جون 9, 2026

اقوام متحدہ میں پاکستان کا سخت مؤقف ، افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے سب سے سنگین خطرہ

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کو پاکستان کی قومی سلامتی کیلئے سب سے سنگین خطرہ قرار دے دیا۔
سکیورٹی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان ایک بار پھر متعدد دہشت گرد گروہوں اور ان کے پراکسی عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔

پاکستانی مندوب کے مطابق افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے تباہ کن نتائج اس کے ہمسایہ ممالک، خصوصاً پاکستان، کے لیے شدید سکیورٹی چیلنج بن چکے ہیں اور اس کے اثرات خطے سے باہر تک پہنچ رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ داعش خراسان، القاعدہ، ٹی ٹی پی، ای ٹی آئی ایم، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ سمیت متعدد تنظیمیں افغان سرزمین پر موجود محفوظ ٹھکانوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ افغانستان میں درجنوں دہشت گرد کیمپ سرحد پار حملوں، دراندازی اور خودکش کارروائیوں کو ممکن بنا رہے ہیں۔

عاصم افتخار نے کہا کہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے تقریباً 6 ہزار جنگجو افغانستان میں موجود ہیں جبکہ طالبان کی صفوں میں کچھ عناصر ان کی براہ راست حمایت بھی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہوں کے درمیان باہمی تعاون، مشترکہ تربیت، اسلحے کی غیر قانونی تجارت اور پاکستان کے خلاف مربوط حملوں کے شواہد بھی موجود ہیں۔

پاکستانی مندوب نے بھارت کا نام لیے بغیر کہا کہ ایک بدخواہ اور موقع پرست ملک پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کی مالی، تکنیکی اور مادی سرپرستی میں مزید تیزی لارہا ہے۔

انہوں نے خطے میں غیر قانونی تجارت اور ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عالمی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

سفیر عاصم افتخار نے واضح کیا کہ طالبان کو اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس، قابل تصدیق اور مؤثر کارروائیاں کرنا ہوں گی، بصورت دیگر پاکستان اپنے شہریوں اور اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جنگ ختم ہوچکی ہے، اب افغان شہریوں کو باوقار، مرحلہ وار اور منظم طریقے سے اپنے وطن واپس لوٹنا چاہیے۔