پنڈ دادنخان (صفر علی خان)کندوال واٹر سپلائی با اثر لوگوں کے حوالے کرنے کی کوششیں تیز قصبہ کندوال کو پانی فراہم کرنے والی کندوال واٹر سپلائی سکیم کو پرائیویٹائز کرنے سے علاقہ کے ہزاروں لوگوں کو پانی کی دستیابی میں شدید مشکلات کے سامنے کاخدشہ۔۔۔۔ نوید عمر ریحان۔محمد انار۔۔سپارس خان۔شفیع محمد۔محمد یاروغیرہ سمیت اہل علاقہ کی کثیر تعداد نے ڈپٹی کمشنر جہلم اور اسٹنٹ کمشنر پنڈادنخان کو پیشِ کی جانے والی درخواست میں مطالبہ کیا ہے کہ قصبہ کو اس وقت ڈسٹرکٹ ریگولیٹری اتھارٹی /پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے زیر کنٹرول پانی فراہم کیا جا رہا ہے جس میں کوئی سیاسی مداخلت نہ ہے اور اب سیاسی مداخلت کر کے پانی کی فراہمی کو پرائیویٹ اشخاص کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس سے گاؤں میں آئے روز لڑائی جھگڑے کے خدشہ کے ساتھ محکمہ کو ریونیو کی مد میں بھی لاکھوں کے نقصان کا اندیشہ ہے اہلیان علاقہ کے مطابق کندوال میں لوگوں کی کافی دشمنیاں ہیں 2 سال قبل بھی یہی پرائیویٹ لوگ واٹر سپلائی سکیم چلا رہے تھے جن کے خلاف ہونے والی شکایات پر محکمہ نے سکیم کو اپنے کنٹرول میں لیتے ہوئے عوام کو پانی کی فراہمی خود شروع کی تھی مگر دوبارہ سیاسی مداخلت پر محکمہ سیکم کو دوبارہ پرائیویٹایز کرکے انہی لوگوں کے حوالے کی جا رہی ہیں اگر پانی کمیٹی کا کوئی پرائیویٹ چیرمین بنا تو یہ اپنے سیاسی مخالفین کو پانی جیسی نعمت سے محروم رکھے گا۔۔اہلیان علاقہ نیڈپٹی کمشنر جہلم اور اسسٹنٹ کمشنر پنڈ دادنخان سے مطالبہ کیا ہے کہ سکیم کو سرکاری کنٹرول میں رکھتے ہوئے عوام کو پانی کی فراہمی جاری رکھی جائے تاکہ کسی قسم کے لڑائی جھگڑا کا اندیشہ نہ رہے اور پانی بلا تفریق لوگوں کو مہیا ہوتا رہے۔لیکن افسران بالا اس بات کو مدنظر نہ رکھتے ہوئے کمیٹی پرائیویٹ کرنے کے درپے ہے۔جس کا بعد میں کچھ بھی رزلٹ نکل سکتا ہے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ واٹر یوزر کمیٹی سیاسی اثرو رسوخ والے لوگوں کے حوالے کرنے سے مقامی لوگوں کوسیاسی انتقام کا نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے





