اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے باقاعدہ دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی افواج اب غزہ کی پٹی کے 60 فیصد حصے پر مکمل کنٹرول حاصل کر چکی ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نیتن یاہو کا یہ بیان اس بات کا پہلا سرکاری اعتراف ہے کہ اسرائیلی فوج نے طے شدہ جنگ بندی منصوبے کی حدود سے آگے بڑھتے ہوئے غزہ میں مزید علاقوں پر ناجائز قبضہ جما لیا ہے۔ یہ تشویشناک بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی بربریت اور تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور جنگ بندی کو مستقل بنانے اور جنگ کے خاتمے کی تمام عالمی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔
اپنی تقریر میں نیتن یاہو نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ "گزشتہ دو برسوں میں ہم نے دنیا کو دکھایا کہ ہماری قوم، ریاست، فوج اور ورثے میں کتنی طاقت موجود ہے۔ ہم اپنے تمام یرغمالیوں کو واپس لے آئے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ غزہ سے نکل جاؤ، لیکن ہم نہیں نکلے اور آج ہم 60 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتے ہیں”۔ واضح رہے کہ اکتوبر سے امریکی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج کو غزہ میں ایک مخصوص "ییلو لائن” (زرد لکیر) تک محدود رہنا تھا، جس کے تحت اس کا کنٹرول 50 فیصد سے کچھ زائد رقبے پر بنتا تھا، تاہم اب اسرائیلی فوج ایک نئی "اورنج لائن” (نارنجی لکیر) کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے اپنے دائرہ کار کو مزید بڑھا رہی ہے، جس سے خطے میں امن کی امیدیں مزید دم توڑ گئی ہیں۔





