تحریر۔محمدانوربھٹی
بندن میاں کہتا ہے حلال کمائی انسان خود کھاتا ہے اور حرام کمائی ایک پوری نسل کھا جاتی ہے یہ بات وہ یوں سمجھاتا ہے کہ رزق صرف پیٹ میں نہیں جاتا بلکہ خون میں سوچ میں عادت میں دعا میں اور آنے والی نسل کے مزاج میں اتر جاتا ہے بندن میاں کہتا ہے تم دن رات دوڑ دھوپ کر کے مال تو جمع کر لیتے ہو مگر یہ نہیں دیکھتے کہ وہ حلال کے چشمے سے آیا ہے یا حرام کی نالی سے بہہ کر تمہاری جھولی میں گرا ہے تم یہ خواب دیکھتے ہو کہ تمہارا بیٹا نیک ہوگا بیٹی باحیا ہوگی گھر میں سکون ہوگا دل نرم ہوں گے زبان سچی ہوگی مگر بندن میاں ہنستے ہوئے کہتا ہے یہ ویسی ہی خام خیالی ہے جیسے کوئی کسان کیکر کے بیج بو کر بیر کی امید لگائے کیکر سے تو کانٹے ہی نکلتے ہیں جو ہر آنے جانے والے کو زخمی کرتے ہیں بالکل اسی طرح حرام رزق سے پلنے والی نسل میں بے چینی بدتمیزی حرص ضد ناشکری اور بغاوت کے کانٹے اگتے ہیں بندن میاں کہتا ہے حلال رزق کم ہو تو صبر سکھاتا ہے گھر چھوٹا ہو تو دل بڑا بناتا ہے سادہ دسترخوان پر شکر پیدا کرتا ہے اولاد کو جھکنا سکھاتا ہے ماں باپ کے قدموں کی قدر سکھاتا ہے اور دعا کو قبولیت کے قریب لے آتا ہے جبکہ حرام رزق محل تو کھڑا کر دیتا ہے مگر اس میں رہنے والوں کے دل ایک دوسرے کے لئے تنگ کر دیتا ہے بندن میاں کہتا ہے حرام کی کمائی سے پلنے والا بچہ زبان سے ماں باپ کہتا ہے مگر دل سے نہیں مانتا آنکھوں میں روشنی ہوتی ہے مگر بصیرت نہیں ہوتی تعلیم ہوتی ہے مگر ادب نہیں ہوتا لباس مہنگا ہوتا ہے مگر کردار ننگا ہوتا ہے بندن میاں آخر میں آہ بھر کر کہتا ہے اگر تم واقعی چاہتے ہو کہ تمہاری آنے والی نسل تمہارے لئے صدقہ جاریہ بنے تو کماؤ کم مگر حلال کماؤ کیونکہ رزق حلال صرف جسم نہیں بناتا بلکہ نسل سنوارتا ہے اور رزق حرام صرف پیٹ نہیں بھرتا بلکہ آنے والی روحوں کو بھی بھوکا اور زخمی چھوڑ جاتا ہےبندن میاں بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتا ہے کہ رزق کا معاملہ صرف آج کا نہیں ہوتا یہ کل کی بنیاد رکھتا ہے یہ وہ بیج ہے جو تم آج بوتے ہو اور جس کی فصل تمہاری آنے والی نسلیں کاٹتی ہیں بندن میاں کہتا ہے تم سمجھتے ہو کہ بچے تمہارے کہنے سے بن جائیں گے نصیحت سے سنور جائیں گے مدرسے اسکول یونیورسٹی اور مہنگی تربیت گاہیں انہیں نیک بنا دیں گی مگر وہ سر ہلا کر کہتا ہے نہیں بھائی اصل تربیت وہ لقمہ ہے جو ماں کے ہاتھ سے بچے کے منہ میں جاتا ہے وہ نوالہ اگر حلال کا ہے تو اس میں نور ہوتا ہے وہ دل میں اتر کر خوف خدا پیدا کرتا ہے زبان میں سچائی لاتا ہے آنکھ میں حیا بٹھاتا ہے اور قدموں کو غلط راستے پر جانے سے روک لیتا ہے اور اگر وہی نوالہ حرام کا ہے تو وہ صرف پیٹ نہیں بھرتا بلکہ دل میں اندھیرا اتارتا ہے سوچ کو گدلا کرتا ہے اور انسان کو خود اپنے خلاف کھڑا کر دیتا ہے بندن میاں کہتا ہے کہ حرام رزق سے پلنے والا بچہ باپ کے سامنے کھڑا ہو کر بات کرے گا ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بدتمیزی کرے گا استاد کو حقیر سمجھے گا بزرگوں کو بوجھ سمجھے گا اور اسے یہ سب کچھ برا بھی نہیں لگے گا کیونکہ اس کے اندر ضمیر کی وہ آواز ہی نہیں ہوتی جو اسے روک سکے بندن میاں کہتا ہے تم شکایت کرتے ہو کہ نئی نسل بگڑ گئی ہے تم کہتے ہو زمانہ خراب ہے سوشل میڈیا نے بچوں کو تباہ کر دیا ہے ماحول ٹھیک نہیں رہا مگر بندن میاں کہتا ہے ذرا پلٹ کر اپنے گریبان میں جھانکو اور دیکھو کہ اس نسل کے خون میں کون سا رزق دوڑ رہا ہے وہ رزق جو تم نے رشوت سے کمیشن سے جھوٹ سے ناپ تول میں کمی سے ملاوٹ سے سفارش سے ظلم سے اور حق مار کر کمایا وہی رزق آج تمہاری اولاد کی رگوں میں دوڑ رہا ہے اور تم حیران ہو کہ وہ ضدی کیوں ہے ناشکرا کیوں ہے بے چین کیوں ہے بندن میاں کہتا ہے حلال رزق انسان کو جھکنا سکھاتا ہے اور حرام رزق انسان کو اکڑنا سکھاتا ہے حلال رزق کم ہو تو بھی دل مطمئن رہتا ہے اور حرام رزق زیادہ ہو تو بھی دل خالی رہتا ہے بندن میاں کہتا ہے تم نے دیکھا ہوگا کہ بعض گھروں میں وسائل کم ہوتے ہیں مگر وہاں مسکراہٹ ہوتی ہے احترام ہوتا ہے دعا ہوتی ہے اور ایک دوسرے کے لئے قربانی کا جذبہ ہوتا ہے اور کچھ گھروں میں دولت کی ریل پیل ہوتی ہے مگر وہاں خاموشی ہوتی ہے بے زاری ہوتی ہے اور ہر شخص دوسرے سے الگ تھلگ رہتا ہے بندن میاں کہتا ہے یہ فرق دیواروں کا نہیں رزق کا ہے یہ فرق فرنیچر کا نہیں نوالے کا ہے یہ فرق کپڑوں کا نہیں کمائی کے راستے کا ہے بندن میاں کہتا ہے حلال رزق سے پلنے والا بچہ اگر بھوکا بھی سو جائے تو شکوہ نہیں کرتا اور حرام رزق سے پلنے والا بچہ دسترخوان بھرا ہو تب بھی ناشکری کرتا ہے بندن میاں کہتا ہے کہ رزق حلال دعا کو پر لگا دیتا ہے اور رزق حرام دعا کو زمین پر گرا دیتا ہے تم کہتے ہو ہم دعا کرتے ہیں مگر قبول نہیں ہوتی بندن میاں کہتا ہے ذرا اپنی کمائی کا حساب لگاؤ کہیں ایسا تو نہیں کہ تمہاری دعا آسمان تک پہنچنے سے پہلے ہی تمہارے حرام نوالوں کے بوجھ تلے دب جاتی ہو بندن میاں کہتا ہے کہ تم چاہتے ہو تمہاری اولاد تمہارا نام روشن کرے تمہارے مرنے کے بعد تمہارے لئے دعا کرے تمہاری قبر کو ٹھنڈا کرے تو اس کی شروعات آج سے کرو اپنی کمائی کو پاک کرو اپنے ہاتھوں کو صاف کرو کیونکہ وہی ہاتھ جب بچے کے سر پر پھرتے ہیں تو یا تو رحمت اترتی ہے یا نحوست بندن میاں کہتا ہے کہ حرام رزق صرف ایک فرد کو نہیں بگاڑتا یہ پورے معاشرے کو کھوکھلا کر دیتا ہے کیونکہ جب ایک نسل حرام پر پلتی ہے تو اس کے فیصلے بھی حرام کی بنیاد پر ہوتے ہیں اس کی قیادت میں انصاف نہیں ہوتا اس کی تجارت میں دیانت نہیں ہوتی اور اس کے وعدوں میں سچائی نہیں ہوتی بندن میاں کہتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہر شخص دوسرے پر اعتماد نہیں کرتا ہر دروازہ تالا مانگتا ہے ہر بات ثبوت مانگتی ہے اور ہر رشتہ شک میں جیتا ہے کیونکہ رزق کی بنیاد کھوٹی ہو چکی ہے بندن میاں آخر میں تھکے ہوئے لہجے میں کہتا ہے اگر تم واقعی چاہتے ہو کہ تمہاری آنے والی نسل تم سے بہتر ہو تم سے زیادہ بااخلاق ہو تم سے زیادہ خدا سے جڑی ہو تو تمہیں انہیں صرف نصیحت نہیں دینی بلکہ انہیں حلال رزق دینا ہوگا کیونکہ کردار کتابوں سے نہیں بنتا کردار نوالوں سے بنتا ہے اور یاد رکھو کیکر کے بیج سے ہمیشہ کیکر ہی اگے گا اگر تم نے کانٹے بوئے ہیں تو پھولوں کی امید چھوڑ دو اور اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارے گھر میں پھول کھلیں تمہاری نسل مہکے تمہارا نام عزت سے لیا جائے تو پھر آج ہی اپنی کمائی کو حلال کے راستے پر لے آؤ کیونکہ حلال رزق انسان کو بناتا ہے اور حرام رزق نسلوں کو کھا جاتا ہے




