ستمبر 13, 2026

دستر خوان یا ذلالت کے نشان

تحریر : ڈاکٹر انصر فاروق مغل


قارئین آپ روازنہ دیکھتے اور پڑھتے ہوں گے کہ مختلف شہروں میں غریب لوگوں کو فری کھانا مہیا کرنے کے دستر خوان لگائے جاتے ہیں۔ جس زیادہ تر مزدور اور محنت کش طبقہ کھانا کھاتا ہے۔ اور بعض اوقات کچھ سفید پوش بھی شامل ہوتے ہیں۔یہ ایک نہایت ہی اچھا عمل ہے۔ جو مخیر حضرات اور مختلف این جی اوز اور اداروں نے شروع کر رکھا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کام سب نے خالصتاً اللہ کریم کی رضا اور خوشنودی کی خاطر شروع کر رکھے ہیں۔ اور کچھ ایسے بھی ہوں گے جنہوں نے دیکھا دیکھی شروع کیا ہوگا۔ بہر حال یہ میرا موضوع نہیں ہے۔ کیونکہ دل کے بھید اللہ کریم کی ذات بخوبی جانتی ہے۔ جو بات میں نے محسوس کی یا جس کو دیکھ کر مجھے سخت دکھ اور تکلیف ہوتی ہے۔ وہ ہے اس کی تشہیر کا طریقہ کار۔ کیونک جو باپ۔ بھائی یا خاندان کا کفیل گھر سے روزی کمانے کے لئے نکلتا ہے۔ اس کے گھر والوں کو اس کے روزی کمانے کے حالات کا علم نہیں ہوتا۔

اور اگر کوئی روات کو اپنے گھر والوں کے لئے کھانا لے کر جاتا ہے۔ تو اس کے گھر والوں کو اس بات کا بھی علم نہیں ہوتا کہ یہ کھاناوہ کہاں سے کیسے لایا ہے۔ اور دن بھر اس نے کچھ کھایا ہے نہیں۔ ممکن ہے کئی کفیل ایسے بھی ہوں جن کو سارا دن مزدوری نہ ملی ہو اور وہ رات کو گھر والوں کیلئے کھانے کو کچھ نہ لے کر گیا ہو۔ جو اس اتنظار میں تھے کہ ان کا کفیل آئے اور وہ ایک وقت کا کھانا کاکھائیں گے۔ جب وہ آپ کی طرف سے تشہیر کی کئی کسی گھر کے کفیل کی تصویر دیکھیں گے تو ان کو پتہ چلے گا یہ تو شہر میں لگے مفت دسترخوان سے کھانا کھا کر یا لے کر آیا ہے۔ اور ان کے رشتہ داروں کو۔ محلہ داروں کو جب یہ ساری کہانی نظر آئے گی تو ان پر کیا بیتے گی۔ اور اس گھر کے کفیل کی عزت گھر والوں اور رشتہ داروں میں کیا رہ جائے گی۔ اور آپ جو کام اللہ کریم کی رضا اور خوشنودی کے لئے کر رہے تھے۔ وہ کسی کے دکھوں اور پریشانیوں میں کم کرنے کا سبب بننے کی بجائے۔ گھر والوں۔ رشتہ داروں میں ندامت اور شرمندگی کا باعث بنا اور اس وجہ سے آپ کا سارا اجر گارت ہوگیا۔ مانا کہ آپ مخیر حضرات کو اس طرف راغب کرنے کے لئے تشہیر لازمی ٹھہری لیکن حضور والا شان نیکی وہ بھی معتبر ہوتی ہے جو کسی کو بتائے اور دکھائے بغیر کی جائے۔ جس کا علم کرنے والے اور جس کی رضا کی خاطر کی جائے اس کو ہو۔ کیونکہ اللہ کریم ہمارے دلوں کے تمام پوشیدہ رازوں کو جانتا ہے۔بہرحال اگر دکھاوا بھی مقصود ہوتو کسی غریب کی تذلیل نہ کریں۔