کراچی سے رپورٹر کے مطابق، گل پلازہ میں ریسکیو آپریشن نویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ اس دوران تیسری منزل سے انسانی باقیات برآمد ہوئی ہیں جو ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے سول اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ طارق کے مطابق اب تک 71 لاشیں اور انسانی باقیات اسپتال لائی جا چکی ہیں۔
ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ 22 جاں بحق افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے، جن میں 6 لاشیں بصری طور پر قابلِ شناخت تھیں اور 15 کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ سے کی گئی۔ ایک لاش کی شناخت قومی شناختی کارڈ کے ذریعے بھی ممکن ہوئی۔
واضح رہے کہ سانحہ گل پلازہ کے حوالے سے مقدمہ سرکار کی مدعیت میں نبی بخش تھانے میں درج کیا گیا ہے، جس میں غفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل ہیں اور مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
اس دوران سندھ حکومت نے آگ سے متاثرہ گل پلازہ کی ازسرنو تعمیر کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تعمیر ایک سال کے اندر مکمل ہو گی اور اس دوران ماہرین تعمیرات کی مدد حاصل کی جا رہی ہے۔ مکمل ہونے کے بعد دکانیں الاٹیز کو واپس دی جائیں گی۔
گل پلازہ میں 17 جنوری کی رات آگ لگنے سے عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھی، جس نے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی سہولیات کو شدید متاثر کیا۔





