تحریر:راجہ شہزاد۔ احمد۔ (کھاریاں )
پنوں عاقل چھاؤنی( ضلع سکھر )بنی تو حسب معمول پہلے سندھی وڈیروں اور ڈاکوؤں کے پشت پناہوں نے شور کیا کہ یہ سندھیوں کو غلام بنانے کے لیے ہے ان کھوتی کے بچوں کو اتنی سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ پاک فوج ہے جو پنوں عاقل میں اس لیے چھاؤنی بنا رہی ہے کہ آپریشن براس ٹیک کے دوران انڈین جنرل سندر جی نے نیو پلاننگ کی تھی کہ آئندہ پاکستان پر حملہ لاہور ، سیالکوٹ ، قصور اور کشمیر بارڈر کی بجائے حیدرآباد اور سکھر پر کرنا چاہیے تا کہ کراچی پر قبضہ کر کے پاکستان کا سمندری رابطہ دنیا سے منقطع کر دیا جائے اس سے پہلے 1965 اور1971 میں لاہور ، سیالکوٹ اور قصور سیکٹر پر حملہ کر کے بھارت منہ کی کھا چکا تھا ۔۔
۔پاک فوج نے جوابی پروگرام بنایا کہ ہنوں عاقل میں چھاؤنی بنائ جائے تا کہ دوران جنگ ، ٹروپس کو ملتا ن سے سندھ منتقل کرتے دیر نہ ہو
سندھی وڈیروں نے بک بک شروع کردی کہ یہ پنجابی فوج ہے وہ بھول گئے کہ سندھی پنجابی کی چورن فوج میں نہیں بکتی ، اب وڈیرے اس علاقے میں سکول ، کالج ، ڈسپنسری کچھ بھی نہیں بننے دیتے تھے انہیں علم تھا کہ چھاؤنی بننے سے علاقہ یک دم ترقی کرے گا اور بیس سال بعد نئ نسل وڈیروں کے ہاتھ سے نکل جائے گی
ادھر چھاؤنی بننی تھی دفاتر ، بیرکیں ، سٹورز ،شاپس ، شیڈز ، اسلحہ خانے ، سی ایم ایچ ، ائیر پورٹ ، سکول ، کالجز ، سڑکیں غرض پورا شہر بننا تھا یہ اندازہ لگایا گیا کہ کم از کم بیس کروڑ اینٹیں استعمال ہوں گی آ س پاس سندھی وڈیروں کے کئ بھٹے تھے ان سے اینٹیں مانگی گیئں تو انہوں نے اینٹ کے ریٹ میں یک دم اضافہ کر دیا ۔
پاک فوج کی متعلقہ انجینرنگ برانچ نے مشورہ دیا کہ کسی بھٹے والے کو آرڈر دینے کی بجائے اپنا بھٹہ لگا لیا جائے تا کہ سستی اینٹیں ملیں اور بروقت ملیں اس مشورے کو قبول کر لیا گیا اور FWO نے بھٹہ لگایا بھٹہ لگانے کے بعد بھٹہ مزدوروں اور کاریگروں کی ضرورت پڑی تو اخبار میں اشتہار دے کر مزدور بھرتی کیے گئے تین شفٹوں میں کام شروع ہوا اس سے پہلے مزدوروں کا استحصال ہوتا تھا اور ان سے جبری مشقت لی جاتی تھی تھوڑا قرض دے کر مالکان مزدوروں (مسلم شیخ برادری )کے بیوی بچوں کو بھی غلام بنا لیتے تھے لیکن اس سرکاری بھٹے میں مزدوروں کو شناختی کارڈ جاری کیے گئے ، ان سے صرف آٹھ گھنٹے کام لیا جاتا ، ہر جمعرات کو مزدوری دی جاتی ، جمعہ کی چھٹی ہوتی جبکہ پیسے پورے ہفتے کے ملتے ، درمیان میں ریسٹ بھی ہوتی ، رہائشی احاطہ بنایا گیا جہاں مزدوروں کے رہائشی کوارٹر بنا دیے گئے بجلی آ گئ اور حفاظت کے لیے مسلح فوجی جوان اٹھ اٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی دیتے روٹی ، دوران کار ، مفت ملتی، چار بجے چائے مفت ملتی ، ڈسپنسری بھی بن گئ اور FWO کے سپر وائیزر بھٹہ مزدوروں کو انسانوں کی طرح بلاتے ، اتنی سہولیات ملیں تو مزدوروں نے دل لگا کر کام کیا پورے سندھ میں شور مچ گیا کہ بھٹہ مزدوروں کو انسان سمجھا جا رہا ہے مزدوروں نے سندھی وڈیروں کے بھٹوں کو چھوڑ چھوڑ کر سرکاری بھٹے کا رخ کر لیا۔ وڈیروں کی دم پر پاؤں ا گیا ان کے بھٹے بند ہونے لگے
وڈیرے اکٹھے ہوئے اور انہوں نے سائٹ انچارج سے کہا کہ وہ سرکاری بھٹہ بند کر دیں ان کو سستی اور بروقت اینٹوں کی سپلائ ہو گی انہوں نے موقف اپنایا کہ سرکاری بھٹے نے مزدوروں کا دماغ خراب کر دیا ہے۔ ان کو جوتے کی نوک کے نیچے رکھنا چاہیے لیکن یہاں مزدوروں کو کرسی پر بٹھا کر ہر جمعرات کو ، ہنسی مزاح کے ماحول میں مزدوری دی جاتی ہے ؟؟؟ ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے اور یہ بچوں کو سکولوں میں بھیج رہے ہیں ؟کیوں ؟
وڈیروں کوبتایا گیا کہ سرکاری بھٹہ لگ چکا ہے یہ واپس نہیں ہو سکتا۔ تین شفٹوں میں کام ہوا اور بروقت پایہ تکمیل تک پہنچا دس سالوں میں جنگل میں منگل بن گیا
۔۔۔اج ہنوں عاقل میں زبردست چھاؤنی بن چکی ہے جو کھاریاں چھاؤنی کی ٹکر کی ہے وہاں تعلیمی ادارے بن چکے ہیں اور بے شمار بھٹہ مزدوروں کےلڑکے ، لڑکیاں اعلی تعلیم کے بعد سندھ میں جابز کر رہے ہیں
جب بھی فوج کوئ اس طرح کا پراجیکٹ بناتی ہے شور کیا جاتا ہے حالانکہ دنیا بھر کی فوجیں اپنے پراجیکٹس کے لیے مختلف کاروباری منصوبہ جات شروع کرتی ہیں پاک فوج کے تمام منصوبے بھی منافعے میں ہیں اور لاکھوں سول بھائیوں کو روزگار دے رہے ہیں یہی بات ان جاگیرداروں ، وڈیروں کو پسند نہیں ہے اس لیے وہ ٹر ٹر کرتے ہیں کوئ پوچھے کہ فوج کے زیر اہتمام اگر کوئ منصوبہ کامیابی سے چل رہا ہے اور اس کا منافع فوجی فاؤنڈیشن کے تحت کئ ویلفیر کے کاموں میں استعمال ہو رہا ہے، شہداء اور معذوروں کو وظائف ملتے ہیں تو تمہیں کیا تکلیف ہے ؟
ان کے پاس کوئ جواب نہیں ہوتا لیکن چونکہ ان کے مہاتما بدھ نے اشارہ کر دیا ہوتا ہے کہ فوج کو گالی دو لہذا یہ گالی بریگیڈ بھونکنے لگتا ہے ان کی زہںنیت اور مائنڈ سیٹ بھی جاگیرداروں وڈیروں کی مانند ہے یہ ملک وقوم کے مجموعی فائدے کو پہچان نہیں سکتے





