برطانوی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران میں اختیار کی گئی فوجی اور سیاسی حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہو سکی اور وینزویلا ماڈل ایران میں ناکام ہوگیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ماضی میں ڈیلسی روڈریگِز کے معاملے کو ایک مثال کے طور پر دیکھا تھا اور اسی طرز پر ایران میں بھی قیادت کی تبدیلی کے لیے مداخلت کی کوشش کی گئی۔ تاہم ایران میں یہ حکمت عملی کامیاب نہ ہو سکی۔
برطانوی اخبار کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر انتخاب نے ٹرمپ کی خواہشات کو ناکام بنا دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے مذہبی اور عسکری ادارے اب بھی اقتدار پر مضبوط گرفت رکھتے ہیں اور نظام میں کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سابق ایرانی شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کی قیادت کے امکانات کو بھی وائٹ ہاؤس نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ایران میں کسی ایسے عملی سیاسی رہنما کے ذریعے امریکی حمایت یافتہ قیادت قائم کرنے کا کوئی واضح راستہ موجود نہیں ہے۔
اخبار کے مطابق ایران جنگ کے فوری معاشی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی بڑھتی قیمتوں نے وائٹ ہاؤس پر داخلی سیاسی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔
رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر نئے ایرانی سپریم لیڈر کو ہٹانے کی کوشش کر سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔





