اکتوبر 29, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کا قوم سے خطاب، کفایت شعاری اقدامات اور بڑے معاشی فیصلوں کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف نے خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کفایت شعاری اقدامات اور اہم معاشی فیصلوں کا اعلان کیا ہے۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب، کویت، قطر اور بحرین سمیت خلیجی ممالک پر حملوں کی بھی بھرپور مذمت کرتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ خلیجی ممالک پر حملوں سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں اور پاکستان آزمائش کی اس گھڑی میں ان ممالک کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان ممالک کی سلامتی کو اپنی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 60 ڈالر سے بڑھ کر 100 ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ پاکستان کی معیشت کا انحصار خلیجی ممالک سے آنے والے تیل اور گیس پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کے باعث حکومت کو توانائی بحران کم کرنے کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ انتہائی مشکل فیصلہ تھا، حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ مشکل حالات کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھا جائے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جا سکے۔

کفایت شعاری اقدامات:
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کمی کی جائے گی جبکہ ایمبولینسز اور عوامی ٹرانسپورٹ اس سے مستثنیٰ ہوں گی۔ مزید یہ کہ 60 فیصد سرکاری گاڑیاں دو ماہ کے لیے گراؤنڈ کر دی جائیں گی۔

وزیراعظم کے مطابق وفاقی کابینہ کے ارکان، وزرا، مشیر اور معاونین خصوصی رضاکارانہ طور پر دو ماہ کی تنخواہ نہیں لیں گے جبکہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کمی کی جائے گی۔

گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران، جن کی تنخواہ تین لاکھ روپے سے زائد ہے، ان کی تنخواہ سے دو دن کی کٹوتی کر کے عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جائے گی۔ اس کے علاوہ تمام سرکاری محکموں کے تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں 20 فیصد کمی اور نئی اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ سرکاری افسران، مشیران، وفاقی و صوبائی وزرا اور گورنرز کے بیرون ملک دوروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔ سیمینار اور کانفرنسز اب ہوٹلوں کے بجائے سرکاری مقامات پر منعقد کی جائیں گی۔

توانائی کی بچت کے لیے سرکاری اور نجی شعبے میں ضروری خدمات کے علاوہ 50 فیصد اسٹاف گھر سے کام کرے گا جبکہ ہفتے میں صرف چار دن دفاتر کھلیں گے اور ایک دن اضافی چھٹی دی جائے گی۔ البتہ اس فیصلے کا اطلاق بینکوں، صنعتوں اور زرعی شعبے پر نہیں ہوگا۔

وزیراعظم کے مطابق رواں ہفتے کے آخر سے تمام اسکولوں کو دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جائیں گی جبکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز شروع کی جائیں گی۔