جون 9, 2026

اڈیالہ جیل کے باہر مستقل احتجاج کی صورت میں عمران خان کی جیل منتقلی پر غور ہوسکتا ہے، رانا ثنا اللہ

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف اڈیالہ جیل کے باہر مستقل بنیادوں پر احتجاج کا سلسلہ جاری رکھتی ہے تو حکومت عمران خان کی جیل منتقلی کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر سکتی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے بطور جماعت اور عمران خان نے بطور رہنما اداروں پر براہِ راست تنقید کی ہے، جو عوام اور ریاستی اداروں کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ “بھارت ہمارا دشمن ملک ہے، لیکن عمران خان نے پراپیگنڈے میں اس کا ساتھ دیا۔”

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ پی ٹی آئی سے بات چیت کا کوئی طریقہ کار نہیں اپنایا جاسکتا کیونکہ ماضی میں ہر کوشش عمران خان کے اپنے بیانات کے باعث ڈیڈلاک کا شکار ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ اڈیالہ جیل کے قریب امن و امان کی صورتحال خراب نہ کرے، اور اگر ہر منگل اور جمعرات کو مستقل احتجاج معمول بن گیا تو حکومت عمران خان کی جیل منتقلی پر غور کرے گی۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی اور عمران خان 9 مئی کے واقعات اور اپنے اشتعال انگیز بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کریں اور معذرت پیش کریں، تو شاید مذاکرات کا راستہ کھل سکتا ہے۔
ان کے مطابق اگر عمران خان اپنی سابقہ پوزیشن پر قائم رہتے ہیں تو ڈیڈلاک برقرار رہے گا۔

اس موقع پر انہوں نے بلاول بھٹو کے مؤقف کی بھی تعریف کی اور کہا کہ بلاول کی سیاست ہمیشہ جمہوری اصولوں اور افہام و تفہیم پر مبنی رہی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر بھی کہہ چکے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کو باہمی بات چیت کرنی چاہیے۔