اکتوبر 28, 2026

نیویارک ٹائمز کا بڑا انکشاف؛ ایران کی میزائل طاقت اب بھی برقرار، امریکی حملوں کے نقصانات سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے دعوے غلط ثابت

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی انٹیلی جنس اداروں کی خفیہ رپورٹس کے حوالے سے ایک سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ ایران اپنی میزائل صلاحیتوں کو بڑی حد تک برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے، جو ٹرمپ انتظامیہ کے ان دعووں کے بالکل برعکس ہے جن میں ایرانی فوجی طاقت کو شدید نقصان پہنچانے کی باتیں کی گئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب واقع اپنے 33 میں سے 30 میزائل اڈوں تک دوبارہ رسائی حاصل کر لی ہے، جو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے امریکی جنگی جہازوں اور عالمی تیل بردار ٹینکروں کے لیے ایک مستقل اور سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس کا یہ نیا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو پہنچنے والے نقصانات کا اندازہ لگانے میں امریکی قیادت سے بڑی غلطی ہوئی ہے۔

خفیہ رپورٹ میں مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایران نے مختلف میزائل اڈوں پر ہونے والی تباہی کے باوجود موبائل لانچرز کے ذریعے میزائلوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی بھرپور صلاحیت برقرار رکھی ہوئی ہے، جبکہ کئی مقامات سے براہ راست حملے اب بھی ممکن ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ایران کے پاس اب بھی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ذخائر اور اتنے ہی موبائل لانچرز موجود ہیں۔ پورے ملک میں موجود میزائل تنصیبات میں سے صرف تین اڈے مکمل طور پر غیر فعال ہوئے ہیں، جو ایران کی عسکری لچک کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر اور جدید نگرانی کے ذرائع کی بنیاد پر تیار کی گئی اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران نے ملک بھر میں اپنی تقریباً 90 فیصد زیرِ زمین میزائل ذخیرہ گاہوں اور لانچنگ تنصیبات تک دوبارہ رسائی حاصل کر لی ہے، جو اس وقت جزوی یا مکمل طور پر فعال حالت میں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس کے یہ نئے نتائج ثابت کرتے ہیں کہ امریکا نے نہ صرف ایران کی میزائل قوت کو پہنچنے والے نقصان کا غلط اندازہ لگایا، بلکہ تباہ شدہ تنصیبات کو انتہائی مختصر وقت میں دوبارہ فعال کرنے کی ایرانی مہارت کو بھی بری طرح نظر انداز کیا۔ یہ صورتحال خطے میں امریکی حکمتِ عملی اور مستقبل کے دفاعی چیلنجز پر بڑے سوالات کھڑے کر رہی ہے۔