اکتوبر 29, 2026

ملک کے پانچ بڑے سیاسی رہنماؤں کے درمیان اعتماد سازی ناگزیر ہے: رانا ثناء اللہ

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ملک کی پانچ بڑی سیاسی شخصیات کے درمیان اعتماد سازی اور رابطہ ہو جائے تو قومی صورتحال بہتر سمت میں آگے بڑھ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ان اہم شخصیات کے درمیان براہِ راست اعتماد قائم نہیں ہوگا، کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جس طرح سال 2025 کے دوران ملک کے لیے مثبت خبریں سامنے آئیں، اسی تسلسل کے ساتھ امید ہے کہ 2026 معاشی استحکام کا سال ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معیشت کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، جن کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف چلنے والی مہمات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اکاؤنٹس کو بند کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت یہ کہہ کر ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی کہ ان اکاؤنٹس پر ان کا کوئی کنٹرول یا تعلق نہیں۔ پی ٹی آئی قیادت کو چاہیے کہ ان اکاؤنٹس سے لاتعلقی اختیار کرے اور انہیں بند کروائے، اگر پروپیگنڈا کرنا ہے تو مخالف سیاسی جماعتوں یا سیاستدانوں کے خلاف کریں، اداروں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی 8 فروری کی احتجاجی اپیل ناکام ہوگی، نہ پہیہ جام ہو پائے گا اور نہ ہی اس سے کوئی سیاسی فائدہ حاصل ہوگا، بلکہ اس کے مزید نقصانات ہوں گے۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اگر 8 فروری کو پہیہ جام کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت کارروائی کی جائے گی اور بعد میں احتجاج کرنے والے خود شکایات کرتے نظر آئیں گے، اس لیے بہتر ہے کہ پی ٹی آئی احتجاج کی کال واپس لے۔
وزیراعظم کے مشیر نے ایک بار پھر اس مؤقف کو دہرایا کہ ملک کے پانچ بڑے سیاسی رہنماؤں کے درمیان اعتماد سازی ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان پانچ شخصیات میں نواز شریف، شہباز شریف، آصف علی زرداری، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ایک اور اہم شخصیت شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ان شخصیات کے درمیان اعتماد کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں ہوں گے، کسی قسم کا بریک تھرو ممکن نہیں، محض میرے یا عامر ڈوگر کے رابطوں سے کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکتی۔