جولائی 12, 2026

کورٹ مارشل اور سول کورٹ

کالمکار: جاوید صدیقی

آج کا کالم بہت اہم ریاست کے نقاط پر محیط ھے کیونکہ اسی ہی عمل سے رسول خدا ﷺ اور آپ کے متعبر اصحاب کرام نے نظام ریاست کو دنیا بھر میں نہ صرف پھیلایا بلکہ تاریخ کی تمام کتابوں اور ادوار میں سنہری حروف سے لکھا گیا۔ ہمارے دین محمدی ﷺ میں احتساب محاسبہ اور جانچ پڑتال کیساتھ ساتھ سزا و جزا پر سختی سے عملدرآمد کرایا جاتا تھا کیونکہ اللہ پاک کی مقدس کتاب میں رب العزت نے ہی سزا و جزا، احتسابی عمل، جانچ پڑتال اور حقائق کی نشاندہی کی جانب پابند کیا یہی وجہ ھے کہ صرف اسلام میں ہی سچ دیانتداری ایمانداری نیک نیتی اور ایثار و قربانی پر سختی سے جمے رہنے کا حکم بار ہا بار کیا تاکہ ان عوامل کی حیثیت و افادیت کو بخوبی سمجھ سکیں۔ معزز قارئین میرے کالم میں دو نظام کے احتسابی عمل کی جانب واضع حقائق نظر آئیں گے جن میں ایک سول سسٹم ھے جو عام عدالتوں اور احتسابی اداروں پر مشتمل جبکہ دوسرا سسٹم عسکری ھے جس میں عسکری انداز اپنایا جاتا ھے یہ سول نظام سے مکمل مختلف اور جدا ھے۔ گزشتہ دونوں سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ( ر ) فیض حمید کے کورٹ مارشل نے ایک نئی تاریخ رقم کی، ماضی میں بھی اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ سنہ انیس سو ستانوے میں نیوی کے سربراہ ایڈمرل منصورالحق کی غیر ملک سے دفاعی سامان کی خریداری میں ککس بیک پر گرفتاری ہوئی اور نیب کے ساتھ پلی بارگین کے بعد سترہ اپریل سنہ دو ہزار ایک کو انہیں رہا کردیا گیا۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی کا کورٹ مارشل ہوا، انہوں نے ایک کتاب لکھی تھی جس کے بعد ضابطہ فوجداری کی خلاف ورزی پر عمر قید کی سزا ہوئی جو بعد ازاں تبدیل کر دی گئی۔ بائیس فروری سنہ دو ہزار انیس کو دو سینیئر افسران کا کورٹ مارشل ہوا۔ لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کو جاسوسی کے الزام میں تین مئی سنہ دو ہزار انیس کو عمر قید کی سزا سنائی گئی اور تمام مراعات اور پنشن اور جائیداد ضبط کر لی گئی۔ بریگیڈیئر رضوان کا غیر ملکی اداروں کے ساتھ روابط پر کورٹ مارشل ہوا اور چودہ سال کی سزا سنائی گئی۔ میجر جنرل ظہیر الاسلام کے خلاف سیاچن میں ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی کی گئی اور انہیں تیس جولائی سنہ انیس سو پچانوے کو فوج سے برطرف کر کے تمام مراعات واپس لے لی گئیں۔ آرمی انجینیئر کرنل شاہد کا شمسی ایئربیس پر جاسوسی کے الزام میں کورٹ مارشل ہوا اور انہیں فوج سے نکال دیا گیا۔ میجر جنرل تجمل حسین کا کورٹ مارشل ہوا اور انہیں سنہ انیس سو پچانوے میں چودہ سال کی سزا ہوئی۔ بغاوت کیس میں بریگیڈیر مستنصر بلا اور چار افسران کا کورٹ مارشل ہوا، انہیں چودہ سال کی سزا ہوئی اور تمام مراعات اور پنشن ضبط کر لی گئی۔ حال ہی میں سابق کور کمانڈر ایمن بلال پر سیاسی الزامات لگے لیکن ان کو جبری ریٹائرڈ کردیا گیا، اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی ہوئی۔ اس کے بعد حال ہی میں فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے الزام میں سابق لیفٹیننٹ کرنل اکبر حسین، میجر( ر) عادل راجہ اور حیدر مہدی کا کورٹ مارشل ہوا اور انہیں چودہ سال کی سزا سنائی گئی، اور پاکستان میں انکی تمام جائیداد ضبط کرلی گئی۔ اسی طرح نو مئی کے واقعے میں غفلت برتنے پر تقریباً پندرہ افسران کے خلاف کارروائی ہوئی جس میں سابق کور کمانڈر لاہور، دو میجر جنرل، پانچ بریگیڈیئر اور کرنل، میجر بھی شامل تھے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ھے کہ فوج ایک ڈسپلنڈ اور منظم ادارہ ہے اور ہمیشہ اپنے اندر سخت احتساب کے میکنزم کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اسکی مثال ماضی میں ہمیں بارہا ملتی رہی ہے۔ ماضی قریب میں نو مئی کے واقعات کے بعد بھی پوری قوم نے دیکھا کے کیسے فوج کا یہ اِحتساب کا کڑا عمل حرکت میں آیا اور انتہائی سرعت کے ساتھ چند ہی دنوں میں متعلقہ اور ذمہ دار لوگوں کو سزائیں سنا دی گئیں۔ اسی طرح پہلے بھی کئی سینئر افسران کو آرمی رولز اور کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں دی جا چکی ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف قانونی چارہ جوئی اِسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا بلکہ فوج اپنے کڑے احتسابی عمل کو کئی بار عملی جامہ پہلے بھی پہنا چکی ہے۔ فوج نے ایک بار پھر واضح طور پر ثابت کر دیا ہے کہ کوئی بھی شخص چاہے وہ کتنے ہی اونچے عہدے پر کیوں نا ہو، قانون سے بالا تر نہیں اور دوسری بات یہ کہ پاک فوج کا احتسابی عمل بہت شفاف اور کڑا ہے جو فوری حرکت میں آ کر حقائق اور ثبوتوں کی روشنی میں، معاملات کو قانون کے مطابق سختی کے ساتھ نپٹاتا ہے۔ اس سلسلے میں ڈی جی آئی ایس پی آر سات مئی کی پریس کانفرنس میں فوج کے اس کڑے احتسابی عمل کو واضح طور پر بیان کر چکے ہیں۔۔۔۔معزز قارئین!! افواج پاکستان کو سزا و جزا کا عمل قرآن و سنت کے مطابق ڈھالا گیا ھے کہ کالے کو گورے پر نہ گورے کو کالے پر فوقیت حاصل ھے اگر ہے تو وہ تقویٰ اور پرہیزگاری پر۔ یہی سبب ھے کہ افواج پاکستان میں کسی بھی جرم میں مرتب پائے جانے والے سولجر ہوں یا جنرل کسی طور منفرد اور مختلف نہیں سب کیساتھ یکساں احتساب اور پیشی ہوتی ھے جسے کورٹ مارشل کہتے ہیں جو کورٹ مارشل کرتے ہیں اس کمیٹی میں کئی افسران کی شمولیت کیساتھ ہر زاویہ تحقیق اور جانچ پڑتال کے بعد مکمل ثبوت اور اطمینان کے بعد فیصلہ صادر کیا جاتا اس یہ کمیٹی چند دنوں یا چند ہفتوں میں ہی کسی نتیجہ پر پہنچ جاکر فیصلہ کردیتی ھے۔ ہماری افواج پاکستان عزت و مقام و مرتبہ خلوص سچائی ایمانداری دیانتداری لگن محنت جفاکشی ذہانت پر محیط ھے۔ یہی وجہ ھے کہ ہماری افواج ایک مکمل پروفیشنل ہونے کیساتھ ساتھ دنیا کی بہترین افواج میں شمار کی جاتی ھے دنیا کی سپر پاور ممالک پاک افواج کو قدر و منزل کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور دشمن ممالک ہماری افواج کی بہادری سے خوفزدہ بھی رہتے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ھے کہ سول سوسائٹی کا کوئی بھی ادارہ شعبہ طبقہ پروفیشل ازم سے نابلد ھے یا پھر یہ پروفیشنل ازم کو اختیار ہی نہیں کرنا چاہتے یہی وجہ ھے کہ ان ڈسلپن اور عدم توازن اور ناانصافی و ظلم و بربریت کا دور دورہ ہر سو چھایا نظر آتا ھے ہمیں پاک فوج کی طرح صاف و شفاف اور منظم ہر سول ادارے کو بنانا چاہئے تاکہ پاکستان آگے بڑھے اور خوشحالی و امن و سکون میسر آسکے آمین اسکے لئے من حیث القوم ہر شخص کو آئین و دستور قانون و قوائد کے ضابطوں میں رہنا ہوگا تاکہ قانون کی بالاستی اور ریاست کی رٹ قائم رہ سکے جیسے دیگر دنیا بھر کے ممالک میں ھے ۔۔۔۔۔!!