بنگلادیش میں طلبہ تحریک کے سرکردہ 32 سالہ رہنما شریف عثمان ہادی کو ڈھاکا یونیورسٹی میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ میں بنگلادیش کے عبوری سربراہ سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ عثمان ہادی کو 12 دسمبر کو ڈھاکا میں نقاب پوش حملہ آوروں نے سر میں گولی مار دی تھی، جس کے بعد انہیں علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا، لیکن وہ جان کی بازی ہار گئے۔ گزشتہ روز ان کی میت سنگاپور سے ڈھاکا پہنچائی گئی تھی۔
عثمان ہادی کے قتل کے بعد بنگلادیش بھر میں آج یومِ سوگ منایا جا رہا ہے۔





