ستمبر 12, 2026

ماڈل بازار انتظامیہ نے وزیراعلی اور چیف سیکرٹری کے احکامات ہوا میں اڑا دیے ، ایک ماہ گزر جانے کے بعد بھی ماڈل بازار گجرات میں مبینہ کرپشن اور بدعنوانیوں کی انکوائری نہ ہو سکی

گجرات (نامہ نگار) ماڈل بازارز پنجاب کی انتظامیہ نے وزیراعلی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کے احکامات ہوا میں اڑا دیے ایک ماہ گزر جانے کے بعد بھی ماڈل بازار گجرات میں مبینہ کرپشن اور بدعنوانیوں کی انکوائری نہ ہو سکی تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی بانی و مرکزی صدر پاک انٹرنیشنل میڈیا الائنس (رجسٹرڈ) سید حفیظ سبزواری نے 05 اور 15 جولائی کو ماڈل بازار گجرات میں ہونے والی مبینہ کرپشن پر مینجر سعید احمد اور سپروائز راحیل انور کو معطل کرکے قانون کے مطابق صاف اور شفاف انکوائری کے لیے اعلی حکام کو تحریری شکایات کیں 12جولائی 2024ء کو چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان نے نوٹس لے کر انکوائری کا حکم دیا جبکہ 19 جولائی کو وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے نوٹس لیا اور تحریری لیٹرز جاری کیے گئے مگر تقریبا ایک ماہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی تادم تحریر انکوائری نہ ہو سکی جس پر سید حفیظ سبزواری نے دوبارہ وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز اور چیف سیکرٹری پنجاب محترم زاہد اختر زمان کو ذاتی لیٹرز تحریر کر دیے ہیں جن میں تحریر کیا گیا ہے کہ انہیں قوی شک ہے کہ ماڈل بازار گجرات کی انکوائری نہ کرنے میں پنجاب ماڈل بازارز مینجمنٹ کمپنی کی انتظامیہ براہ راست ملوث ہے جس کی وجہ سے انکوائری نہیں کی جا رہی لہذا اب ضروری ہو گیا ہے کہ وزیراعلی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو کہ موقع پر پہنچ کر ماڈل بازار گجرات میں مبینہ کرپشن کی انکوائری کریں انکوائری سے قبل مینجر سعید احمد اور سپروائزر راحیل انور کو معطل کرکے تبادلے کیے جائیں کیوں کہ یہ دونوں گجرات کے مقامی ہیں اور انہوں نے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے انکوائری ماڈل بازار گجرات کے علاوہ کسی اور جگہ پر منظور نہ ہوگی کیونکہ کرپشن کے تمام ثبوت ماڈل بازار گجرات میں موجود ہیں