اکتوبر 29, 2026

بھارت کو خدشہ، ٹرمپ غزہ بورڈ آف پیس میں مسئلہ کشمیر بھی اٹھا سکتے ہیں: برطانوی میڈیا

برطانوی میڈیا کے مطابق بھارت کو اس بات کا خدشہ لاحق ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ بورڈ آف پیس کے پلیٹ فارم پر مسئلہ کشمیر کو بھی زیرِ بحث لا سکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکا نے غزہ میں تعمیر نو کے لیے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس میں بھارت کو شرکت کی دعوت دی ہے، تاہم یہ تاحال واضح نہیں کہ بھارت اس دعوت کو قبول کرے گا یا نہیں۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کا بنیادی مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کو یقینی بنانا اور عبوری حکومت کی نگرانی کرنا ہے۔ اس بورڈ میں پاکستان، ترکیے، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے شمولیت اختیار کر لی ہے جبکہ مجموعی طور پر 59 ممالک اس معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں۔ ڈیووس میں منعقدہ تقریب میں 19 ممالک کی نمائندگی موجود تھی۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بھی ڈیووس میں ہونے والی تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی تاہم وہ اس میں شریک نہیں ہوئے۔ برطانوی میڈیا کا مزید کہنا ہے کہ بھارت کے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے فیصلے سے مغربی ایشیا میں استحکام اور امریکا کے ساتھ اس کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں صدر ٹرمپ اس فورم پر مسئلہ کشمیر کو بھی اٹھا سکتے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ اقدام صرف امریکا کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح غزہ میں کامیابی حاصل کی گئی، اسی ماڈل کو دیگر تنازعات پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب بھارت کے سابق سفیر اکبر الدین کا کہنا ہے کہ بھارت کو غزہ بورڈ آف پیس میں شامل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ بورڈ اقوام متحدہ کی قرارداد 2803 سے متصادم ہو سکتا ہے اور اس میں شمولیت بھارت کو بورڈ کے فیصلوں کی توثیق کا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ سابق بھارتی سفیر رنجیت رائے کے مطابق ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کی کوئی مقررہ مدت نہیں اور اسے غزہ سے باہر دیگر تنازعات میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔