حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں کے حوالے سے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی کمیٹی بنانے کی تجویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ اس مقصد کے لیے کسی بھی کمیٹی کی تشکیل کی کوئی گنجائش نہیں ہے، کیونکہ قانون اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ جیل میں ہونے والی ان ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ رانا ثنا اللہ کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جیل میں بہترین طبی سہولیات اور علاج مہیا کیا جا رہا ہے، اور اگر اپوزیشن کو لگتا ہے کہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو وہ عدالتِ عالیہ (ہائی کورٹ) سے رجوع کرے۔
دوسری جانب، قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بھی اس معاملے پر حکومت کا سخت موقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا معاملہ کوئی ایسا سیاسی مسئلہ نہیں ہے جس پر ایوان (پارلیمنٹ) کوئی یقین دہانی کرائے۔ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی صحت سے متعلق کوئی بھی معاملہ ہو، حکومت اس کی پوری نگرانی کر رہی ہے۔ اپوزیشن کے اس اعتراض پر کہ عمران خان کو رات کے وقت ہسپتال کیوں منتقل کیا گیا، طارق فضل چوہدری نے کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ "میڈیکل ایمرجنسی کبھی بھی وقت پوچھ کر نہیں آتی۔”





