناک اخلاقی گراوٹ ہے کہ جہاں ایک جیتا جاگتا اشرف المخلوقات انسان زندہ رہنے کے لیے اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے ایک ہری مرچ کا سہارا لینے پر مجبور ہو وہاں اسی دھرتی کے وسائل پر قابض اشرافیہ کے کتوں کے بسکٹ اور کین فوڈ (Can Food) ڈالرز کے عوض پیرس، لندن اور نیویارک سے امپورٹ کیے جا رہے ہوں اور المیہ یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ ان پالتو جانوروں کے مالکان بڑی بے شرمی ڈھٹائی اور تکبر سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر اس دولت اس طرزِ زندگی اور اس عیاشی کی نمائش کرتے ہیں پالتو جانوروں کی سالگرہ کے کیک کاٹے جاتے ہیں جبکہ دوسری طرف اسی ملک کا بچہ رات کو بھوکا سو جاتا ہے۔یہ موازنہ اب صرف امیر اور غریب کے بیچ کے معاشی فرق کا نہیں رہا بلکہ یہ ہمارے پورے معاشرے کے اخلاقی دیوالیہ پن کی آخری اور آخری حد بن چکا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں انسان کی قیمت ایک امیر کے پالتو کتے سے بھی کم ہو چکی ہو، جہاں قانون، ریاست اور حکومت کی تمام تر ترجیحات صرف اور صرف طاقتور طبقے کو تحفظ دینے ان کے کاروبار چمکانے اور ان کی عیاشیوں کو برقرار رکھنے کے گرد گھومتی ہوں وہ معاشرہ تادیر قائم نہیں رہ سکتا۔ ستم ظریفی یہ نہیں ہے کہ اس ملک میں کچھ لوگ امیر ہیں اور کچھ غریب کیونکہ معاشی تفاوت اور طبقاتی فرق دنیا کے ہر دور اور ہر معاشرے میں کسی نہ کسی حد تک رہا ہے اور اسے فطری معاشی عمل کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ اصل ستم ظریفی اصل ظلم اور اصل کرپشن یہ ہے کہ یہاں دولت اور غربت کا یہ خلیج اب ایک ایسے ناسور میں بدل چکا ہے جو غریب سے اس کے جینے کا بنیادی، آئینی اور انسانی حق بھی چھین لینا چاہتا ہے۔ یہ نظام غریب کو اس بات کی اجازت بھی نہیں دینا چاہتا کہ وہ عزت کے ساتھ مر سکے۔جب امیر کی گاڑی کا اے سی غریب کی جھونپڑی کے باہر گرم ہوا پھینکتا ہے اور جب امیر کے کتے کا ڈاکٹر غریب کے بچے کے سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر سے زیادہ مستعد اور مہنگا ہوتا ہے تو وہاں ریاست کا پورا فلسفہ ہی فوت ہو جاتا ہے۔ یہ تضاد روزانہ ہماری سڑکوں پر ناچتا ہے۔ ایک طرف چمکتی ہوئی کروڑوں روپے کی بلٹ پروف گاڑیاں جن کے آگے پیچھے سائرن بجاتی سیکیورٹی کی گاڑیاں ہوتی ہیں جو غریبوں کو سڑک سے اس طرح ہٹا دیتی ہیں جیسے وہ کوئی کیڑے مکوڑے ہوں اور دوسری طرف اسی سڑک کے فٹ پاتھ پر تپتی ہوئی تارکول پر ننگے پاؤں چلتا ہوا وہ بوڑھا جو شام کی روٹی کے لیے چند روپوں کا محتاج ہوتا ہے۔ یہ دو پاکستان اب مزید ایک ساتھ نہیں چل سکتے ان کے درمیان کا فاصلہ اب اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ یہ کسی بھی وقت پورے سماجی ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
جب ایوانِ اقتدار کے ٹھنڈے، ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر، بھاری سرکاری مراعات، مفت بجلی، مفت پٹرول، مفت علاج اور مفت سفر کے مزے لوٹتے ہوئے، بیوروکریسی، وزراء اور سیاستدانوں کے نمائندے ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر آ کر غریب عوام کو "کفایت شعاری” اور "قربانی” کے منافقانہ اور بیہودہ لیکچر دیتے ہیں تو کیا ان کے بیمار ذہنوں میں کبھی اس بوڑھے جیسے کروڑوں انسانوں کا خیال آتا ہے؟ وہ لوگ جو اپنی پوری زندگی میں کفایت شعاری، فاقہ کشی اور محرومی کے سوا کچھ جانتے ہی نہیں جو پیدا ہی محرومی میں ہوتے ہیں اور مر بھی محرومی میں جاتے ہیں انہیں کفایت شعاری سکھانا ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہر روز کسی کریانے کی دکان پر کھڑے ہو کر منٹوں تک یہ حساب لگاتے ہیں کہ آج روٹی کے ساتھ نمک خریدیں، پیاز کا ایک چھوٹا ٹکڑا لیں یا محض ایک ہری مرچ پر گزارا کر کے باقی کے پیسے بچوں کی سکول کی فیس یا گھر کے کرایے کے لیے بچائیں ایسے پسے ہوئے طبقے کو ٹی وی پر بیٹھ کر یہ کہنا کہ عوام کو اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہئیں یا چائے کی ایک پیالی کم کر دینی چاہیے دراصل ان کی بھوک، ان کی تذلیل اور ان کی بے بسی کا انتہائی بے شرمانہ تمسخر اڑانے کے مترادف ہے۔بوجھ اس ملک کے خزانے پر یہ غریب عوام، یہ دہاڑی دار مزدور، یہ کسان اور یہ بوڑھے پینشنرز نہیں ہیں جو مہنگائی کے اس بدترین اور تاریخی دور میں بھی اپنی سوکھی روٹی، آٹے کی تھیلی، گھی کے پیکٹ اور ماچس کی ڈبیا پر بالواسطہ (Indirect) ٹیکس دے کر اس ریاست کا سارا شاہانہ نظام چلا رہے ہیں۔ غریب تو وہ ایندھن ہے جس کو جلا کر یہ ریاست اپنی بقا کا جشن منا رہی ہے۔ اصل بوجھ وہ مراعات یافتہ طبقہ ہے، وہ جاگیردار ہیں، وہ وڈیرے ہیں، وہ سرمایہ دار ہیں اور وہ بیوروکریٹس ہیں جنہوں نے اس ملک کے تمام وسائل کو اپنی خاندانی جاگیر اور مالِ غنیمت سمجھ رکھا ہے۔بوجھ وہ اشرافیہ ہے جن کے دسترخوانوں پر ہر روز انواع و اقسام کے قیمتی، لذیذ پکوان، دیسی اور غیر ملکی کھانے سجے ہوتے ہیں جہاں آدھے سے زیادہ کھانا صرف اس لیے کچرے کے ڈھیر کی نذر کر دیا جاتا ہے کہ وہ باسی ہو چکا تھا یا اس کا ذائقہ ان کے نازک مزاج کے مطابق نہیں تھا جبکہ اسی کچرے کے ڈھیر کے باہر، رات کے اندھیرے میں، بھوکے، ننگے بچے اور مایوس آنسو بہاتا ہوا باپ اپنے خاندان کے لیے روٹی کا کوئی صاف ٹکڑا تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ تضاد جب کسی معاشرے میں عام ہو جائے تو وہاں خدا کا عذاب دور نہیں رہتا۔ اشرافیہ کے پالتو جانوروں کا شاہانہ لائف سٹائل اور غریب کے بچوں کا کچرے سے رزق تلاش کرنا اس ملک کے مروجہ معاشی قوانین اور پالیسیوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔
بجٹ کے اس موسم میں جب ایوانوں میں ٹیکسوں کے ہندسوں کا ہیر پھیر کیا جاتا ہے جب بڑے بڑے معاشی ماہرین ٹی وی پر بیٹھ کر جی ڈی پی (GDP) مالیاتی خسارے اور بیلنس آف پیمنٹ کی پیچیدہ اصطلاحات کا استعمال کرتے ہیں اور جب بین الاقوامی مالیاتی اداروں (IMF) کو خوش کرنے کے لیے غریب کی تھالی پر آخری شب خون مارا جاتا ہے تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ یہ سوال ہر ذی شعور انسان کے ذہن میں اٹھتا ہے کہ اگر اس بوڑھے کی اس ایک مرچ اور خشک روٹی پر بھی بالواسطہ ٹیکس لگا دیا جائے تو وہ کیا کرے گا؟ وہ کہاں جائے گا؟ وہ کس سے فریاد کرے گا؟ وہ بوڑھا شاید کچھ بھی نہیں کرے گا کیونکہ وہ تو پہلے ہی اس ظالم، سفاک اور سرمایہ دارانہ نظام کے دیے ہوئے ہر ٹیکس کی بھٹی سے گزر کر کوئلہ اور راکھ ہو چکا ہے۔ اس نے مہنگائی کا ٹیکس دیا ہے جس نے اس کی کمر توڑ دی اس نے بے روزگاری کا ٹیکس بھرا ہے جس نے اس کے جوان بیٹوں کو بے کار کر دیا اس نے ہسپتالوں میں ادویات کی عدم دستیابی اور ڈاکٹروں کی بے حسی کی صورت میں اپنے معصوم بچوں کی موت کا سب سے بھاری ٹیکس دیا ہے اور اس نے اس ملک کے حکمرانوں کی مسلسل بے حسی، ناانصافی اور ظلم کا وہ ٹیکس بھی ادا کیا ہے جس کا کوئی حساب کسی بجٹ بک کسی فنانس بل یا کسی سرکاری دستاویز میں موجود ہی نہیں ہوتا۔ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ اس بوڑھے نے ایک مرچ کے ساتھ روٹی کیوں کھائی نہ ہی اصل سوال یہ ہے کہ وہ زمین پر کیوں بیٹھا تھا۔ بلکہ اصل، بنیادی اور کلیدی سوال یہ ہے کہ اس ملک کی مٹی اتنی زرخیز ہونے کے باوجود, اس کے دریاؤں میں پانی ہونے کے باوجود,اس کے پہاڑوں میں سونے، تانبے اور کوئلے کے وسیع ذخائر ہونے کے باوجود اور اس کے خزانے غریبوں کے خون پسینے کے ٹیکسوں سے بھرے ہونے کے باوجود یہاں کی کروڑوں عوام کو اس حال تک کیوں پہنچا دیا گیا ہے؟ انہیں ایک ہری مرچ پر گزارا کرنے پر کس نے مجبور کیا؟ وہ کون سے چہرے ہیں جو اس معاشی دہشت گردی کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں؟
جب تک کسی حکمران، کسی جج، کسی سیاستدان، کسی جرنیل اور کسی مقتدرِ اعلیٰ کے ضمیر میں یہ سوال ایک بنجر زمین کی طرح نہیں چبھے گا جب تک ان کی راتوں کی نیندیں اس بوڑھے کی بے بسی کو دیکھ کر حرام نہیں ہوں گی اور جب تک وہ اس بوڑھے کی آنکھوں میں جھانک کر اپنی قومی، آئینی اور سب سے بڑھ کر اخلاقی ذمہ داری کا احساس نہیں کریں گے تب تک ترقی کے تمام دعوے جی ڈی پی کے بڑھتے ہوئے جھوٹے اور بناوٹی اعداد و شمار آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب مذاکرات کی نویدیں اور معاشی استحکام کی خوشنما اور سحر انگیز تقریریں صرف اور صرف الفاظ کا ایک بے معنی ڈھیر رہیں گی جن سے نہ تو کسی غریب کا پیٹ بھر سکتا ہے، نہ کسی یتیم کے سر پر چھت آ سکتی ہے اور نہ ہی کسی مظلوم کے آنسو پونجھے جا سکتے ہیں۔ الفاظ سے پیٹ نہیں بھرتا پیٹ روٹی سے بھرتا ہے اور روٹی اس نظام نے غریب سے چھین لی ہے۔
تاریخ کا یہ ایک اٹل، مستقل اور بے رحم فیصلہ ہے جس سے نہ تو کوئی قوم آج تک بچ سکی ہے اور نہ کبھی بچ پائے گی کہ جو قومیں اپنے کمزوروں، یتیموں، مسکینوں اور غریبوں کو کچل کر ان کا استحصال کر کے صرف اپنے امیروں کے مفادات، ان کی تجوریوں، ان کے کارخانے اور ان کے پالتو جانوروں کی عیاشیوں کو تحفظ فراہم کرتی ہیں وہ کبھی دنیا کے نقشے پر باعزت نہیں ہو سکتیں اور ان کا انجام ہمیشہ داخلی انتشار، خانہ جنگی، اخلاقی پستی اور حتمی تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔ روم کی سلطنت سے لے کر فرانس کے انقلاب تک تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں جب بھوک نے محلات کے دروازوں پر دستک دی تو پھر بڑے بڑے تاج اور تخت ہوا میں تنکوں کی طرح اڑ گئے۔
قوموں کی عظمت کا اصل پیمانہ ان کے حکمرانوں کے شاہانہ اور فرعونی لائف سٹائل، ان کے پروٹوکول کی لمبائی، ان کی بلٹ پروف گاڑیوں کے لمبی قطاروں، ان کے پاس موجود ایٹمی ہتھیاروں یا ان کے شہروں میں بنے بڑے بڑے عیاشی کے شاپنگ مالز اور ہاؤسنگ سوسائٹیز سے نہیں لگایا جاتا۔ یہ سب تو محض فرعونی تفاخر کے مظاہر ہیں۔ قوموں کی عظمت کا اصل، حقیقی اور خدائی پیمانہ یہ ہوتا ہے کہ اس معاشرے کے غریب ترین، ضعیف ترین، یتیم ترین اور بے سہارا انسان کو دو وقت کی عزتِ نفس کے ساتھ روٹی، پینے کا صاف پانی، سستی اور بروقت دوا اور سر چھپانے کے لیے ایک محفوظ چھت میسر ہے یا نہیں۔ اگر ریاست اپنے کمزور ترین شہری کو یہ تحفظ نہیں دے سکتی تو اسے ریاست کہلانے کا کوئی حق نہیں، وہ محض ایک طاقتور گروہ کا قبضہ ہے۔اور جب کسی ملک میں انسان اپنی بھوک مٹانے کے لیے مٹی پر بیٹھ کر مرچ چبا رہا ہو اور دوسری طرف سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے پالتو کتے امپورٹڈ برانڈز کے بسکٹوں پر پل رہے ہوں تو وہاں مسئلہ صرف معاشی بحران، ڈالر کی کمی یا غربت کا نہیں رہتا بلکہ وہ اس بات کی حتمی، سچی اور ننگی گواہی ہوتی ہے کہ اس معاشرے کا اجتماعی ضمیر مکمل طور پر مر چکا ہے اس کا جنازہ اٹھ چکا ہے اور وہ اخلاقی طور پر ایک بنجر، مردہ اور ملعون معاشرہ بن چکا ہے۔ ایسے معاشرے پر خدا کی رحمتیں نازل نہیں ہوتیں بلکہ وہاں صرف اور صرف زوال کا اندھیرا چھا جاتا ہے۔
اس بوڑھے شخص کا زمین پر بیٹھ کر، روایتی پگڑی سر پر سجائے، مرچ کے ساتھ روٹی کھانا دراصل اس پورے فرسودہ، کرپٹ، ظالمانہ اور انسان دشمن نظام کے خلاف ایک خاموش لیکن سب سے بڑا، کاٹ دار اور کاری احتجاج ہے۔ وہ کسی چوک پر کھڑے ہو کر نعرے نہیں لگا رہا وہ کسی سرکاری عمارت پر پتھراؤ نہیں کر رہا، وہ کسی ٹی وی شو میں بیٹھ کر دہائیاں نہیں دے رہا لیکن اس کی یہ خاموشی اس ملک کے پورے ڈھانچے کے لیے ایک بم سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس کی خاموشی میں وہ تمام شکوے، وہ تمام تلخ آہیں اور وہ تمام بددعائیں پوشیدہ ہیں جو وہ اس اشرافیہ کے منہ پر مار رہا ہے جس نے اس کے منہ کا آخری نوالہ تک چھین لیا ہے۔ وہ مائیں جو اپنے بچوں کو بھوک کی شدت سے تڑپتا دیکھ کر انہیں دودھ کی بجائے پانی پلا کر اور لوریاں دے کر سلاتی ہیں وہ بوڑھے باپ جو ادویات کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ہسپتالوں کے سرد اور گندے فرش پر اپنے جوان بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دم توڑتے دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں کر پاتے اور وہ سفید پوش اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان جو ڈگریاں ہاتھوں میں لیے جوتیاں چٹخاتے ہوئے در در کی خاک چھاننے کے بعد مایوسی کے اندھیرے میں ڈوب کر خودکشیوں پر مجبور ہو جاتے ہیں وہ سب اسی ایک ظالم اور اندھے نظام کے ستائے ہوئے ہیں۔ یہ نظام انسانوں کو انسان نہیں بلکہ صرف ایک مشین کا پرزہ سمجھتا ہے جسے جب تک چاہو استعمال کرو اور پھر کچرے میں پھینک دو۔اشرافیہ کا یہ طبقہ جو اربوں روپے کی ٹیکس چوری کر کے، غریبوں کا خون نچوڑ کر لندن کے مے فیئر، دبئی کے پام جمیرا اور نیویارک کے مہنگے ترین علاقوں میں جائیدادیں بناتا ہے جن کی نسلیں بیرونِ ملک عیش و عشرت کی زندگی گزارتی ہیں اور جنہیں اردو بولنے میں بھی شرم آتی ہے انہیں کبھی اندازہ ہی نہیں ہو سکتا کہ بھوک کی تپش کیا ہوتی ہے ۔انہیں کیا معلوم کہ جب بچہ بھوک سے روتا ہے تو باپ کے دل پر کیا گزرتی ہے انہیں کیا پتا کہ خشک پتھر جیسی روٹی کو حلق سے اتارنا کتنا بڑا عذاب ہوتا ہے کیونکہ ان کے دل تو مادہ پرستی، اندھے تکبر اور خودغرضی کی وجہ سے پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو چکے ہیں۔
ریاستِ مدینہ کا مقدس نام لے کر تقدس کی آڑ میں عوام کو بے وقوف بنانے والے ان کے جذبات سے کھیلنے والے حکمران اگر واقعی اپنے دعووں میں سچے ہوتے اگر ان کے اندر خوفِ خدا کا ایک ذرہ بھی موجود ہوتا تو انہیں امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا وہ سنہرا تاریخی اور روح فرسا اصول یاد ہوتا کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو قیامت کے دن عمر اس کا جوابدہ ہوگا۔لیکن یہاں تو فرات کے کنارے نہیں بلکہ اسلام کے نام پر بننے والی اس دھرتی پر لاکھوں جیتی جاگتی انسانی جانیں، معصوم بچے اور بوڑھے بھوک سے بلک رہے ہیں سسک رہے ہیں ادویات نہ ملنے پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے ہیں اور غربت سے تنگ آ کر اپنے بچوں سمیت نہروں میں چھلانگیں لگا رہے ہیں مگر ہمارے حکمران طبقے کی عیاشیوں، ان کے پٹرول کے کوٹے، ان کے غیر ملکی تفریحی دوروں اور ان کی شاہانہ مراعات میں ایک دھیلے کی بھی کمی نہیں آتی۔ یہ کیسی ریاستِ مدینہ ہے جہاں عمرؓ کا اصول صرف تقریروں کے لیے ہے اور عمل فرعون جیسا ہے؟
معیشت کا اصل مقصد، اس کا بنیادی فلسفہ اور اس کی روح کبھی بھی صرف ہندسوں کا ہیر پھیر، بجٹ کے خسارے کو کاغذات پر کم دکھانا، یا بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے سامنے سرخرو ہو کر واہ واہ سمیٹنا نہیں ہوتا۔ معیشت کوئی ریاضی کا خشک کھیل نہیں ہے معیشت کا اصل کام اس کا حقیقی مقصد انسانوں کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنا ان کی معاشی سطح کو بلند کرنا اور انہیں ایک باوقار محفوظ اور خوشحال زندگی گزارنے کے وسائل اور مواقع فراہم کرنا ہے۔ معیشت انسان کے لیے ہوتی ہے انسان معیشت کے لیے نہیں ہوتا۔لیکن جب قانون اور معیشت کا نظام انسانوں کو بھوکا مارنے لگے جب وہ غریب سے اس کا نوالہ چھین کر امیر کی تجوری میں ڈالنے لگے جب قانون صرف کمزور کو جکڑنے اسے سزا دینے اور اسے ٹیکس کے بوجھ تلے دبانے کے لیے استعمال ہو اور طاقتور، چور اور لٹیرے کو ہر جرم، ہر کرپشن اور ہر ٹیکس چوری کی کھلی چھوٹ دے دی جائے تو وہ نظامِ معیشت نہیں رہتا۔ وہ ایک منظم، قانونی اور سرکاری ڈاکو راج بن جاتا ہے جہاں ریاست خود اس لوٹ مار کی سرپرستی کر رہی ہوتی ہے اور قانون اس لوٹ مار کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
اس بوڑھے کی تصویر ہمارے لیے محض ایک سوشل میڈیا پوسٹ نہیں ہونی چاہیے جس پر ہم اپنے بستروں میں لیٹ کر اے سی کی ٹھنڈی ہوا میں چند منٹ افسوس کا اظہار کریں ایک ‘سیڈ’ (Sad) ایموجی لگائیں لائیک یا شیئر کریں اور پھر اپنی روایتی اور خودغرضانہ زندگیوں میں مگن ہو جائیں۔ بلکہ یہ تصویر ہم سب کے لیے خاص طور پر اس ملک کے مڈل کلاس (متوسط) طبقے کے لیے ایک بہت بڑا، ہولناک اور سنگین لمحہ فکریہ ہے جو صرف اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات، اپنی نوکریوں، اپنے پلاٹوں اور اپنے ذاتی سکون کے تحفظ کے لیے اس اشرافیہ کے بچھائے ہوئے جال کا حصہ بنا ہوا ہے اور غریبوں کی اس حالت پر آنکھیں بند کیے بیٹھا ہے۔جب تک اس ملک کا ہر شعور رکھنے والا انسان، ہر وہ شخص جس کے سینے میں ایک دھڑکتا ہوا انسانی دل موجود ہے جس کی آنکھوں میں حیا اور غیرت باقی ہے اس نظامِ انصاف کی ناکامی، اس طبقاتی تقسیم اور اس معاشی دہشت گردی کے خلاف قانون کے دائرے میں رہ کر آواز نہیں اٹھائے گا جب تک ہم اس ظلم کے خلاف ایک دیوار نہیں بنیں گے تب تک یہ تضاد اسی طرح بڑھتا رہے گا غریبوں کا خون اسی طرح نچوڑا جاتا رہے گا اور ایک دن یہ آگ ہمارے اپنے گھروں تک بھی پہنچ جائے گی۔ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو وہ کسی کا پتہ نہیں پوچھتا وہ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے انصاف کا جنازہ دیکھیے کہ جو غریب عوام صبح صادق سے لے کر شام کے اندھیرے تک ہڈیاں توڑ مشقت کرتے ہیں، تپتے ہوئے تندوروں پر روٹیاں لگاتے ہیں، سڑکوں پر جھاڑو دیتے ہیں، کارخانوں میں زہریلے دھوئیں کے بیچ کام کرتے ہیں اور آٹا، چینی، گھی، نمک، چائے کی پتی، ماچس اور پٹرول خریدتے وقت اپنی خالی جیب سے ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکس ادا کر کے اس ملک کا خزانہ بھرتے ہیں انہیں ہی سرکاری ہسپتالوں میں ایک ایک گولی کے لیے ذلیل و خوار کیا جاتا ہے ان کے بچوں کے لیے اچھے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہیں اور ان کے پینے کے لیے صاف پانی تک میسر نہیں۔ غریب ٹیکس دیتا ہے تاکہ ریاست کا پہیہ چلے لیکن ریاست اس پہیے کے نیچے غریب کو ہی کچل دیتی ہے۔
دوسری طرف وہ طبقہ جو ایک روپے کا ٹیکس نہیں دیتا جو اربوں روپے کی سبسڈیز ڈکار جاتا ہے جو ٹیکس چوری کو اپنا حق سمجھتا ہے وہ ملک کے تمام وسائل پر سانپ بن کر بیٹھا ہے اور مفت پٹرول، مفت بجلی، مفت شاندار علاج، مفت ہوائی سفر اور وی آئی پی پروٹوکول کے مزے اڑا رہا ہے۔ یہ کیسا قانون ہے؟ یہ کیسا آئین ہے؟ اور یہ کیسا انصاف ہے جہاں خون دینے والا، پسینہ بہانے والا پیاسا مر رہا ہو اور خون چوسنے والا، مکھیاں مارنے والا عیش کی بانسری بجا رہا ہو؟ کیا اسی نظام کو قائم رکھنے کے لیے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا؟ کیا ہمارے بزرگوں نے اسی لیے قربانیاں دی تھیں کہ ایک دن انسان مرچ سے روٹی کھائے گا اور اشرافیہ کے کتے ڈالر کی خوراک کھائیں گے؟
اگر ہمارے حکمران، ہمارے سیاستدان، ہمارے جج اور ہمارے مقتدر حلقے اس بوڑھے کو اور اس جیسے کروڑوں انسانوں کو ان کا بنیادی، قانونی اور سب سے بڑا انسانی حق، یعنی دو وقت کی عزت والی، بغیر مانگے والی روٹی نہیں دے سکتے، تو انہیں ان عالی شان ایوانوں پر قابض رہنے کا، اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھنے کا، غریبوں کے نام پر اربوں ڈالر کے قرضے لینے کا اور عوام کے مستقبل کے فیصلے کرنے کا کوئی اخلاقی، قانونی یا آئینی حق حاصل نہیں ہے۔ کیونکہ اسلام اور جدید دنیا کا اصول ہے کہ اقتدار ایک امانت ہوتا ہے اور جو اس امانت میں خیانت کرے جو عوام کو بھوکا مارے اور خود عیش کرے وہ خائن کہلاتا ہے اور خائن سزا کا مستحق ہوتا ہے اقتدار کا نہیں۔ہمیں اب باتوں کے لامتناہی تسلسل، بجٹ کے کھوکھلے، بناوٹی اور دروغ گوئی پر مبنی دعووں اور خوشحالی کے منافقانہ اعلانات کے سحر سے نکل کر اس تلخ، ننگی اور ہولناک حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ یہ معاشرہ ایک بہت بڑے سماجی دھماکے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بھوک جب حد سے بڑھ جاتی ہے جب فاقہ کشی انسان کے حواس پر قابض ہو جاتی ہے اور جب باپ اپنے بچوں کو بھوک سے مرتا دیکھتا ہے تو وہ کسی قانون کو نہیں مانتا وہ کسی ضابطے، کسی عدالت اور کسی سرحد کو تسلیم نہیں کرتا۔ بھوک تمام قوانین کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ اس بوڑھے شخص کی سفید، محترم داڑھی، اس کی عمر رسیدہ، مایوس لیکن سوالیہ آنکھیں اور اس کی مٹی پر رکھی تھالی میں موجود وہ اکیلی ہری مرچ اس ملک کے ہر اس شخص سے، ہر اس صاحبِ ثروت سے، ہر اس بیوروکریٹ سے اور ہر اس حکمران سے جو اقتدار اور دولت کے نشے میں چور ہے، یا جو بے حسی کی چادر تان کر سویا ہوا ہے ایک ایسا سوال کر رہی ہے جس کا جواب ہمارے پاس نہیں ہے کہ آخر میرا قصور کیا ہے؟ میں نے تو پوری زندگی اس مٹی کو اپنا خون دیا میں نے تو کبھی چوری نہیں کی پھر عمر کے اس آخری حصے میں مجھے یہ سزا کیوں مل رہی ہے؟
جب تک ہم ایک ایسا منصفانہ، عادلانہ اور انسانیت پر مبنی نظام قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے جہاں انسان اور جانور کے بیچ کا یہ شرم ناک، عبرت ناک اور سفاک فرق ہمیشہ کے لیے ختم نہ ہو جائے جہاں امیر کے کتے امپورٹڈ خوراک پر نہ پلیں جبکہ غریب کے معصوم بچے دودھ کی ایک ایک بوند کو ترس کر نہ مریں تب تک ہماری تمام تر آزادیاں ہمارے تمام قومی تہوار ہمارے تمام جشنِ آزادی ہماری تمام تر ایٹمی طاقت اور ہماری تمام تر معاشی کامیابیاں بالکل کھوکھلی، بے معنی، جھوٹی اور منافقانہ ہیں جن پر فخر کرنا بذاتِ خود انسانیت کے خلاف ایک بہت بڑا گناہ ہے۔
معاشرے کی اصلاح کا آغاز اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک ہم اپنے نظامِ ٹیکس کو منصفانہ نہیں بناتے۔ جب تک اشرافیہ سے ٹیکس لے کر غریب پر خرچ نہیں کیا جاتا۔ ہمیں ایک ایسی اصلاحی تحریک کی ضرورت ہے جو صرف حکومت تبدیل کرنے کے لیے نہ ہو بلکہ اس گندے اور فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہو۔ ہمیں اپنے تعلیمی، معاشی اور عدالتی نظام میں ایسی انقلابی تبدیلیاں لانی ہوں گی جہاں پہلا حق اس بوڑھے کا ہو جہاں ریاست غریب کی سرپرست بنے جہاں ہسپتالوں میں غریب کو وی آئی پی علاج ملے اور جہاں امیر اپنی عیاشیوں کا ٹیکس خود اپنی جیب سے بھرے۔ ہمیں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھنا چاہیے نہ ہی ہمیں خاموش رہنا چاہیے جب تک اس ملک کے آخری غریب، ضعیف اور بے سہارا انسان کو بھی وہ تمام حقوق میسر نہ ہوں جو اس کا بنیادی اور خداداد حق ہیں۔ یاد رکھیے خدا کا مائیکرو اسکوپ اور اس کا ترازو ہر ایک پر لگا ہوا ہے۔ وہ سب دیکھ رہا ہے وہ پالتو جانوروں کے بسکٹ بھی دیکھ رہا ہے اور اس بوڑھے کی ہری مرچ بھی دیکھ رہا ہے۔ اور جب وہاں اس شہنشاہوں کے شہنشاہ کی عدالت میں حساب کا وقت آئے گا تو غریب کی تھالی کی یہ ایک ہری مرچ اور اس کی آنکھ سے ٹپکا ہوا یہ ایک آنسو اس پورے ظالم نظام، اس کے محلات اور اس کے فرعونوں کو ملیا میٹ کرنے کے لیے کافی ہوگا۔ اصلاح کا وقت اب ہے ورنہ تاریخ کا اگلا صفحہ بہت بے رحم ہوگا





