اکتوبر 28, 2026

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت انا للہ وانا الیہ راجعون: ایران کی موجودہ صورتحال، اسرائیل امریکہ کا گٹھ جوڑ اور امت مسلمہ کی ذمہ داریاں

تحریر : محمد مظہررشید چودھری (03336963372)

28 فروری 2026 کا وہ ہولناک دن جب تہران کے قلب میں اسرائیلی اور امریکی میزائلوں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کو نشانہ بنایا۔86 سالہ عظیم رہنما، جو 37 برس تک اسلامی جمہوریہ ایران کے سربراہ رہے، شہید ہوگئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ان کی ’شہادت‘ کا اعلان کیا، 40 دن کا قومی سوگ، 7 دن کی تعطیل اور پورے ملک میں ماتم کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہزاروں ایرانی تہران کی سڑکوں پر نکل آئے، آنکھوں میں آنسو، ہاتھوں میں خامنہ ای کی تصاویر، نعرے لگا رہے تھے ’مرگ بر امریکہ، مرگ بر اسرائیل‘۔آیت اللہ خامنہ ای کوئی عام سیاستدان نہ تھے۔ وہ امام خمینی کے جانشین، مزاحمت کے پیکر، فلسطین کے سب سے بڑے حامی اور امریکی سامراجیت کے خلاف آواز تھے۔ ان کے دور میں ایران نے جوہری پروگرام کو آگے بڑھایا، شام، لبنان، یمن اور عراق میں ’محور مقاومت‘ کو مضبوط کیا اور غاصب اسرائیل کو بار بار للکارا۔ ان کی شہادت اسی مزاحمت کی قیمت ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے Truth Social پر لکھے الفاظ نہ صرف نفرت بلکہ ایک طویل سازش کا اعتراف ہیں۔ایران کی موجودہ صورتحال انتہائی نازک اور پرجوش ہے۔ شہادت کے فوراً بعد ایران نے جوابی حملے شروع کر دیے۔ ایرانی میزائل اور ڈرون اسرائیل کے شہروں، خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور علاقائی اہداف پر برس رہے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پاسداران انقلاب نے ’بھرپور بدلہ‘ کا عزم ظاہر کیا۔ تاہم، حملوں میں دفاع وزیر عزیز نصیر زادہ، پاسداران چیف محمد پاک پور، فوج کے چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی اور دیگر اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہو چکے ہیں۔ تہران میں دھوئیں کے بادل، تباہ شدہ عمارتیں اور فضائی دفاعی نظام کی کڑی آزمائش جاری ہے۔اقتصادی طور پر ایران پہلے ہی شدید بحران کا شکار تھا۔ جنوری 2026 میں احتجاج ہوئے جو کچل دیے گئے، مگر اب جنگ کی وجہ سے تیل کی برآمدات متاثر، کرنسی گراوٹ اور غذائی اشیاءکی قلت ممکن ہے۔ ہوائی اڈے بند، بین الاقوامی پروازیں متاثر، آبنائے ہرمز بند ۔ لیکن ایرانی عوام اور فوج پرعزم ہے۔ سکیورٹی چیف علی لاریجانی نے عبوری قیادت کونسل کا اعلان کر دیا ہے جس میں صدر، عدلیہ کا سربراہ اور گارڈین کونسل کا ایک عالم شامل ہوں گے۔ یہ آئین کے آرٹیکل ۱۱۱ کے تحت ہے۔ ممکنہ طور پر مجتبیٰ خامنہ ای، آیت اللّٰہ علی رضا اعرافی ،محمد مہدی میرباقری، حسن خمینی ،ہاشم حسینی بوشہری یا سخت گیر عالم آگے آ سکتا ہے۔ یہ عبوری دور کمزوری کا نہیں بلکہ مزاحمت کا دور ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سب کیسے ہوا؟ یہ اسرائیل ،امریکہ کا گٹھ جوڑ ہے، خالص سازش۔ جو ن2025 میں ’بارہ روزہ جنگ‘ کے بعد بھی ایران اپنے موقف پر ڈٹا رہا۔ ٹرمپ کی دوسری مدت میں جوہری مذاکرات ناکام ہوئے۔ ایران نے یورینیم افزودگی جاری رکھی، بالسٹک میزائل پروگرام بحال کیا۔ امریکہ اور اسرائیل کو لگا کہ اب موقع ہے۔ ’آپریشن ایپک فیوری‘ (امریکہ) اور ’روئنگ لائن‘ (اسرائیل) کے نام سے مشترکہ آپریشن شروع کیا گیا۔ مقصدجوہری تنصیبات، میزائل فیکٹریاں، نیوی اور سب سے بڑھ کر قیادت کا خاتمہ ۔ ٹرمپ نے ایرانی عوام سے حکومت پر قبضہ کرنے کی اپیل کی۔ یہ وہی پرانی امریکی پالیسی ہے ’رجیم چینج‘۔ اسرائیل تو1997 سے ایران کو وجودی خطرہ سمجھتا ہے۔ دونوں مل کر’محور مقاومت‘ کو توڑنا چاہتے ہیں۔ فلسطین میں غزہ اور لبنان کی تباہی کے بعد اب ایران کو نشانہ بنایا تاکہ عرب دنیا میں خوف پھیلے اور سعودی عرب، UAE جیسے اتحادی مزید قریب آ جائیں۔یہ گٹھ جوڑ نہ صرف ایران بلکہ پوری اسلامی دنیا کے خلاف ہے۔ اگر آج خامنہ ای شہید ہوئے تو کل کسی اور مسلم رہنما کی باری آ سکتی ہے۔ امت مسلمہ کی ذمہ داریاں اب اہم ہو چکی ہیں۔ سب سے پہلے ’اتحاد‘۔ شیعہ سنی کا فرق بھلا کر ایک ہو جائیں۔ پاکستان، ترکی، سعودی عرب، مصر، انڈونیشیا جیسے ممالک فوری طور پر او آئی سی کا اجلاس بلائیں۔ ایران پر حملہ ’امت کا حملہ‘ ہے۔ دوسرا’سفارتی دباو¿‘۔ اقوام متحدہ میں قرارداد منظور کروائی جائے، امریکہ اور اسرائیل پر پابندیاں لگائی جائیں۔ تیسرا’اقتصادی بائیکاٹ‘۔ اسرائیلی اور امریکی کمپنیوں کے پروڈکٹس کا بائیکاٹ، تیل کی برآمدات روکیں۔ چوتھا’عوامی احتجاج‘۔ دنیا بھر کی مسجدوں میں دعائیں، جمعہ کے خطبوں میں آواز اٹھائیں۔ پانچواں’مزاحمت کی حمایت‘۔ لبنان، یمن، عراق کے مجاہدین کی اخلاقی مدد۔امت مسلمہ کو یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ شہداءسے بنتی ہے۔ خامنہ ای کی شہادت بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اگر ہم اب جاگ نہ اُٹھے تو کل ہماری باری ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’ دشمن کے مقابلے کے لیے طاقت تیار کرو‘۔ آج کی طاقت اتحاد، معاشی خودمختاری اور ایمانی قوت ہے۔ایران آج اکیلا نہیں۔ پوری امت اس کے ساتھ ہے۔ خامنہ ای شہید ہوئے مگر ان کا پیغام زندہ ہے ۔ اللہ ایران کی حفاظت کرے، شہداءکو جنت الفردوس عطا فرمائے۔ آمین۔