اکتوبر 29, 2026

تیس روپے کی تھیلی اور اربوں کا ضمیر

تحریر: محمدانوربھٹی

بندن میاں کی بیٹھک کوئی عام کمرہ نہیں یہ وہ جگہ ہے جہاں دیواریں بھی سنتی ہیں اور کبھی کبھی شرمندہ بھی ہو جاتی ہیں جہاں پرانی کرسیوں پر بیٹھ کر نئے دکھ تولے جاتے ہیں، جہاں چائے کی پیالی میں صرف پتی اور دودھ نہیں ہوتا بلکہ اس قوم کا حال مستقبل اور ماضی تینوں گھل چکے ہوتے ہیں بندن میاں اس دن بھی ناشتہ کر کے اسی بیٹھک میں آیا اخبار ایک طرف رکھا عینک سیدھی کی کرسی پر ایسے بیٹھا جیسے آج پھر کسی بے آواز مقدمے کی سماعت ہونے والی ہو جیب سے موبائل نکالا فیس بک کھولی مگر بندن میاں فیس بک اس لیے نہیں دیکھتا کہ تصویریں دیکھے وہ اس لیے دیکھتا ہے کہ تصویروں کے پیچھے چھپی ہوئی سوچ کو ننگا کرے اور اچانک ایک پوسٹ پر اس کی نگاہ ایسے ٹھہر گئی جیسے برسوں سے لٹکی ہوئی کوئی فائل اچانک سامنے آ گئی ہو پوسٹ تھی مگر آئینہ تھی ایک ایسا آئینہ جس میں تیس روپے کی تھیلی کے پیچھے اربوں کا ننگا ضمیر کھڑا تھا۔
[سچ کہوں تو پاکستان میں معیار ہر شعبے میں گرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ آج میں سروس شوز گیا اور چند ہزار روپے کے سینڈل خریدے۔ کاؤنٹر پر بیٹھے سیلز مین نے بڑی آسانی سے پوچھا سر کیا آپ کو بیگ چاہیے؟ میں چند لمحے خاموش رہا۔ دل میں سوال آیا کہ کیا یہ واقعی پوچھنے والی بات ہے؟ میں نے اس سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے تو اس نے نہایت سکون سے جواب دیا جی سرسروس کا لوگو والا بیگ 30 روپے کا ہے۔ پہلے خیال آیا کہ صرف 30 روپے ہی تو ہیں دے دینے چاہئیں لیکن اگلے ہی لمحے ضمیر نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ جو کمپنی اربوں کا کاروبار کرتی ہے کیا وہ ایک سادہ سا شاپنگ بیگ بھی فراہم نہیں کر سکتی؟ یہ بچت ہے یا حد سے بڑھی ہوئی کنجوسی؟ میں مسکرا کر بولا پھر کمپنی کو یہ مشورہ بھی دے دیں کہ آئندہ جوتوں کا ڈبہ بھی نہ دیا کریں سیدھا جوتے گاہک کے ہاتھ میں پکڑا دیا کریں شاید اس طرح کچھ اور پیسے بھی بچ جائیں۔ میں نے ڈبہ واپس کیا اور جوتے ہاتھ میں اٹھا کر باہر آ گیا۔ یہ بات صرف 30 روپے کی نہیں ہے۔ یہ سوچ احترام اور برانڈ کے معیار کی عکاسی کرتی ہے۔ سروس شوز آپ نے بیگ کی قیمت نہیں لی بلکہ اپنے گاہک کی عزت کو چند سکوں کے بدلے تول دیا۔ ایک ایسا برانڈ جو کبھی فخر کی علامت تھا آج شدید مایوسی کی تصویر بن چکا ہے]
بندن میاں نے یہ پوری تحریر ایک ہی سانس میں پڑھی جیسے کسی نے اچانک برسوں پرانا بند زخم چھیڑ دیا ہو نہ انگلی اسکرین پر رکی نہ آنکھ جھپکی وہ الفاظ نہیں پڑھ رہا تھا وہ ان کے پیچھے کھڑی ہوئی نیت کو دیکھ رہا تھا وہ نیت جو بڑے بڑے برانڈ بورڈز کے پیچھے چھپ جاتی ہے وہ نیت جو منافع کے کاغذ میں لپٹ کر انسان کو بھول جاتی ہے بندن میاں نے موبائل آہستہ سے میز پر رکھا کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور آہستہ سے بولا لو جی تیس روپے کی تھیلی نکلی اور اربوں کے ضمیر کی لاش باہر آ گئی پھر وہ ہنسا مگر وہ ہنسی ایسی تھی جس میں خوشی نہیں زخم کی جلن ہوتی ہے بندن میاں کے نزدیک یہ تحریر کسی ایک دکان کسی ایک سیلز مین یا کسی ایک برانڈ کی کہانی نہیں تھی یہ پورے نظام کا فردِ جرم تھا ایک ایسا چالان جو روز کٹتا ہے مگر کبھی عدالت تک نہیں پہنچتا۔
بندن میاں کہتا ہے کہ سوال بیگ چاہیے؟ دراصل سوال ہی نہیں تھا یہ اعلان تھا یہ وہی لہجہ تھا جو اس ملک میں ہر دروازے پر بولا جاتا ہے سر کیا آپ کو علاج چاہیے؟ اضافی پیسے لگیں گے سر کیا آپ کو انصاف چاہیے؟ وقت اور تعلقات لگیں گے سر کیا آپ کو عزت چاہیے؟ تو پھر خاموش رہیے لائن میں رہیے سمجھوتہ کیجیے بندن میاں نے دانت پیستے ہوئے کہا یہ ملک اب فری میں کچھ نہیں دیتا یہاں ماں کی دعا بھی شاید قسطوں میں ملتی ہو وہ اس ایک جملے پر رک گیاصرف 30 روپے ہی تو ہیں اور اس ایک صرف نے بندن میاں کے اندر طوفان کھڑا کر دیا وہ بولا یہی صرف قوموں کی قبر کھودتا ہے صرف ایک رشوت صرف ایک دستخط صرف ایک خاموشی اور پھر پوری نسل فائلوں میں دفن ہو جاتی ہے اس کے ذہن میں وہ ریلوے پٹریاں گھوم گئیں جہاں صرف ایک بولٹ غائب ہوتا ہے اور پوری ٹرین الٹ جاتی ہے وہ پنشنرز یاد آئے جو صرف ایک فائل کی تاخیر میں مر جاتے ہیں وہ مریض یاد آئے جو صرف ایک بیڈ نہ ملنے پر زندگی ہار جاتے ہیں۔
بندن میاں طنز سے مسکرایا اور بولا لوگو والا بیگ ہے جیسے لوگو کوئی مقدس شے ہو جیسے لوگو کے نیچے انسان کی کوئی قیمت نہ ہو وہ تلخی سے بولا لوگو بچ گیا لوگ مر گئے یہ کیسا نظام ہے جہاں نشان سلامت رہتا ہے مگر معنی دفن ہو جاتے ہیں برانڈ زندہ رہتا ہے اعتماد مر جاتا ہے دکان روشن رہتی ہے ضمیر اندھیرے میں چلا جاتا ہے بندن میاں کے نزدیک اصل جرم تیس روپے لینا نہیں اصل جرم یہ سوچ ہے کہ گاہک احسان لینے آیا ہے حق لینے نہیں وہ بولا جب ادارے یہ سمجھ لیں کہ صارف بوجھ ہے تو سمجھ لو کہ زوال نے حاضری لگا دی ہے اور یہ زوال کسی ایک دن میں نہیں آتا یہ آہستہ آہستہ آتا ہے تھیلی سے شروع ہو کر ڈبے تک ڈبے سے عزت تک اور عزت سے قبر تک۔
وہ اس جملے پر دیر تک رکا جہاں لکھا تھا کہ ڈبہ واپس کر دیا گیا اور جوتے ہاتھ میں اٹھا کر باہر آ گیا بندن میاں نے آنکھیں بند کیں گہری سانس لی اور بولایہ تھا اصل احتجاج نہ نعرہ نہ گالی نہ شیشہ توڑنا بس خاموش انکار بندن میاں کے نزدیک یہ عمل ایک سبق ہے کہ جب عزت نہ دی جائے تو سہولت بھی مت لو کیونکہ سہولت عزت کے بغیر غلامی بن جاتی ہے وہ بولا یہ جوتے ہاتھ میں اٹھانا پورے معاشی نظام کے منہ پر ایک طمانچہ تھا جو آواز نہیں کرتا مگر گونج نسلوں تک رہتی ہے ایسے لوگ کم رہ گئے ہیں جو تھیلی چھوڑ سکتے ہیں مگر خودداری نہیں۔
بندن میاں کہتا ہے کہ یہ صرف سروس شوز کی کہانی نہیں یہ پاکستان لمیٹڈ کا بزنس ماڈل ہے یہاں ہر چیز الگ الگ بیچی جاتی ہےٹکٹ کے ساتھ نشست نہیں علاج کے ساتھ توجہ نہیں تعلیم کے ساتھ تربیت نہیں اور اب جوتے کے ساتھ تھیلی نہیں وہ تلخی سے ہنسا اور بولا اگلا مرحلہ شاید یہ ہو کہ جوتے پہننے کے لیے لائسنس لینا پڑے اور اگر فوری چاہیے تو اضافی چارج بندن میاں جانتا ہے کہ یہ مذاق نہیں یہ وہ حقیقت ہے جس پر ہم ہنس ہنس کر خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔
کبھی یہ برانڈ فخر کی علامت تھا متوسط طبقے کا سہارا تھا مگر آج وہی برانڈ اسی طبقے کو احساس دلا رہا ہے کہ تم صرف خریدار ہو انسان نہیں بندن میاں نے میز پر انگلی مارتے ہوئے کہا برانڈ لوگو سے نہیں بنتا برانڈ رویے سے بنتا ہے اور جب رویہ تیس روپے پر آ کر کانپ جائے تو سمجھ لو کہ دیوالیہ پن شروع ہو چکا ہے چاہے بیلنس شیٹ کچھ بھی کہے وہ بولا اصل دیوالیہ پن کھاتوں میں نہیں کردار میں ہوتا ہے اور جب کردار بکے تو تھیلی فری نہیں رہتی۔
آخر میں بندن میاں نے موبائل دوبارہ اٹھایا اس پوسٹ کو دیکھا کرسی سے ٹیک لگائی اور آہستہ سے کہا یہ تحریر کسی ایک شخص کی نہیں یہ ایک سوال ہے سوال یہ ہے کہ ہم کب تک عزت کو اضافی چارج سمجھتے رہیں گے کب تک صرف کے فلسفے میں اپنی نسلیں دفن کرتے رہیں گے بندن میاں جانتا ہے کہ سب سے خطرناک بات یہ نہیں کہ عزت مہنگی ہو گئی ہے سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ہمیں اب یہ مہنگائی بری بھی نہیں لگتی ہم عادی ہو چکے ہیں اور بندن میاں عادتوں کا دشمن ہے اسی لیے وہ ہنستا ہے طنز کرتا ہے کاٹتا ہے لکھتا ہے تاکہ شاید کسی کونے میں پڑا ہوا ضمیر کروٹ بدل لے کیونکہ جس دن قوم نے تیس روپے کی تھیلی پر سوچنا چھوڑ دیا اس دن سمجھ لو کہ اربوں کا ضمیر ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا اور بندن میاں یہ جنازہ خاموشی سے اٹھنے نہیں دے گا۔