ڈنگہ اور اس کے گردونواح میں "ایف کیو ایل” (FQL) نامی مبینہ سرمایہ کاری اسکیم نے سادہ لوح شہریوں کو اربوں روپے سے محروم کر دیا ہے، جس کے باعث پورے علاقے میں شدید معاشی بحران اور کہرام مچ گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق یہ گروہ گزشتہ کئی ماہ سے سرگرم تھا اور شہریوں کو ماہانہ 60 فیصد منافع اور محض 45 دن کے اندر اصل رقم دوگنی کرنے کا پرکشش جھانسہ دے کر سرمایہ کاری پر اکسا رہا تھا، لیکن اب یہ ایپ اچانک بند ہو گئی ہے جس سے 15 ہزار سے زائد افراد کی زندگی بھر کی جمع پونجی ڈوب گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فراڈ کا سب سے زیادہ شکار نوجوان طبقہ اور کم آمدنی والے افراد ہوئے ہیں، جنہوں نے راتوں رات امیر بننے کے چکر میں نہ صرف اپنی جمع پونجی داؤ پر لگائی بلکہ کئی نوجوانوں نے اپنی مستقل ملازمتیں بھی چھوڑ دیں، جو اب شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ مسجد عیدگاہ ڈنگہ اور سوشل میڈیا کے ذریعے شہریوں کو اس ممکنہ فراڈ سے مسلسل خبردار کیا جاتا رہا اور علمائے کرام نے بھی اپنے خطبات میں اسے غیر شرعی اور دھوکہ قرار دیا تھا، تاہم اس کے باوجود لوگ لالچ میں آکر اس جال میں پھنستے چلے گئے۔
اس سنگین صورتحال پر ڈنگہ کے معززین، سیاسی اور سماجی حلقوں نے حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس میگا اسکینڈل کی فوری اور شفاف تحقیقات کروا کر ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرین کی دادرسی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں عوام کو ایسے لٹیروں سے محفوظ رکھا جا سکے۔





