اکتوبر 29, 2026

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا بجلی کی قیمتوں پر واضح جواب سے گریز، آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کی منظوری کا کل انتظار

اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اہم اجلاس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے یا کمی سے متعلق پوچھے گئے سوالات پر واضح جواب دینے سے گریز کیا ہے۔ کمیٹی ارکان کی جانب سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا بجلی پر دی جانے والی سبسڈی ختم کی جا رہی ہے، تو وزیر خزانہ نے براہِ راست جواب دینے کے بجائے کہا کہ وزیر توانائی اویس لغاری اور خود وزیراعظم اس معاملے پر مسلسل کام کر رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں بجلی کی سبسڈی کے موضوع پر مزید تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ تاہم، جب ان سے دو ٹوک پوچھا گیا کہ بجلی سستی ہوگی یا مہنگی، تو انہوں نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ وہ اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔

اجلاس کے دوران آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے بتایا کہ آئی ایم ایف بورڈ کا اہم اجلاس کل منعقد ہوگا جس میں پاکستان کے لیے قرض کی منظوری پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اپنی جانب سے تمام اہداف مکمل کر لیے ہیں، تاہم قرض کی حتمی منظوری کا تمام تر انحصار اب آئی ایم ایف بورڈ کے فیصلے پر ہے۔ وزیر خزانہ کے اس مبہم موقف کے بعد بجلی کی قیمتوں کے حوالے سے عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے بجلی کی قیمتوں میں ردوبدل کا ارادہ رکھتی ہے۔