جون 22, 2026

افغانستان میں دہشتگرد عناصر خطے کے امن کے لیے خطرہ، جنگ بندی برقرار نہیں: دفتر خارجہ

اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرانی نے کہا کہ افغانستان میں دہشتگرد عناصر کی موجودگی خطے کے امن و سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس پاکستان کے مؤقف کی واضح تائید کرتی ہیں اور افغانستان میں دہشتگردوں کو معاونت ملنے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی چینلز فعال ہیں اور دونوں ممالک کے سفیر اپنے دارالحکومتوں میں موجود ہیں۔ دوطرفہ امور سفارتی ذرائع سے زیرِ بحث رہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کو محض روایتی سیزفائر نہ سمجھا جائے، کیونکہ اس کا مقصد افغانستان سے پاکستان میں دہشتگرد حملے روکنا تھا۔ پاکستان نے نیک نیتی سے جنگ بندی پر عمل کیا، تاہم دوسری جانب سے اس کی پاسداری نہیں ہوئی اور سرحد پار سے حملے جاری ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ ایران میں ہونے والی علاقائی میٹنگ میں دہشتگرد عناصر، خصوصاً ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کے معاملات زیرِ بحث آئے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی میکنزم اتفاقِ رائے اور مشاورت کے لیے اہم ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی داخلی استحکام اور ترقی کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے اور یہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بین الاقوامی استحکام فورس کے حوالے سے بعض عالمی دارالحکومتوں میں مشاورت جاری ہے، مگر پاکستان کو اس معاملے پر کسی مخصوص درخواست سے آگاہ نہیں کیا گیا اور تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

ترجمان نے آسٹریلیا میں بونڈائی بیچ حملے کے حوالے سے کہا کہ تحقیقات آسٹریلوی حکام کر رہے ہیں اور پاکستان کو اس حملے سے جوڑنا غیر ذمہ دارانہ اور افسوسناک ہے۔ ایک پاکستانی کا نام اور تصویر بغیر تصدیق میڈیا پر دکھائی گئی، جس سے ایک بے گناہ فرد اور اس کے خاندان کو خطرات لاحق ہوئے۔ بھارتی میڈیا نے بھی اس واقعے پر غلط معلومات اور پروپیگنڈا پھیلایا، تاہم بعد میں حملہ آور بھارتی نژاد اور بھارتی پاسپورٹ ہولڈر نکلا۔