ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ایک "خون کا پیاسا نیٹ ورک” غزہ کے بعد ایران اور لبنان میں بھی اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں اور انسانی مراکز پر حملے عالمی ضمیر کے لیے ایک سنگین سوال ہیں۔
استنبول یونیورسٹی میں منعقدہ افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر اظہار خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس "پاگل پن” کی صورت حال کے خلاف ترکیہ انسانیت کے حق میں کھڑا ہے، عقل اور دانش کا علمبردار ہے اور بحرانوں کے حل کے لیے مکالمے اور سفارتکاری کا راستہ اختیار کرتا ہے۔
غزہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے رجب طیب اردوان نے کہا کہ دنیا نے ایسے مناظر دیکھے جہاں انسانی جان کی کوئی قدر نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کے ساتھ ساتھ اسپتالوں کی نرسریوں میں موجود بچوں اور اسکول جانے والے بچوں تک کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔
ترک صدر نے مزید کہا کہ غزہ کی جنگ کے دوران ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کو بھی نشانہ بنایا گیا اور اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں تقریباً 1700 طبی کارکن شہید ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی صورتحال کے حوالے سے ترکیہ کا مؤقف جغرافیائی یا معاشی مفادات پر نہیں بلکہ انسانی اقدار اور انصاف پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ ایسے انسانی مؤقف کو برقرار رکھے گا جو واقعات کو تیل، سونا، قدرتی گیس یا معدنیات کی قیمت سے نہیں بلکہ انصاف، ہمدردی، رحمت اور انسانی وقار کے تناظر میں دیکھتا ہے۔





