جولائی 17, 2026

لاہور ہائیکورٹ کی مداخلت پر نیپرا کا صارفین کو اضافی رقم واپس کرنے کا حکم

سرائے عالمگیر (ڈاکٹر تصور حسین مرزا) لاہور ہائیکورٹ کی مداخلت پرملک بھر کےبجلی صارفین کیلئےسب سے بڑی خوشخبری آگئی ،نیپرا حکام نے پروریٹا بلوں کیخلاف اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی درخواست پر کاروائی کرتے ہوئے فیصلہ سنادیا۔نیپرانے ڈیسکوز کو پروریٹا بل جاری کرنے سے روک دیا۔نیپرا نے اصل یونٹس کےمطابق صارفین کوبجلی بل بھجوانے کاحکم دےدیا۔نیپرا نےپروریٹا بنیادپراپریل سے جون 2024 تک اصل بل کےعلاوہ تمام یونٹس صارفین کوواپس کرنے کاحکم دےدیا۔پروریٹاکی بنیاد پر جاری ہونیوالے بل تاخیر سے جمع کرانے والوں کی اضافی رقم بھی واپس کرنے کاحکم۔ لیٹ پیمنٹ وصولی کی رقم تیس یوم میں واپس کی جائے۔نیپرا کافیصلہ۔ نیپرا نے ڈیسکوز کوواپس کردہ رقم بجلی بلوں میں دوبارہ وصول کرنے سے بھی روک دیا۔نیپرا نے تمام ڈیسکوز کو خراب میٹر فوری تبدیل کرنے کا بھی حکم دے دیا۔تمام ڈیسکوز کو صارفین مینوئل کےمطابق بل بھجوانے کاحکم ،ڈیسکوز کودرست میٹر، ریڈنگ کرنے،میٹرکی تصاویربلوں پرواضع کرنے کی ہدایت،نیپراکی ڈیسکوز کو بلوں کی بروقت درستگی کابھی حکم ۔نیپرا کا حکم نامہ سات صفحات پر مشتمل ہے، حکمنامہ پرفوری عملدرآمد کرنے کاحکم دیتے ہوئے تیس یوم میں رپورٹ طلب کر لی ۔حکم عدولی پر ذمہ دار افسروں کےخلاف قانون کےمطابق سخت کاروائی کی جائے گی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس رسال حسن سید نےپروریٹا بلوں کےخلاف اظہر صدیق کی درخواست نیپراکوبھجوائی تھی ۔عدالت نے نیپراکو درخواست کا فیصلہ جلد کرنے کاحکم دیاتھا۔اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی ۔پروریٹا بلنگ آئین کےتحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔موقف ،پروریٹا بلنگ سے لاکھوں صارفین کو پروٹیکٹڈ کیٹگری سے زبردستی باہر نکالا گیا۔ پروریٹابلنگ کی وجہ سے درجنوں شہریوں نے خودسوزی کی۔عدالت پروریٹا بنیادوں پرجاری بلنگ کےعمل کو کالعدم قرار دے