اکتوبر 29, 2026

جب فطرت بدل جائے تو خبر خاموش ہو جاتی ہے

تحریر: محمد انور بھٹی

بندن میاں کہتا ہے میں نے ساری عمر یہی سنا کہ کتے کا بندے کو کاٹ لینا خبر نہیں اور بندے کا کتے کو کاٹ لینا خبر ہے مگر اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کتا کس کو کاٹتا ہے یا بندہ کس کو کاٹتا ہے اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اب کاٹنا معمول بن چکا ہے اور جب کوئی عمل معمول بن جائے تو وہ خبر نہیں رہتا بندن میاں اپنی پرانی چارپائی پر بیٹھا یہی سوچتا ہے کہ اگر آج صحافت کا وہ پرانا استاد زندہ ہو جس نے یہ مثال دی تھی تو وہ سب سے پہلے یہی پوچھتا کہ جناب اب خبر کہاں ہے کیونکہ یہاں تو روز بندے بندے کو کاٹ رہے ہیں اور یہ سب نارمل بنا دیا گیا ہے یہاں کتا کسی بچے کو کاٹ لے تو خبر نہیں بنتی کیونکہ ہم نے اسے معمول بنا لیا ہے یہاں بچہ بھوک سے مر جائے تو خبر نہیں بنتی کیونکہ فاقہ اب فطرت کہلاتا ہے یہاں استاد مار کھا جائے تو خاموشی اور طالب علم سوال کر لے تو ہنگامہ یہاں پنشن نہ ملے تو صبر کا درس اور پنشن مانگ لی جائے تو الزام یہاں ریلوے پٹری سے اتر جائے تو فنی خرابی اور مزدور پٹری کے نیچے آ جائے تو اعداد و شمار بندن میاں کہتا ہے اصل مسئلہ کتے اور بندے کا نہیں اصل مسئلہ اس معاشرتی بے حسی کا ہے جس نے ظلم کو معمول بنا دیا ہے اور جب ظلم معمول بن جائے تو پھر وہ خبر نہیں رہتا بلکہ روایت بن جاتا ہے یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں معاشرہ مرنا شروع ہوتا ہے صحافت کا اصول یہ تھا کہ فطرت سے ہٹ کر جو ہو وہ خبر ہے مگر ہمارے ہاں فطرت ہی بدل دی گئی ہے اب بیروزگاری فطرت ہے مہنگائی فطرت ہے کرپشن فطرت ہے جھوٹ فطرت ہے اور نااہلی قومی مزاج بن چکی ہے اب اگر کوئی ایماندار افسر مل جائے تو وہ خبر بن جاتا ہے اگر کوئی استاد بغیر رشوت کے کام کر دے تو وائرل ہو جاتا ہے اگر کوئی سیاستدان سچ بول دے تو لوگ کہتے ہیں یہ ممکن نہیں بندن میاں ہنستے ہوئے کہتا ہے اب تو حال یہ ہے کہ کتا بندے کو کاٹے تو خبر نہیں بندہ کتے کو کاٹے تو وڈیو وائرل اور بندہ بندے کو کاٹے تو ٹاک شو یہاں خبر بھی سرکس بن چکی ہے اصل خبر یہ نہیں کہ کتے نے بندے کو کاٹا اصل خبر یہ ہے کہ بندے کو کاٹے جانے پر کسی کو فرق کیوں نہیں پڑا اصل خبر یہ نہیں کہ انسان نے کتے کو کاٹا اصل خبر یہ ہے کہ انسان اتنا درندہ کیوں بن گیا کہ اسے یہ حرکت بھی عجیب نہیں لگتی بندن میاں کہتا ہے خبر وہ لمحہ ہوتی ہے جب ضمیر چونک جائے مگر جب ضمیر سو جائے تو لاشیں بھی اعداد و شمار بن جاتی ہیں آج اگر استاد مر جائے خبر نہیں صحافی اغوا ہو جائے خبر نہیں مزدور دب جائے خبر نہیں ریلوے پنشنر روئے خبر نہیں مگر اگر کسی طاقتور کا بیان آ جائے یا کسی مشہور شخصیت کی شادی ہو جائے تو بریکنگ نیوز یہاں کتے کا کاٹنا بھی خبر بن سکتا ہے اگر کتا کسی وزیر کے بنگلے کے باہر ہو اور بندے کا کتے کو کاٹنا بھی خبر نہ بنے اگر بندہ غریب ہو بندن میاں کہتا ہے خبر دراصل طاقت اور معمول کے درمیان جنگ کا نام ہے جو طاقت کے خلاف ہو وہ خبر اور جو طاقت کے حق میں ہو وہ تشہیر اسی لیے کہا گیا تھا کہ خبر وہ ہوتی ہے جو کوئی چھپانا چاہے باقی سب اشتہار مگر ہمارے ہاں اب اشتہار کو خبر اور خبر کو جرم بنا دیا گیا ہے آج اگر کوئی سچ لکھ دے تو کہا جاتا ہے ماحول خراب نہ کرو اگر کوئی سوال اٹھا دے تو کہا جاتا ہے نظام خطرے میں ہے اور اگر کوئی خاموش رہے تو کہا جاتا ہے بڑا ذمہ دار ہے بندن میاں آہ بھرتے ہوئے کہتا ہے اصل خبر یہ نہیں کہ انسان نے کتے کو کاٹا اصل خبر یہ ہے کہ انسان نے انسانیت کو کیوں کاٹ لیا اور جب تک ظلم معمول جھوٹ فطرت اور خاموشی دانشمندی سمجھی جاتی رہے گی تب تک کتا بندے کو کاٹتا رہے گا بندہ بندے کو اور خبر قبرستان میں دفن پڑی رہے گی یہی بندن میاں کا معاشرتی پوسٹ مارٹم ہے خبر کا بھی معاشرے کا بھی اور ہمارے سوئے ہوئے ضمیر کا بھی۔
اور بندن میاں کہتا ہے ابھی بات ختم نہیں ہوئی کیونکہ اگر صرف اتنا کہہ کر خاموش ہو جاؤں تو یہ بھی اسی خاموشی کا حصہ بن جائے گا جسے ہم دانشمندی کہتے ہیں بندن میاں نے دیکھا ہے کہ کیسے ایک معاشرہ آہستہ آہستہ خبر سے محروم ہوتا ہے پہلے سچ کم ہوتا ہے پھر سوال کم ہوتے ہیں پھر حساسیت کم ہوتی ہے اور آخر میں انسان کم ہو جاتا ہے یہاں ہر روز کچھ نہ کچھ ایسا ہوتا ہے جو کتابوں میں خبر کہلاتا ہے مگر ہمارے ہاں وہ فائل میں دب جاتا ہے یہاں اسپتال میں دوا نہ ہو تو معمول عدالت میں انصاف نہ ملے تو معمول اسکول میں استاد نہ ہو تو معمول ٹرین لیٹ ہو تو معمول پنشن رکے تو معمول مگر اگر کوئی غریب احتجاج کرے تو وہ خبر بن جاتی ہے وہ بھی منفی خبر بندن میاں کہتا ہے ہم نے خبر کو حق نہیں طاقت کی ملکیت بنا دیا ہے طاقتور روئے تو ٹکرز چلتے ہیں کمزور چیخے تو شور کہلا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ کتے کا بندے کو کاٹنا اب خبر بن سکتا ہے اگر بندہ طاقتور ہو اور بندے کا کتے کو کاٹنا بھی خبر نہیں بنتا اگر بندہ کمزور ہو اصل اصول یہ نہیں کہ فطرت سے ہٹ کر کیا ہوا بلکہ اصل اصول یہ ہے کہ کس کے ساتھ ہوا بندن میاں کہتا ہے اگر آج کوئی استاد بچوں کو مفت پڑھا دے تو وہ غیر معمولی ہے اگر کوئی ڈاکٹر بغیر رشوت مریض دیکھ لے تو وہ غیر معمولی ہے اگر کوئی افسر ایمانداری سے فائل نمٹا دے تو وہ غیر معمولی ہے یعنی ہم نے غیر معمولی کو معمول اور معمول کو نایاب بنا دیا ہے یہی وہ الٹ پھیر ہے جس نے خبر کو بے معنی کر دیا ہے بندن میاں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کیسے خبر کا معیار بدلا ہے پہلے خبر وہ ہوتی تھی جو عوام کے حق میں ہو اب خبر وہ ہوتی ہے جو مفاد کے حق میں ہو پہلے صحافی پوچھتا تھا کیوں اب صحافی پوچھتا ہے کتنا بندن میاں کہتا ہے جب سوال بک جائے تو جواب بھی مر جاتا ہے اور جب جواب مر جائے تو خبر دفن ہو جاتی ہے پھر معاشرہ صرف افواہوں پر چلتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج سچ بولنے والا عجیب لگتا ہے اور جھوٹ بولنے والا ماہر بندن میاں کہتا ہے اصل خبر یہ ہونی چاہیے کہ ہم کیوں بے حس ہو گئے اصل خبر یہ ہونی چاہیے کہ ہمیں ظلم دکھائی کیوں نہیں دیتا اصل خبر یہ ہونی چاہیے کہ ایک ریلوے مزدور پچیس سال کام کرنے کے بعد پنشن کے لیے کیوں در در بھٹکتا ہے اصل خبر یہ ہونی چاہیے کہ ایک ماں بچے کو اسکول بھیجتے ہوئے کیوں ڈرتی ہے اصل خبر یہ ہونی چاہیے کہ ایک صحافی سچ لکھتے ہوئے کیوں کانپتا ہے مگر یہ سب خبریں نہیں بنتیں کیونکہ یہ طاقت کے خلاف ہیں اور طاقت کے خلاف بات ہمارے ہاں بدتمیزی کہلاتی ہے بندن میاں کہتا ہے صحافت کا جنازہ کسی ایک دن نہیں اٹھتا یہ آہستہ آہستہ مرتی ہے پہلے لفظ مرتے ہیں پھر معنی مرتے ہیں پھر سچ مرتا ہے اور آخر میں ضمیر بندن میاں کہتا ہے جب ضمیر مر جائے تو پھر کتا بندے کو کاٹے یا بندہ کتے کو سب برابر ہو جاتا ہے پھر انسان انسان کو کاٹتا ہے اور ہم اسے حالات کہتے ہیں بندن میاں نے سنا ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں یہ سب پہلے بھی ہوتا تھا فرق صرف یہ ہے کہ پہلے اسے ظلم کہا جاتا تھا اب اسے نظام کہا جاتا ہے بندن میاں کہتا ہے نظام وہ ہوتا ہے جو کمزور کو طاقت دے اور جو کمزور کو کچل دے وہ جنگل ہوتا ہے مگر ہم نے جنگل کو ریاست کا نام دے دیا ہے اور جنگل میں خبر نہیں ہوتی صرف شکار ہوتا ہے بندن میاں کہتا ہے خبر دراصل امید کا نام ہے جب خبر مر جائے تو امید بھی مر جاتی ہے اور جب امید مر جائے تو معاشرہ لاش بن جاتا ہے چلتا پھرتا بولتا مگر بے جان بندن میاں کہتا ہے میں اس لیے لکھتا ہوں کہ شاید کہیں کوئی ضمیر ابھی زندہ ہو شاید کہیں کوئی دل ابھی دھڑکتا ہو شاید کوئی نوجوان یہ سمجھے کہ خبر صرف بریکنگ نیوز نہیں بلکہ ٹوٹے ہوئے دلوں کی آواز ہے شاید کوئی صحافی یاد کر لے کہ اس نے یہ پیشہ کیوں چنا تھا شاید کوئی قاری یہ سوچ لے کہ خاموش رہنا بھی جرم ہے بندن میاں کہتا ہے اگر ہم نے آج بھی یہ نہ سمجھا کہ خبر کیا ہے تو کل ہماری چیخ بھی خبر نہیں بنے گی اور ہم خود مثال بن جائیں گے اس جملے کی کہ انسان انسان کو کاٹتا رہا اور سب نے کہا یہ تو فطری عمل ہے اور یہی وہ آخری مقام ہے جہاں بندن میاں خاموش ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے بعد بولنے کے لیے لفظ نہیں صرف قبریں ہوتی ہیں