اکتوبر 28, 2026

ہم نے ایک حتمی اور بہترین آفر پیش کی، دیکھتے ہیں ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں: جے ڈی وینس مذاکرات کے بعد امریکا روانہ

نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں ایک اہم پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے طویل مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ ایران نے امریکی شرائط قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جے ڈی وینس نے اس نازک موقع پر پاکستان کے کلیدی کردار کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ "وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے حیرت انگیز کام کیا اور دونوں نے امریکہ ایران اختلافات دور کرنے کی مخلصانہ کوشش کی۔” انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں جو کمی رہ گئی وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ پاکستان نے فاصلے کم کرنے اور کسی معاہدے تک پہنچنے میں بہترین مدد فراہم کی۔

امریکی نائب صدر نے بتایا کہ مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ اپنی ‘ریڈ لائنز’ اور آخری بہترین پیشکش (Final and Best Offer) پیش کی گئی تھی، مگر ایرانی وفد سے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے کوئی واضح عزم نہیں سنا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "اچھی خبر یہ ہے کہ ہماری ایران کے ساتھ سنجیدہ گفتگو ہوئی، لیکن بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی ڈیل کے بغیر واپس جا رہے ہیں، اور یہ خبر ایران کے لیے امریکہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ بری ہے۔” انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ امریکی صدر کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دور رکھنا ہے اور جب تک واضح اور مثبت تصدیق نہیں ملتی، کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ اب امریکہ اپنی فائنل آفر دے کر روانہ ہو رہا ہے اور یہ ایران پر منحصر ہے کہ وہ اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔