جون 9, 2026

فرانس کے مسلمان ایتھلیٹ پرانی ٹوئٹس پرمعطل

پیرس: اولمپکس میں 400 میٹر دوڑ میں حصہ لینے والے فرانس کے مسلمان ایتھلیٹ محمد عبداللہ کونٹا کو ماضی میں کی گئیں ٹوئٹس کی بنیاد پر معطل کردیا گیا۔غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق فرانس کے وزیرکھیل امیلی اوئیڈیا کاسٹیرا نے بتایا کہ پیرس اولمپکس میں 400 میٹر دوڑ کے مقابلے میں حصہ لینے والے فرانسیسی ایتھلیٹ محمد عبداللہ کونٹا کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر نفرت انگیزی پر مشتمل بیان کے الزام میں فرنچ ایتھلیٹکس فیڈریشن نے معطل کردیا ہے۔امیلی اوئیڈیا کاسٹیرا نے ایکس پر بیان میں کہا کہ فرنچ ایتھلیٹکس فیڈریشن کے صدر نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایتھلیٹ محمد عبداللہ کونٹا کو معطل کردیا ہے اور معاملہ پبلک پراسیکیوٹر اور فیڈریشن کی ڈسپلنری کمیٹی دونوں کو بھیجوا دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق محمد عبداللہ کونٹا کی جانب سے 2021 سے 2024 تک کی گئیں ٹوئٹس نمایاں کی گئی تھیں اور دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے اسرائیل کے خلاف بیانات دیے تھے۔ٹوئٹس کی نشان دہی کے بعد محمد عبداللہ کونٹا نے سوشل میڈیا پر فرانس کے پرچم میں لپٹی اپنی تصویر جاری کی تھی اور بیان میں کہا تھا کہ اگر ان کے عمل سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معذرت خواہ ہوں۔محمد عبداللہ کونٹا نے لکھا تھا کہ میں نسل کشی، ہر قسم کی نسل پرستی یا ناانصافی کے خلاف ہوں اور میں نہیں سمجھتا کہ مجھے یہ ثابت کرنے کی ضرورت ہے کہ میں اپنے ملک سے کتنی محبت کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ اسٹیٹ ڈی فرانس (جہاں ایتھلیٹکیس کے مقابلے منعقد ہوئے) میں موجود تھے وہ حقائق کی تصدیق کرسکتے ہیں۔پیرس اولمپکس کو رواں برس کا کامیاب ایونٹ تصور کیا جا رہا ہے اور دنیا بھر میں اس کی توثیق کی جا رہی اور اس سے فرانس کے لیے قومی سطح پر فخر قرار دیا گیا۔