اکتوبر 29, 2026

پاکستانی ڈیمارش پر برطانوی ہائی کمیشن کا مؤقف سامنے آ گیا

پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے دیے گئے ڈیمارش پر برطانوی ہائی کمیشن کا ردعمل سامنے آ گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں پولیس اور پراسیکیوشن حکومت سے آزاد ہو کر کام کرتے ہیں۔ ترجمان برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق اگر کسی غیر ملکی حکومت کو کسی جرم کا شبہ ہو تو اس سے متعلق شواہد پولیس لائژن کو فراہم کیے جائیں، جس کے بعد برطانوی پولیس قانون کے مطابق متعلقہ مواد کا جائزہ لے گی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ قانون شکنی سے متعلق مواد سامنے آنے کی صورت میں فوجداری تحقیقات شروع ہو سکتی ہیں اور ہر معاملہ برطانوی قانون کے تحت نمٹایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ بریڈفورڈ میں ہونے والے احتجاج کے معاملے پر برطانوی ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو وزارت خارجہ طلب کر کے ڈیمارش دیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق ایک سیاسی جماعت کے آفیشل اکاؤنٹ کو برطانیہ میں مظاہرین جمع کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، احتجاج کے دوران چیف آف ڈیفنس فورسز کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز اور قابل اعتراض زبان استعمال کی گئی جبکہ فیلڈ مارشل کو جان سے مارنے اور کار بم دھماکے میں قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے برطانیہ کی سرزمین سے دی جانے والی ان دھمکیوں کا سخت نوٹس لیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ برطانیہ اپنی سرزمین کو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔