تحریر:: محمد انور بھٹی
بندن میاں نے کہیں پڑھا تھا شاید لینن نے کہا تھا یا شاید بندن میاں ہی نے کسی چائے خانے میں خود ہی یہ فلسفہ گھڑ لیا تھا کہ جب مریض قریب المرگ ہو تو طبیب دوا بڑھا دیتا ہے۔ اب بندن میاں اس جملے کو پڑھ کر ہمیشہ چونک جاتے ہیں کیونکہ انہیں یوں لگتا ہے جیسے یہ فقرہ پاکستان کے ہر سرکاری دفتر کے دروازے پر سنہری حروف میں لکھا ہونا چاہیے خاص طور پر ریلوے کے ہیڈ کوارٹر پر، جہاں مریض کئی دہائیوں سے آخری سانسیں لے رہا ہے اور طبیب ہر سال ایک نئی دوا ایک نیا قانون ایک نیا ایس او پی اور ایک نئی کمیٹی لے کر آن موجود ہوتا ہے۔
بندن میاں کہتے ہیں کہ یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ مریض مر رہا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ طبیب مریض کو مرنے نہیں دینا چاہتا کیونکہ مریض کے مرنے سے طبیب کی دکان بند ہو جائے گی۔ اس لیے دوا بڑھائی جاتی ہے انجیکشن لگائے جاتے ہیں فائلوں کے ڈرِپ چڑھائے جاتے ہیں، اور نظام کو کاغذوں کے سہارے زندہ رکھنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔مریض کراہتا ہے مسافر ٹھٹھرتے ہیں مزدور روتے ہیں پنشنر در بدر ہوتے ہیں مگر کمرے کے اندر ایئرکنڈیشنر چلتا رہتا ہے چائے آتی رہتی ہے اور فائل آگے بڑھتی رہتی ہے۔
یہ ریلوے، بندن میاں کے نزدیک کبھی ایک ادارہ تھی اب ایک تجربہ گاہ ہےجہاں ہر آنے والا افسر اپنی عقل آزماتا ہے ہر وزیر اپنی تقریر فائل میں لگواتا ہے اور ہر بابو اپنے دستخط کی طاقت سے قوم کا وقت پیسہ اور صبر ضائع کرتا ہے۔ بندن میاں ہنس کر کہتے ہیں کہ یہ واحد ادارہ ہے جہاں ٹرین نہیں چلتی مگر فائل دوڑتی ہے پٹڑی نہیں بنتی مگر پالیسی بنتی ہے اور مسافر نہیں پہنچتے مگر افسران منزلِ مقصود پا لیتے ہیں۔
ابتدا سے ہی اس ادارے کو بیوروکریسی نے اپنی جاگیر سمجھ لیا تھا۔ جیسے کسی دور دراز گاؤں میں وڈیرہ زمین کو باپ دادا کی وراثت سمجھتا ہے ویسے ہی یہاں ریلوے کو بابو شاہی نے اپنی خاندانی ملکیت بنا لیا۔ کرپشن کوئی حادثہ نہیں تھی یہ ایک منظم نظام تھا اتنا منظم کہ اگر کبھی شفاف تحقیقات ہو جائیں تو کرپشن خود کھڑے ہو کر کہے بھائی مجھےبدنام نہ کرو، میں تو یہاں ملازم تھی مالک کوئی اور تھا۔
بندن میاں اکثر سوچتے ہیں کہ آخر یہ کیسا نظام ہے جہاں بدعنوانی کو اتنا تحفظ حاصل ہے کہ اسے چھپانے کے لیے قوانین بنائے جاتے ہیں۔ یہاں قانون انصاف کے لیے نہیں سہولت کے لیے بنتا ہے اور سہولت ہمیشہ طاقتور کے لیے ہوتی ہے۔ کمزور کے لیے صرف ہدایت نامہ ہوتا ہے، حکم ہوتا ہے سزا ہوتی ہے اورصبر کی تلقین ہوتی ہے۔
جب ریلوے کی حالت بگڑتی ہے تو بندن میاں جانتے ہیں کہ اب کیا ہونے والا ہے۔ سب سے پہلے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوگا۔ پھر ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنے گی۔ اس کے بعد جامع انکوائری کا اعلان ہوگا۔ میڈیا پر وزیر ریلوے ایمانداری کے ایسے بھاشن دیں گے جیسے ابھی ابھی حضرت عمرؓ کی سیرت پڑھ کر آئے ہوں۔ کیمرے کے سامنے سخت لہجہ پیچھے نرم مفاہمت۔ بندن میاں کہتے ہیں کہ یہاں ہر انکوائری کا انجام پہلے دن ہی لکھ دیا جاتا ہے بس اسے فائل کی آخری جلد تک پہنچنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔
اور وہ فائل ہائے وہ فائل بندن میاں کہتے ہیں کہ اگر اس ملک میں فائلوں پر تحقیق ہو جائے تو شاید یہ سب سے زیادہ بوجھل مخلوق ثابت ہوں۔ ان فائلوں میں سب کچھ ہوتا ہے سچ بھی، جھوٹ بھی، گواہی بھی، معافی بھی اور آخر میں خاموشی بھی فائل چلتی ہے، دستخط ہوتے ہیں، چائے پی جاتی ہے، الاؤنس بنتا ہے اور پھر وہی فائل کسی الماری،کسی اسٹورکسی ڈسٹ بن کی نذر ہو جاتی ہے۔ یوں کرپشن بری نہیں ہوتی صرف مؤخر ہو جاتی ہے۔
بندن میاں اس سارے کھیل میں سب سے زیادہ ترس پنشنر پر کھاتے ہیں۔ وہ پنشنر جو اسی ریل کی پٹڑی پر جوانی چھوڑ آیا، جس نے دھوپ، بارش، اندھیرے، حادثے سب دیکھے، اور آخر میں بڑھاپے میں اس سے کہا جاتا ہے کہ صبر کریں فائل چل رہی ہے۔ بندن میاں پوچھتے ہیں کہ فائل کہاں جا رہی ہے؟ کس رفتار سے جا رہی ہے؟ اور کیوں ہر فائل کی رفتار پنشنر کی زندگی سے سست ہوتی ہے؟
مسافر بھی اس کہانی کا ایک خاموش کردار ہے۔ وہ جو ٹکٹ لے کر سمجھتا ہے کہ شاید آج منزل وقت پر مل جائے۔ بندن میاں کہتے ہیں کہ یہاں مسافر کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ وقت پر پہنچنے کی توقع رکھتا ہے۔ ٹرین لیٹ ہو تو اسے موسم کا قصور بتایا جاتا ہے، انجن خراب ہو تو تقدیر کا اور اگر پورا نظام بیٹھ جائے تو مسافر کو سمجھایا جاتا ہے کہ ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔
بندن میاں یہ بھی جانتے ہیں کہ ریلوے کی زبوں حالی کوئی راز نہیں سب کچھ سب کے سامنے ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ سچ اتنا عام ہو چکا ہے کہ اب وہ خبر نہیں بنتا۔ خبر صرف اعلان بنتا ہے، افتتاح بنتا ہے اور نئی پالیسی بنتی ہے۔ حقیقت صرف اسٹیشن پر کھڑی رہ جاتی ہے، ٹوٹی بنچوں، بجھے بلبوں اور انتظار کرتی آنکھوں کے ساتھ۔
اگر کبھی واقعی جدید طریقۂ کار سے، غیر جانبداری کے ساتھ تحقیقات ہو جائیں ڈیجیٹل ریکارڈ، کھلی سماعت، عوامی نگرانی تو بندن میاں کو یقین ہے کہ فہرست اتنی لمبی ہوگی کہ پڑھتے پڑھتے انکوائری افسر کی ایمانداری ختم ہو جائے۔ مگر یہی تو مسئلہ ہے اس ملک میں تحقیقات نہیں ہوتیں صرف اعلانات ہوتے ہیں۔ فیصلہ نہیں ہوتا صرف تاخیر ہوتی ہے۔
آخر میں بندن میاں ایک گہرا سانس لے کر کہتے ہیں یہاں نظام کو بچانے کے لیے نہیں نظام کے نام پر خود کو بچانے کے لیے قوانین بنتے ہیں۔ مریض مر رہا ہوتا ہے مگر طبیب کی دکان چل رہی ہوتی ہے۔ ریل کھڑی ہوتی ہے مگر فائل دوڑ رہی ہوتی ہے۔ اور جب سب کچھ ختم ہو جاتا ہے تو ہم کہتے ہیں اللہ اللہ خیر صلاح





