ستمبر 19, 2026

سندھ طاس معاہدہ: عالمی ثالثی عدالت کا ذخیرہ آب پر بڑا فیصلہ، حکومتِ پاکستان کا بھرپور اطمینان اور خیر مقدم

حکومتِ پاکستان نے بھارت کے متنازع رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ اور کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے ڈیزائن کے حوالے سے عالمی ثالثی عدالت کے 15 مئی کو جاری کیے گئے ضمنی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس پر بھرپور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت جاری اس اہم ترین قانونی کارروائی میں عالمی ثالثی عدالت نے زیادہ سے زیادہ ذخیرہ آب (پانی کے کنٹرول) سے متعلق ایک تاریخی فیصلہ دیا ہے۔ پاکستانی حکومت کے ترجمان اور جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بھارت کی پانی کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت پر سخت حدود اور واشگاف پابندیاں عائد کرتا ہے۔

حکومتِ پاکستان کے اعلامیے کے مطابق عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کسی بھی ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے میں ذخیرہ آب کا جواز صرف اور صرف حقیقی منصوبہ جاتی ضروریات سے ہی مشروط ہو سکتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بھارت میں نصب شدہ صلاحیت حقیقت پسندانہ اور مضبوط عملی بنیادوں پر ہونی چاہیے اور اس کا متوقع لوڈ پاور سسٹم کی حقیقی ضرورت کے مطابق ہونا لازم ہے۔ ثالثی عدالت نے بھارت کے فرضی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے رولنگ دی ہے کہ نئی دہلی سرکار محض مفروضوں یا فرضی آپریشنل دعووں کی بنیاد پر دریاؤں کے ذخیرہ آب میں من مانا اضافہ ثابت نہیں کر سکتی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کا پیراگراف 15 بدستور ایک آپریشنل پابندی کے طور پر قائم ہے، جس میں اخراجِ آب کی سخت شرط موجود ہے اور یہ شرط پانی کنٹرول کرنے کے کسی بھی بھارتی جواز کا متبادل نہیں بن سکتی۔

اعلامیے کے مطابق عالمی عدالت نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ بھارت پر لازم ہے کہ وہ پاکستان کو منصوبوں کے تکنیکی جائزے کے لیے مکمل اور شفاف معلومات فراہم کرے، کیونکہ ناکافی معلومات کی صورت میں بھارت دریاؤں پر زیادہ سے زیادہ ذخیرہ آب کا جواز ثابت کرنے میں مکمل ناکام رہے گا۔ اس کے علاوہ عدالت نے یہ بھی کہا کہ کم از کم بہاؤ کی ذمہ داری ذخیرہ آب کے حساب کتاب میں لازمی شامل ہوگی، اور چونکہ ثالثی عدالت کے فیصلے تمام فریقین پر لازم ہوتے ہیں، اس لیے یہ بعد میں آنے والے تمام فورمز پر رہنما اثر رکھیں گے۔ پاکستان اب ان قانونی تشریحات کو ‘نیوٹرل ایکسپرٹ فورم’ کے سامنے معاہدے کے طے شدہ ضابطوں کے مطابق پیش کرے گا، جبکہ حکومتِ پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ تمام قانونی و سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے مغربی دریاؤں پر بھارتی منصوبوں کی معاہداتی پابندی کو یقینی بنائے گی کیونکہ یہ فیصلہ پاکستان کے مؤقف کو سائنسی، ہائیڈرو لوجیکل اور اسٹریٹجک بنیادوں پر مزید مضبوط کرتا ہے۔