اکتوبر 28, 2026

بلوچستان میں امن کے قیام کیلئے فیڈرل کانسٹیبلری تعینات کرنے کا فیصلہ

بلوچستان میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے فیڈرل کانسٹیبلری کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کوئٹہ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں بلوچستان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، افغان مہاجرین کی واپسی، حوالہ ہنڈی کے خاتمے، بھتہ خوری اور اسمگلنگ کے خلاف اقدامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے فیڈرل کانسٹیبلری کے دو ونگز پر مشتمل تقریباً تین ہزار اہلکار پہلے مرحلے میں تعینات کیے جائیں گے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ بلوچستان میں ایف آئی اے کو مزید فعال بنایا جائے گا اور خالی آسامیوں پر مقامی افراد کی بھرتی کو ترجیح دی جائے گی۔ اس کے علاوہ حکومت بلوچستان اور وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر ریاست مخالف سرگرمیوں کی مؤثر مانیٹرنگ بڑھانے اور بے بنیاد پروپیگنڈا پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

اجلاس کے اعلامیے کے مطابق وفاقی حکومت نے بلوچستان حکومت کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بلوچستان پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا اور صوبے میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن مدد جاری رکھی جائے گی۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت پوری قوت اور عزم کے ساتھ اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور اب بلوچستان کی کوئی شاہراہ احتجاج کے نام پر بند نہیں ہونے دی جاتی۔