اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ایک انتہائی اہم اور حیرت انگیز بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کا ایک خفیہ دورہ کیا، جہاں انہوں نے اماراتی صدر سے ملاقات کی۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ اس بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس خفیہ دورے کے نتیجے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے سفارتی و تزویراتی تعلقات میں "تاریخی پیش رفت” ہوئی ہے، جو خطے کی سیاست پر دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس دورے کے ساتھ ساتھ پسِ پردہ عسکری تعاون کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں، جن کی تصدیق اب امریکی حکام کی جانب سے بھی کی جا رہی ہے۔ ان اطلاعات کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو اپنا جدید ترین فضائی دفاعی نظام ‘آئرن ڈوم’ اور اسے چلانے کے لیے باقاعدہ فوجی اہلکار بھی فراہم کیے تھے۔ مزید برآں، اسرائیلی خفیہ ایجنسی ‘موساد’ کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے بھی جنگ کے دوران کم از کم دو مرتبہ امارات کے خفیہ دورے کیے تاکہ سیکورٹی تعاون کو حتمی شکل دی جا سکے۔
میڈیا رپورٹس میں ایک اور سنسنی خیز انکشاف یہ کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون صرف دفاع تک محدود نہیں رہا بلکہ مبینہ طور پر ایک بڑی ایرانی پیٹروکیمیکل سائٹ پر حملے کے لیے بھی باہمی اشتراکِ عمل کیا گیا۔ انکشافات کے مطابق اس مشترکہ کارروائی کا مقصد جنگ کے دوران ایران کی معاشی اور صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔ ان خبروں نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نیا ارتعاش پیدا کر دیا ہے، کیونکہ اس سے پہلے ایران اور اسرائیل کی جنگ کے دوران خلیجی ممالک کے کردار کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔





